Pakistan

پاکستان

اللہ جل شانہ ‘ کاتحفہ اور محمد ﷺ کی جاگیر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لاہور میں حصول پاکستان کو نصب العین بنایا گیا

Pakistan
ابوالہا شم ربانی:
1885ء میں ، انگریزوں نے ہندوؤں پر نوازشات اور محبت بکھیرکر انہیں اس قدر بیدار کر دیا کہ باہمی گٹھ جوڑ کر کے انڈین کا نگریس قائم کر لی ۔ وائسرائے ڈفرن نے مسلمانوں کو تنہا کرنے کے لیے اونچ نیچ اور ذات پات کے فرق مٹا کر ہندوؤں ، سکھوں اور اچھوتوں سب کو انڈین کا نگریس کے پلیٹ فارم پر اسلام دشمنی کے لیے اکٹھا کر دیا ۔
اس دور میں مسلمان انتہائی کسمپرسی کے عالم میں تھے جن کے لیے نہ تو کوئی سیاسی پلیٹ فارم موجود تھا اور نہ ہی فرنگی وہند واستبداد کے لیے کوئی آواز اٹھانے والی شخصیت ۔ فرنگی اور ہندوانڈین کا نگریس کے ذریعے ایک ایسا جال پھینک چکے تھے جس سے مسلمان بھی سکھ اور اچھوتوں کی طرح اپنی شاخت مٹا کر کانگریس میں مٹی ہوجائیں اور اس طرح انگریزوں کے لائے ہوئے ایجنڈے پورے ہوجائیں ۔

1886ء میں سرسید احمد خان کی شکل میں ایک ستارہ نمودار ہوا جنہوں نے ” محمدن ایجوکیشنل کا نفرس “ کی بنیاد رکھی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے مسلمانوں کی تعلیم وتربیت اور سیاسی شعور کو پیدا کرنے کا اہم ترین کام شروع ہو ا۔بالاخر کانفرس کی محنت رنگ لائی اور مسلمانوں کی ایک جماعت کھڑی ہوگئی جنہوں نے 1906ء میں وائسرائے ہند منٹو کو یاداشت پیش کی کہ آئندہ مسلمان ہند کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔
اسی سال اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلم زعماء نے ڈھاکہ میں 6دسمبر 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر ہندوستان میں تہلکہ برپاکر دیا ۔ 1914ء کی جنگ کے اختتام پر مسٹرموہن داس اور چند گاندھی ہندوستان کی سیاست میں وار ہوئے ۔ اس دور میں محمد علی جناح نے مسلمانوں کی ملی وحدت اور جداگانہ حق کے لیے حمایت کا بھر پور اعلان کیا ۔ دہلی میں 1929ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قائد اعظم نے اپنے چودہ نکات بھی پیش کر دیے ۔
دسمبر 1930ء میں الٰہ آباد میں منعقدہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں علامہ اقبال نے اپنے خطبہ صدارت میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے ایک پمفلٹ ” Now or Never “ میں لفظ ” پاکستان “ پیش کر دیا ۔ 23مارچ 1940ء کومسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لاہور میں حصول پاکستان کو نصب العین بنایا گیا ۔ اس کے بعد ” پاکستان “ آل انڈیا مسلم لیگ کا سیاسی عقیدہ بن گیا ۔
1940ء تک بر صغیر کے کونے کونے قریہ قریہ نعرے بلند ہوئے بن کر رہے گا پاکستان ، بٹ کے رہے گا ہندوستان “ پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ اللہ محمد رسول اللہ “ مسلم لیگ کی پر خلوص اور پر عزم قیادت کے سامنے نہ کوئی نگی سازش ٹھہر سکی اور نہ ہی ہندوستان کی ریشہ دوانیاں ۔ ایک ہی جوش ، ایک ہی ولولہ ، ایک ہی نعرہ ایک ہی ارمان بن کے رہے گا پاکستان بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔
فرنگی اور ہندوقیادت مسلمانوں کے ارمانوں اور عزم بے کراں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے اور نیتجتاََ 14اگست 1947ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا الحمد اللہ علی ذالک ۔
قیام پاکستان کے ساتھ ہی ملک کے لیے بڑے بڑے اور اہم ترین مسائل میں ایک انتہائی اہم مسئلہ مسلم ریاستوں کا الحاق پاکستان تھا ۔ ہندوفرنگی نام نہاد گٹھ جوڑپوری طاقت کے ساتھ اس سازش کے لیے میدان میں اترا کہ کوئی مسلم ریاست کسی صورت پاکستان کے ساتھ الحاق نہ کر سکے ۔
اس مقصد کے حصول کے لیے کسی قسم کے سیاسی معاہدات کی پاسداری نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کی کوئی اخلاقی حیثیت تھی ۔ صرف اور صرف دہشت گردی اور سینہ زوری کرتے ہوئے اسلام دشمنی میں غرق یہ لوگ مسلم ریاستوں پر ٹوٹ پڑے ۔
برصغیر میں تقسیم کے وقت ریاستوں کی تعداد 562تھی جن میں 18ریاستیں مکمل اسلامی تھیں جبکہ 14ریاستیں تو پاکستان کے ساتھ متصل تھیں ۔
ریاست جونا گڑھ جو زراعت اور تجارت کے وسائل سے مالا مال ریاست تھی اس پر ہندواور فرنگی رال ٹپکارہے تھے اور ہر صورت اس پر قبضہ چاہتے تھے ۔ نواب آف جونا گڑھ پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر چکے تھے ۔ بلکہ دستاویزات پر دستخط کر کے حکومت پاکستان کو ارسال بھی کردیں جس پر قائداعظم محمد علی جناح نے بحیثیت گورنر جنرل دستخط کر کے منظور کر لیا۔

Your Thoughts and Comments