Musafah Aik Haath Se Ya Dono Hathon Say

مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے ؟

ہمارے ہاں رواج ہے کہ لوگ ملاقات کے وقت دو ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ہمیں ایک دوست نے بتایا کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا چاہئے یہی سنت ہے ۔لہٰذا آپ ہماری کتاب وسنت کی رو سے راہنمائی کریں ۔

musafah aik haath se ya dono hathon say

﴿مُبشر احمد‘ رَبّاَنی﴾
ہمارے ہاں رواج ہے کہ لوگ ملاقات کے وقت دو ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ہمیں ایک دوست نے بتایا کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا چاہئے یہی سنت ہے ۔لہٰذا آپ ہماری کتاب وسنت کی رو سے راہنمائی کریں ۔
ایک مُسلمان جب دوسرے مُسلمان سے ملاقات کرے تو ان دونوں کو آپس میں دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہئے اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔

حدیث میں ہے:
”براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں ‘مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے قبل ان کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔“
لہٰذا جو عمل اتنی اہمیت کا حامل ہو اور اتنے فضائل والا ہو‘اس کو صحیح سنت کے مطابق ادا کریں گے تو یہ اجر ملے گا۔

اگر خلاف سنت عمل کریں گے تو اجر برباد ہو گا۔

مصافحہ کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ ایک مُسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرتے وقت دائیں ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا یہی معمول تھا ۔اس ضمن میں بہت سی احادیث ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں ۔
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ملاقات کی اور میں ا جنبی تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (ایک نسخہ میں ہے کہ میرا دایاں ہاتھ پکڑا )پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے پس میں کھسک گیا“۔
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حا لتِ جنابت میں ملاقات کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں ا جنبی ہوں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (سبحان اللہ )مسلم نجس نہیں ہوتا“۔
یہ حدیث ایک ہاتھ کے مصافحہ پر نص قطعی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کے وقت مصافحہ کے لیے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور صحابی رسول سیّد نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ایک ہاتھ جو مصافحہ کے لیے بڑھانا تھا پیچھے کھینچا اور عذر پیش کیا کہ میں اجنبی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ مسلم نجس نہیں ہوتا۔

”عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ میری اس ہتھیلی کو دیکھتے ہو میں نے اس ہتھیلی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا ہے “۔
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے ۔کیا اس کے لیے جھکے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! نہیں ۔
اُ س نے کہا ‘کیا اس سے چمٹ جائے ؟اور اس کو بوسہ دے ؟فرمایا نہیں پھر اُس نے کہا‘کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اورمصافحہ کرے ؟فرمایا ! ہاں ۔امام ترمذی نے فرمایا ‘یہ حدیث حسن ہے “۔
علامہ البانی نے متعدد طرق کی بنا پر اس حدیث کو سلسلة الاحادیث الصحیحہ ۱/۸۸ پر درج کیا ہے ۔تا ہم اس حدیث سے معانقے کی ممانعت نہیں نکلتی جو کہ چھٹ کر ملنے سے مختلف ہے ۔

”انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مُسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان کی دعاؤں میں موجود رہے اور ان کے ہاتھ علیحدہ ہونے سے پہلے ان کو بخش دے۔“
مذکورہ بالا پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ مصافحہ ایک ہاتھ کے ساتھ کرنا سنت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی تعلیم دیتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسی سنت پر عامل تھے ۔
ویسے مصافحہ کے معنی میں بھی یہ بات شامل ہے کہ ہتھیلی کے ساتھ ملایا جائے جیسا کہ امام بن اثیر جزری النہایہ فی غریب الحدیث والا ثرص ۳/۴۳پر رقم طراز ہیں :
”صفح لفظ سے ملاقات کے بعد مصافحہ کی حدیث بھی ہے مصافحہ باب مفاعلہ سے بطن ہتھیلی سے ملانا ہے
“۔
مصافحہ کا یہی معنی لغت کی کتب قاموس تاج العروس وغیرہ میں منقول ہے ۔
لہٰذا مصافحہ کی جو تعریف ہے وہ بھی اہل حدیث کے مصافحہ پر پوری طرح صادق آتی ہے اور جو مصافحہ احناف کے ہاں رائج ہے ‘اس پر یہ تعریف صادق نہیں آتی ۔بعض لوگ دونوں ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کرنے کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا کہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں تھا “۔

۱) اس حدیث کا ملاقات کے وقت مصافحہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھا رہے تھے اور تعلیم کے وقت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں کے درمیان تھا۔اگر اس کو مصافحہ ملاقات پر محمول کریں تو اس کی صورت یہ بنے گی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں میں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ تھا یعنی تین ہاتھ کا مصافحہ۔

جس طرح کسی اہل حدیث کا حنفی حضرات سے مصافحہ ہوتو حنفی کے دو ہاتھ ہوتے ہیں اور اہل حدیث کا ایک ہاتھ اور حنفی بھائی اس مصافحہ کو نا پسند کرتے ہیں ۔ان مقلدین بھائیوں پر سخت تعجب ہے کہ جو مصافحہ یعنی چار ہاتھوں کا ثابت ہے وہ انہیں پسند نہیں اور جو مصافحہ یعنی چار ہاتھوں کا ثابت نہیں اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اس حدیث سے قطعاً یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے دو ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں سے ملے ہوئے تھے ۔

اگر بفرضِ محال ا س حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ دونوں طرف سے دونوں ہاتھوں کا مصافحہ ہے اور ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے قول اسم جنس سے ان کی دونوں ہتھیلیاں مراد لی جائیں تو اس صورت میں کا مطلب یہ ہو گا کہ میری دونوں ہتھیلیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھیں اور جو لوگ دو ہاتھ سے مصافہ کرتے ہیں‘ان کی یہ صورت نہیں ہوتی ۔
لہٰذا اس حدیث سے ان کا استدلال باطل ہے ۔
حنفی مذہب کے جید علماء کو یہ بات مسلم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں میں پکڑنا مزیدا ہتمام اور تعلیم کی تاکید کے لیے تھا۔حنفی مذہب کی فقہ کی مشہور داخل نصب کتاب ہدایہ ۱/۹۳کتاب الصلوة کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اس لیے تھاما تھا تا کہ ان کا دماغ حاضر رہے اور کوئی چیزان سے فوت نہ ہوجائے۔

علامہ زیلعی حنفی ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی ابنِ عباس رضی اللہ عنہ والے تشہد پر ترجیح ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ والے تشہد پر راجح ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اور میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھی اور یہ بات ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے تشہد میں نہیں ۔
اس نے مزید تو جہ اور اہتمام پر دلالت کی “۔
یہی بات ابنِ ہمام حنفی نے ہدایہ کی شرح فتح القدیر میں لکھی ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو پکڑنا علی سبیل المصافحہ نہیں تھا بلکہ مزید اہتمام وتاکید کے لیے تھا۔
مولوی عبدالحی لکھوی حنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ابنِ مسعود والی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے وہ مصافحہ جو ملاقات کے وقت کیا جا تا ہے ‘مراد نہیں ہے بلکہ یہ ہاتھ میں ہاتھ لینا ویسا ہے جیسا کہ بزرگ چھوٹوں کو کوئی چیز تعلیم کرنے کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لے لیتے ہیں “۔

اور کئی احادیث سے ہاتھ میں ہاتھ پکڑ کر تعلیم دینا ثابت ہے ۔ایک حدیث لکھی جاتی ہے:
”معاذبن جیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑکر کہا ‘اے معاذاللہ کی قسم میں تمہیں دوست رکھتا ہوں میں نے کہا‘اللہ کی قسم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘اے معاذ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑنا “۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کاہاتھ پکڑ کر اسے سمجھایاجائے تا کہ اس کا دھیان اور توجہ مسئلہ مذکورہ کی طرف ہو۔حنفی حضرات کی مزید تسلی کے لے ایک روایت درج کی جاتی ہے ۔علامہ جلال الدین خوارزمی حنفی ہدایہ کی شریہ کفایہ میں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ والی ا س حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث تا کید تعلیم پر محمول ہے ۔
اس لیے کہ محمد بن حسن شیبانی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور ابو یوسف نے کہا امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور امام ابو حنیفہ نے کہا حمادبن ابی سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔امام حماد کہتے ہیں علقمہ رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا ۔
علقمہ کہتے ہیں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔ ابنِ مسعود کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا“۔
مذکورہ بالا حنفی روایت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا دو ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کرنے سے تعلق نہیں بلکہ یہ طریقہ تعلیم پر محمول ہے جو کہ طالب علم کو مزید تاکید سے اہتمام وتوجہ دلانے کے لیے کیاجاتا ہے ۔
اب تو حنفی حضرات کو اس حدیث سے مروجہ مصافحہ پر
استدلال نہیں کرنا چاہئے بلکہ مذکورہ بالا صحیح احادیث کی رو سے دائیں ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہئے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا عمل ہے ۔

Your Thoughts and Comments