Professor Dr Sheikh Wahba Al Zehli Inteqal Kar Gaye

عالم اسلام کی عظیم علمی اور فکری شخصیت پروفیسر ڈاکٹر شیخ وھبہ الزحیلی انتقال کر گئے

آپ مسلکا شافعی تھے لیکن مزاج فقہی تھا ۔ آپ پر مسلکی چھاپ نہیں تھی ۔ اپنی رائے رکھتے تھے اور اس کے اظہار میں کسی خوف کا کبھی شکار نہیں ہوئے ، طبعی میلان تصوف کی جانب تھا

Professor Dr Sheikh Wahba Al Zehli Inteqal Kar Gaye
پروفیسر ڈاکٹر شیخ وھبہ الزحیلی کو عالم اسلام میں ایک بے مثال فقیہ اور جید عالم دین کے طور پر جانا جاتا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر شیخ وھبہ الزحیلی 1932 میں شام کے شمال میں واقع قصبے دایر عاتیہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کسان تھے اور کھیتی باڑی سے ان کی گذر ہوتی تھی ۔تعلیم کی جانب ان کا شوق تھا ۔ ان کے خاندان کے افراد کہتے تھے کہ انہیں جب بھی دیکھا گیا کتاب کے ساتھ یا کتابوں کے درمیان پایا گیا ۔

ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے جامعہ دمشق میں داخلہ لیا اور چھ برس کے دوران شریعت کورس پڑھا ۔1952 میں فارغ ہوئے اور کلاس میں اول آئے ۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے جامعۃ الازھر کا رخ کیا جہاں آپ نے اسلامی قانون اور زبان پر دسترس حاصل کی ۔یہاں بھی آپ اپنی جماعت میں اول آئے ۔


جامعۃ الازھر میں تعلیم کے دوران ہی وھبہ الزحیلی نے عصری قانون کی تفہیم کے لیے جامعہ عین شمس قاھرہ میں داخلہ لیا ۔

1959 میں قاھرہ یونی ورسٹی سے قانون کی تعلیم میں ماسٹر کیا ۔1963 میں آپ نے قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ کے مقالے کا موضوع تھا " قانون جنگ ،8 اسلامی اور عصری علماء کی آراء کا تقابلی جائزہ "1975 میں آپ اپنی مادر علمی جامعہ دمشق میں پروفیسر بن گئے ۔سن 72 سے 74 تک لیبیا کے علاقے بن غازی کی اسلامی یونی ورسٹی میں آپ استاد رہے ۔
آپ کو مختلف ممالک میں خصوصی لیکچرز اور تدریس کے لیے ہمیشہ پر کشش دعوتیں ملتی رہتی تھیں ۔
انہوں نے 60 سے زائد ممالک میں اسلامی قانون پر خصوصی لیکچرز دیے ۔1984 سے لیکر 1989 تک آپ متحدہ عرب امارات یونی ورسٹی کے شعبہ شریعت اور قانون میں استاد رہے ۔ خرطوم یونی ورسٹی سوڈان اور اسلامک یونی ورسٹی ریاض میں بھی پڑھاتے رہے ۔
آپ کئی ممالک میں قائم علمی اداروں کے اہم رکن بھی رہے ۔ عمان کی شاہی معاشرت برائے تحقیق اسلامی تہذیب البیات فاونڈیشن کے رکن رہے ۔
شامی مجلس افتاء،فقہ اکیڈمی جدہ،فقہ اکیڈمی امریکا ،فقہ اکیڈمی انڈیا،اور سوڈان کے قابل قدر رکن رہے ۔
اسلامی قانون اور فلسفہ کی وجہ سے مسلم دنیا میں آپ کی رائے کو بہت اہمیت حاصل تھی ۔ آپ نے اسلامی اور عصری قانون سے متعلق کئی کتب لکھیں جو انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ترجمعہ ہوئیں ۔وہ دمشق یونی ورسٹی میں شعبہ قوانین اسلامیہ کے چئیرمین بھی رہے ۔
عالم عرب کی جامعات میں نصاب کی تشکیل میں بھی ان کا اہم کردار ہے ۔
انہوں نے اسلامی قانون سے متعلق کئی کتب لکھیں جو اس وقت قانون کے طالب علموں کے لیے بنیادی ماخذ کی سی حیثیت رکھتی ہیں ۔ میں نے یہ نام عربی سے ترجمعہ کئے ہیں ۔ اس لیے ترجمعے میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے ۔
اسلام اور عصری قوانین میں جنگوں کے اصول :ایک تقابلی مطالعہ،دس جلدوں پر مشتمل الفقہ الاسلامی وادلتہ ،اسلامی قانون اور اس کے ثبوت و دلائل،چودہ جلدوں پر مشتمل الموسوعۃ الفقہ الاسلامی،شافعی فقہ کے اصول،مالکی فقہ کے اصول،جدید معاشی قوانین اور اسلامی قوانین،اسلامی قوانین کی روشنی میں بین الاقوامی تعلقات،اسلامی قوانین میں انسانی حقوق کا تصور،اسلام :مشاورت اور جمہوریت کا مذہب،اسلام میں تصور آزادی و حریت،تقابل ادیان کی بنیادیں
سترہ جلدوں پر مشتمل تفسیر المنیراور عرب امارات میں سول لاءجیسی کتب ان کا شاندار علمی سر مایہ ہیں ۔

ڈاکٹر وھبہ الزحیلی آخری عمر میں اپنی قصبے دایر عاتیہ کی مسجد البدر میں بحثیت عالم دین اور مبلغ خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔ان کے قصبے کو ان کے علم ، تفقہ فی الدین ، معرفت اور رسوخ فی العلم کی وجہ سے دنیا میں شہرت ملی ۔ دایر عاتیہ کے لوگ ان پر فخر کر تے ہیں ۔
آپ مسلکا شافعی تھے لیکن مزاج فقہی تھا ۔ آپ پر مسلکی چھاپ نہیں تھی ۔ اپنی رائے رکھتے تھے اور اس کے اظہار میں کسی خوف کا کبھی شکار نہیں ہوئے ، طبعی میلان تصوف کی جانب تھا ۔
2010 میں وہ لیبیا میں منعقدہ عالمی تصوف کانفرنس میں شرکت لیے تشریف لائے تھے جہاں مجھے ان کی دست بوسی کا شرف حاصل ہوا ۔ ان کے ہاتھوں کا لمس ، لہجے کی ملائمت اور وجاہت سے بھر پور چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ میرے خیالات کی دنیا کی ایک حسین یادگار اورسرمایہ ہے ۔
آسمان علم و عمل کا یہ جگمگاتا سورج لاکھوں کروڑوں قلوب کو اپنے علم اور فہم سے روشناس کرانے کے بعد 8 اگست 2015 کو 83 برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر کے خالق حقیقی سے جا ملا ۔

Your Thoughts and Comments