Qroone Wasta Me Europe Ke Siyasi Hiyat (Unan)

قرون وسطیٰ میں یورپ کی سیاسی ہیئت (یونان)

یورپ میں ایسے لوگ آباد تھے جن کا نسلی تعلق مصریوں سے تھا قیاس یہ ہے کہ مصری اپنے عہد عروج میں یورپ کے بعض حصوں پر بھی قابض رہے تھے

Qroone wasta me Europe ke Siyasi Hiyat (Unan)
ڈاکٹر غلام جیلانی برق:
ولادت مسیح سے اندازاً تین ہزار سال پہلے آریوں کی ایک شاخ جنوبی روس اور ڈییوب کے سواحل سے یورپ کی طرف بڑھی اس وقت یورپ میں ایسے لوگ آباد تھے جن کا نسلی تعلق مصریوں سے تھا قیاس یہ ہے کہ مصری اپنے عہد عروج میں یورپ کے بعض حصوں پر بھی قابض رہے تھے اور ان کی نسلیں وسطی اور جنوبی یورپ میں آباد ہوگئی تھیں ان کے قدر چھوٹے،منہ گول اور سرلمبوترے تھے ان میں سے بعض قبائل آدم خور بھی تھے آرئیے انہیں مغرب کی طرف دھکیلتے گئے یہاں تک کہ ان میں سے بیشتر ہلاگ ہوگئے اورکچھ بچ کر بحیرہٴ روم کے جزائر اور شمالی افریقہ کی طرف نکل گئے یہی آرئیے دو ہزار قم میں شمال یورپ سے بلقان کی طرف بڑھے ان کے ساتھ ان کے ریوڑ بھی تھے ہومر(۵۸۰قم)ان چرواہوں کو ہیلنیز(Hellenese)کے نام سے یاد کرتا ہے ان کی زبان ایک تھی یہ لوگ ہر مقاوَمت کو توڑ کر بحیرہٴ ایجین تک پہنچ گئے اور بعد میں سسلی سارڈینیا،اٹلی اور فرانس تک نکل گئے یونان میں ان کے اہم شہر مقدرونیہ ایتھنز اور سپارٹا تھے قبیلے قبیلے کے سرداریاں جدا تھیں یہ سردار عموماً آپس میں لڑتے رہتے اور کبھی کبھی ایرانی حملوں کا بھی شکار بنتے تھے اس صورت حال سے اکتا کر یونانی سرداروں نے ۶۰۰ قم میں ایک وفاق بنایا جو تمام ریاستوں نمائندوں پہ مشتمل تھا یہ نمائندے مجسٹریٹ کہلاتے اور تمام ریاستوں کے لیے قانون بناتے تھے فوج مالیاتی اور امورِ خارجہ پر وفاق کا کنٹرول تھا ۵۹۴ قم میں یونان کا ایک مشہور مقنن سولن،(۶۳۹۔

۵۵۹قم)نمائندہ منتخب ہوا اس کی دانش علم اور انتظامی قابلیت سے متاثر ہوکر وفاقی کونسل نے اسے صدر منتخب کرلیا اور حکومت کے تمام اختیارات اس کے حوالے کردئیے اس نے برسرِاقتدار آتے ہی تمام قرضے منسوخ کردئیے ایک دارالعلوم بنایاجس میں نمائندوں کی تعداد چار سو تھی کئی دیگر اصطلاحات نافذ کیں یونان آئین قلم بند کیا ضابطہ اور قوانین ترتیب دیا اور باشندگان کو پیشہ کے لحاظ سے چار گروہوں میں تقسیم کیا۔
حالات یونہی چلتے رہے یہاں تک کہ ۳۵۹قم میں فلپ مقدونیہ کا سردار بنا اس نے پہلے ایتھنز اور پھر ایران کو شکست دے کر سپارٹا کے سوا باقی تمام یونانی ریاستوں پہ قبضہ جمالیا ۳۳۶قم میں فلپ کے قتل کے بعد سکندر مسند آرا ہوا اس نے سب سے پہلے اردگرد کے رقیبوں کی خبر لی۔یہ اس قدر بے رحم تھا کہ جب اس نے تھی بس(یونان کا ایک شہر)کو فتح کیا تو سارا شہر جلادیا اوع اس کی ساری آبادی کو جوتیس ہزار باشندوں پہ مشتمل تھی غلام بناکر بیچ ڈالا پھر جبن ۳۳۲قم میں فلسطین کے شہر غازہ اور لبنان کی بندرگاہ ٹایر پر قبضہ کیا تو آبادی کا ایک متنفس بھی زندہ نہ چھوڑا۔
اس نے شام مصر ایران بخارا اور ہندوستان کو دریائے جہلم تک روند ڈالا ان مہمات سے واپس آرہا تھا کہ ۳۲۳قم میں بابل کے مقام پر فوت ہوگیا اس کے بعد اس کے جرنیلوں میں پھوٹ پڑگئی اور یونانی مقبوضات تین حصوں میں تقسیم ہوگئی مقدرونیہ اینٹی گونس کے حصہ میں آیا ایشیائی مقبوضات پرسیلوقس قابض ہوگیا انطاکیہ اسی نے بنایا تھا اور مصر بطلیموس نے لے لیا مقدونیہ اور یونانی ایشای میں پھر جہموریتیں بن گئیں ۱۴۶قم میں سلطنت رومہ(شرقی)نے سارے یونان اور ایشیائے صغیر پہ قبضہ کرلیا البتہ مصر کا بطلیموسی خاندان جو تاریخ میں بطالسہ مصر کے نام سے مشہور ہے تین صدیوں تک زندہ رہا۔

Your Thoughts and Comments