Qroone Wasta Me Europe Ke Siyasi Hiyat (Germany )

قرونِ وُسطیٰ میں یورپ کی سیاسی ہئیت۔۔۔۔(جرمنی)

جب768 میں شارلیمان کا بادشاہ بنا تو اس نے جرمنی کے بیشتر علاقوں پہ قبضہ کرلیا اس کے خلاف اندازاً سو برس تک جرمنی پہ حکمران رہے

Qroone wasta me Europe ke Siyasi Hiyat (Germany )
(جرمنی)
جرمنی میں مختلف وحشی قبائل مثلا ً وینڈل،سیکسنز،اینگلز وغیرہ آباد تھے ان کے سردار جدا جدا تھے غربی رومہ کے خاتمہ کے بعد جرمنی کئی حصوں میں منقسم ہوگیا شمال میں فرانکس کا غلبہ تھا جنوب میں بویریاذرا اوپر تھر نگیا اور شمال مشرقی علاقوں پر سیک سنز کا تسلّط تھا ان میں سے ایک سردار کلاوس نے بویرئا تھرنگیا اور چنددیگر علاقوں پہ قبضہ کرلیا جب 511 میں اس کی وفات ہوگئی تو بعض سرداروں نے اس کے لڑکے تھیوراڈک 511-548 سے کچھ علاقے چھین لیے اس کے بعد کوئی کام کا آدمی تخت نشین نہ ہوا اور چھوٹے بڑے سردار تین سو برس تک آپس میں لڑتے رہے جب768 میں شارلیمان کا بادشاہ بنا تو اس نے جرمنی کے بیشتر علاقوں پہ قبضہ کرلیا اس کے خلاف اندازاً سو برس تک جرمنی پہ حکمران رہے آخری بادشاہ لوئیس دی چائلڈ تھا جو 911 میں فوت ہوا اس کی وفات پر جرمن امرا نے فرینکونیا کے ایک ڈیوک کانرڈ کو اپنا بادشاہ بنالیا اور اس وقت جرمنی ایک الگ ریاست بن گئی جو آج تک قائم ہے جدول سلاطین یہ ہے:
۱۔

کانرڈ: 911 ۔۔۔۔۔918
۲۔ہنری۔اوّل: 918 ۔۔۔۔۔926
۳۔آٹو۔اوّل: 936 ۔۔۔۔۔973
۴۔آٹو۔دوم: 973 ۔۔۔۔۔983
۵۔آٹو۔سوم: 983 ۔۔۔۔۔1002
۶۔ہنری۔دوم: 1002 ۔۔۔۔1024
۷۔کانرڈ۔دوم: 1024 ۔۔۔۔1039
۸۔ہنری۔سوم: 1039 ۔۔۔۔1056
۹۔ہنری۔چہارم: 1056 ۔۔۔۔1107
۱۰۔کانرڈ۔سوم: 1107 ۔۔۔۔۔1152
۱۱۔فریڈرک۔اوّل(باربروسہ): 1152 ۔
۔۔۔1187
۱۲۔ہنری۔ششم: 1187 ۔۔۔۔۔1197
ہنری پنجم 1125 میں مرگیا تھا۔
۱۳۔آٹو۔چہارم: 1190 ۔۔۔۔۔1212
۱۴۔فریڈرک۔دوم: 1212 ۔۔۔۔۔1250
۱۵۔کانرڈ۔چہارم: 1250 ۔۔۔۔۔1254
اس کے بعد انیس برس تک جرمن سردار آپس میں لڑتے رہے آخر یوپ نے مداخلت کی اور روڈلف بادشاہ بنا۔
۱۶۔روڈلف۔اوّل: 1272 ۔۔۔۔۔1291
۱۷۔
البرٹ۔اوّل: 1298 ۔۔۔۔۔1308
۱۹۔ہنری۔ہفتم: 1308 ۔۔۔۔۔1313
۲۰۔لُوئس: 1313 ۔۔۔۔۔1346
۲۱۔چارلس۔چہارم: 1346 ۔۔۔۔۔1376
یہ دراصل بوہیمیا کا بادشاہ تھا جرمنی نے بھی اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا۔
۲۲۔وِنزل: 1376 ۔۔۔۔۔1400
۲۳۔رُوپرٹ: 1400 ۔۔۔۔۔1410
۲۴۔سگمنڈ: 1410 ۔۔۔۔۔1437
۲۵۔البرٹ۔
دوم: 1437 ۔۔۔۔۔1439
۲۶۔فریڈرک۔سوم: 1439 ۔۔۔۔۔1486
۲۷۔میکزی ملیان۔اوّل 1486 ۔۔۔۔۔1519
۲۸۔چارلس۔پنجم: 1519 ۔۔۔۔۔1558
۲۹۔فردینان۔اوّل: 1558 ۔۔۔۔۔1564
یہ اسٹریا کا بادشاہ تھا یوپ کی مدد سے جرمنی کا بھی بادشاہ بن گیا۔
۳۰۔میکزی ملیان۔دوم: 1564 ۔۔۔۔۔1576
۳۱۔رُوڈلف۔سوم: 1576 ۔۔۔۔۔1612
۳۲۔مٹ وہیاس: 1612 ۔
۔۔۔۔1619
۳۳۔فردینان۔دوم: 1619 ۔۔۔۔۔1637
۳۴۔فردینان۔سوم: 1637 ۔۔۔۔۔1657
۳۵۔لِیُوپولڈ۔اوّل: 1657 ۔۔۔۔۔1705
۳۶۔جوزف۔اوّل 1705 ۔۔۔۔۔1711
۳۷۔چارلس ششم: 1711 ۔۔۔۔۔1740
۳۸۔ماریا تھریسا: 1740 ۔۔۔۔۔1742
۳۹۔چارلس۔ہفتم: 1742 ۔۔۔۔۔1745
۴۰۔فرانس۔اوّل: 1745 ۔۔۔۔۔1765
۴۱۔جوزف۔دوم: 1765 ۔
۔۔۔۔1790
۲۲۔لِیُوپولڈ۔دوم: 1790 ۔۔۔۔۔1792
۴۳۔فرانس۔دوم: 1792 ۔۔۔۔۔1804
۴۴۔نپولین(شاہ فرانس): 1804 ۔۔۔۔۔1813
۴۵۔فیڈریشن بن گئی: 1813 ۔۔۔۔۔1848
۴۶۔فریڈرک۔چہارم: 1848 ۔۔۔۔۔1861
دورِجہموریت کا آئینی بادشاہ۔
۴۷۔ولیم۔اوّل 1861 ۔۔۔۔۔1888
اس کا وزیر اعظم بسمارک تھا۔
۴۸۔ولیم۔ثانی: 1888 ۔
۔۔۔۔1918
اس نے پہلی جنگ عالمگیر شروع کی تھی۔
۴۹۔البرٹ: 1918 ۔۔۔۔۔1925 صدرجہموریہ۔
۵۰۔ہنڈن برگ: 1925 ۔۔۔۔۔1933
۵۱۔ہٹلر: 1933 ۔۔۔۔۔1946
یہ دوسری جنگ عظیم کا باعث تھا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا مشرقی اور مغربی مشرقی روس کے زیر اثر ہے اور مغربی نسبتاً آزاد ہے مغربی جرمنی کا چانسلر ایدینار( 1946 ۔۔۔۔۔1963 )1963 میں مستعفی ہوا تھا اور اس کی جگہ پروفیسر ارہر ڈنے نے لی تھی۔

Your Thoughts and Comments