Qroone Wasta Me Europe Ke Siyasi Hiyat

قروِن وسطی میں یورپ کی سیاسی ہئیت!

ابتدائی حکومتیں کب قائم ہوئی اور موجودہ ریاستیں یعنی برطانیہ ۔فرانس۔ سپین۔اٹلی۔جرمنی وغیرہ کیسے معروض وجود میں آئیں

Qroone wasta me Europe ke Siyasi Hiyat

ڈاکٹر غلام جیلانی برق:

اس کتاب میں یورپ کے قدیم و جدید سلاطین و حکما کا بار بار ذکر آتا ہے اس لیے امورِ ذیل کی وضاحت ضروری ہے:
۱۔یورپ کے اصلی باشندے کون تھے؟
ب۔وہاں ابتدائی حکومتیں کب قائم ہوئی اور موجودہ ریاستیں یعنی برطانیہ ۔فرانس۔ سپین۔اٹلی۔جرمنی وغیرہ کیسے معروض وجود میں آئیں؟
ج۔

قرونِوسطیٰ میں یورپ کے تمدن تہذیب اخلاق اور علوم وفنون کی کیفیت کیا تھی؟
یورپ کی اصلی باشندے: تاریخ ہے کہ قدیم زمانے میں یورپ مختلف وحشی قبائل کا مسکن تھا بحیرہٴ اسود کے شمال اور دریائے ڈنیپرDnipper کے دونوں طرف گاتھ آباد تھے ذرا مغرب میں جہاں آج کل پولینڈ رومانیہ،ہنگری وغیرہ ہیں رہتے تھے جرمنی تین خونخورا قبائل یعنی وینڈلز،سیسکسنز اوراینگلز کا وطن تھا جنوبی جرمنی اور شمالی اٹلی میں لمبرڈز سکونت پذیر تھے فرانس میں فرانک اور برطانیہ میں سلٹ(Celts) رہتے تھے یورپ کے باقی حصوں میں بھی اُجڈ قبائل آباد تھے جن کا کام لڑنا بھڑنا اور ڈاکے ڈالنا تھا جب رومہ کی غربی سلطنت کمزور ہوگئی تو ان قبائل میں سیاسی حرکت پیدا ہوئی اور یہ اپنے اوطان سے نکل کر دور دراز علاقوں پہ چھاگئے کچھ قبائل پہلے ہی حرکت میں آچکے تھے مثلاً سیکسنز اور اینگلز جو صدیوں پہلے جزائر برطانیہ میں پہنچ چکے تھے پانچویوں صدی میں غربی گاتھ اور وینڈل سپین تک پہنچ گئے شرقی گاتھ چیکو سلواکیہ اور پھر اٹلی میں داخل ہوئے ہنز کی حکومت دریائے رائن سے ایشیا تک پھیل گئی اور لمبرڈ اٹلی کے بعض اضلاع پہ قابض ہوگئے تھے۔


تاریخ یورپ کے تین دَور! آٹھویں صدی قبل مسیح سے پہلے یورپ میں کیا ہورہا تھا ہمیں کچھ معلوم نہیں قیاس یہ ہے کہ وہاں وحشی قبائل آباد تھے جن کے سردار جدا جدا تھے مذہباً ملحد یا بت پرست تھے اور نوشت دخواند سے قطعاً نا آشنا تھے آٹھویں صدی کے بعد تاریخ یورپ تین دَوروں میں بٹ گئی۔
اول:دورِقدیم۔جو آٹھویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے یہی وہ زمانہ ہے جب رومہ کی عظیم سلطنت قائم ہوئی تھی اور یونان سے علوم و فنون کے دریا بہہ نکلے تھے۔

دوم:قرونِ وسطیٰ یعنی وہ زمانہ جو زوال رومہ(۴۷۶ء)سے شروع ہوکر یورپ کی حیات ثانیہ(سولہویں صدی) پہ ختم ہوتا ہے۔
سوم:عصر حاضر،جو سولہویں صدی سے شروع ہوا۔دوسرے دور کے پھر دو حصے ہیں اس کے پہلے پانچ سو سال میں تاریکی جہالت و حشت اور انتہائی بربریت کے سوا اور کچھ بھی نظر نہیں آتا گیارہویں صدی میں اسلامی تہذیب تمدن اور علوم و فنون مختلف راستوں سے یورپ میں پہنچے اور وہاں کی تاریکیوں میں ہلچل سی پیدا ہوگئی پانچ چھ صدیوں کے بعد وہاں اُجالا سا ہونے لگا جا بجا مدارس کھل گئے تالیف ترجمہ کے ادارے قائم ہوگئے عربی علم کے تراجم ہونے لگے پاپائیت کا زور ٹوٹ گیا مذہبی اوہام و اباطیل کے محل مسمار ہوگئے جاگیردارانہ نظام مٹ گیا اسی دور برطانیہ(۱۶۸۸ء)فرانس(۱۷۸۹)اور امریکہ(۱۷۷۶)میں انقلاب آئے اور انسانی فکر شخصی حکومت اور کلیسائی بندشوں سے آزاد ہوگئی اور یہ تھا یورپ کا آغازِ عروج۔

رومہ اور اٹلی! اٹلی میں ایک دریا کا نام ٹائبر ہے جو شمال کی طرف سے آتا ہے اور رومہ یا روم سے گزر کر پچیس میل نیچے بحیرہٴ روم میں جاگرتا ہے یہ دریا کبھی شاہراہ تجارت تھا تاجر کشتیوں میں مال بھر کر فرانس سے نیپلز اور دیگر مقامات تک آتے جاتے تھے اور اس دریا کے کنارے ایک مقام سرسبزی اور دلکشی کی وجہ سے بہت مشہور تھا وہاں تاجر خیمے لگا کر راتوں کو ٹھہرت اور صبح کو روانہ ہوجاتے ولایت مسیح سے ساڑھے سات سو سال پہلے ان تاجروں نے چندہ کرکے وہاں ایک سرائے بنادی جہاں رفتہ رفتہ ایک شہر بن گیا یہی شہر روم کہلاتا ہے جو اڑھائی ہزار برس سے اٹلی کا دارالخلافہ ہے۔

تشکیلِ رومہ: اس زمانے میں ہر خاندان کا سردار الگ تھاجو خاندانی جھگڑے چکاتا شادیاں کراتا ہر معاملے میں حکم چلاتا اور اپنے قبیلے کی بستیوں کو ڈاکوؤں اور حملہ آوروں سے بچاتا تھا چھٹی صدی قم میں ایشیا کا قبیلہ وہاں جا نکلا جس کے سردار Tarquins کہلاتے تھے ان کی قابلیت اور شجاعت سے متاثر ہوکر اہل روم نے انہیں اپنا سردار رتسلیم کرلیا اوریہ صورت حال سو سال تک باقی رہی۔
۵۰۹ میں وہاں ایک اسمبلی بھی تھی جس میں تمام اختیارات خواص کے نمائندوں (Plebcians) کی کوئی تجویز اس وقت تک قانون نہیں بن سکتی تھی جب تک خواص اسے منظور نہ کرتے۔اس جہموریت نے رفتہ رفتہ گردونواح کے تمام قبائل کو قابو کرلیا پھر مزید پاؤں پسارے یہاں تک کہ ۲۶۵ قم میں روم ایک خاصی طاقت بن گئی اب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا ۱۹۷ قم میں سپین ایک سال بعد شمالی افریقہ اور مقدرونیہ،۶۴ قم میں شام ۵۰قم میں فرانس اور بیلجیم ۹ء میں جرمنی ۴۴میں برطانیہ ۱۰۵ء میں فلسطین ۱۱۴ میں آرمینیہ اور ۱۱۷ میں عراق سلطنت رومہ کا حصہ بن گئے۔

Your Thoughts and Comments