Qissa Sarangi Nawaz Ka

قصہ سارنگی نواز کا

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک سارنگی نواز تھا۔ وہ کمال کی سارنگی بجاتا تھا اور مجالس کو اپنی آواز سے سجاتا تھا اور شان و شوکت سے زندگی بسر کرتا تھا۔ با لآخر وہ بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچا اور بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے روٹی کمانے سے عاجز ہو گیا اور

Qissa Sarangi Nawaz Ka
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک سارنگی نواز تھا۔ وہ کمال کی سارنگی بجاتا تھا اور مجالس کو اپنی آواز سے سجاتا تھا اور شان و شوکت سے زندگی بسر کرتا تھا۔ با لآخر وہ بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچا اور بڑھاپے کی کمزوری کی وجہ سے روٹی کمانے سے عاجز ہو گیا اور روٹی کا محتاج ہو کر رہ گیا۔ وہ بار گاہ خداوندی میں روتا رہا اور کہتا رہا کہ اے اللہ میں نے ساری زندگی گناہ کیئے لیکن تیرے لطف و کرم اور عطاء میں کوئی کمی نہ آئی۔
تو مجھے توازتا رہ۔ اب میں تیرا مہمان ہوں اور تیرے لیے سارنگی بجاوٴں گا کیوں کہ مجھے تیرا غلام ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ وہ مدینہ شریف کے قبرستان چلا آیا اور سارنگی بجاتا رہا اور خدا کے حضور آنسووٴں کا نذرانہ پیش کرتا رہا اور اس دوران وہ نیند کی آغوش میں جا پہنچا۔

ادھر اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بھی نیند طاری فرما دی اور انہیں حالت نیند میں یہ آواز سونائی دی کہ میرا ایک پیارا بندہ قبرستان میں موجود ہے اور اس کی حاجت پوری کرنے کے لئے بیت المال سے سات صد دینار اس کے لئے لے جاوٴ اور اسے بتا دو کہ جب یہ ختم ہو جائیں تب مزید دینار لے جائیں۔

اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کھل گئی۔ آپ قبرستان تشریف لے گئے لیکن وہاں اسے بوڑھے سارنگی نواز کے علاوہ کسی کو نہ پایا، انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ میرا ایک پیارا قبرستان میں موجود ہے لیکن یہ سارنگی نواز کیسے اللہ کا پیارا بندہ ہو سکتا ہے ۔ آپ نے دوبارہ قبرستان میں گھوم پھر کر دیکھا اور جب یقین ہو گیا کہ اسی بوڑھے کی جانب اشارہ تھا۔
لہٰذاآپ اسے بوڑھے کے قریب آئے ۔ آہٹ سن کر بوڑھے کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو خوف کی وجہ سے کانپنے لگا۔ آپ نے کہا کہ خوف نہ کھاوٴ۔ میں تمہارے لئے خوشخبری لایا ہوں۔ اے اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچایا اور رقم اس کے حوالے کی اور فرمایا جب اسے خرچ کر لو پھر اسی جگہ آ جانا اور رقم مہیا کر دی جائے گی۔
یہ سن کر وہ بوڑھا کانپ اٹھا اور شرمسار ہو اور زارو قطار رونے لگا۔
اس نے سارنگی کو زمین پر مار مار کر پاش پاش کر دیا اور کہتا رہا کہ اے بد بخت تو ستر برس تک میرے اور میرے رب کے درمیان حائل رہی۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی کی اے اللہ مجھے معاف فرما دے ۔ تو معاف کرنے والا ہے اور عطا کرنے والا ہے ۔ میں نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ وہ اپنے ستر سالہ گناہوں کو یاد کر کے رو رہا تھا اور اللہ تعالیٰ سے ان کی بخشش کی فریاد کر رہا تھا۔

Your Thoughts and Comments