Qurbani Sunnat E Ibrahimi Ki Azeem Yadgaar

قربانی سنت ابراہیمی کی عظیم یادگار

تسلیم و رضا‘ مہر وفا‘ صدق و صفا‘ صبر و شکر‘ وفا شعاری اور جان نثاری کا کامیاب امتحان! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کیلئے پیش کر کے اطاعت خداوندی کی عظیم تاریخ رقم کی

Qurbani Sunnat e Ibrahimi Ki Azeem Yadgaar
مولانا غلام شبیر فاروقی:
ذی الحج کا مہینہ نہایت عظمت اور مرتبے والا ہے۔ اس مہینے کا چاند نظر آتے ہی ہرمسلمان کے دل میں اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس کی مثال روزِ آخرت تک نہیں مل سکے گی۔ یہ ماہ مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ جن کی پوری زندگی قربانی کی بے مثال تصویر ہے۔ وہ کون سا امتحان تھا جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے خلیل سے نہیں لیا مگر کروڑوں سلام آپ کی ذاتِ والا صفات پر کہ کسی بھی موقع پر آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔
اللہ جل شانہ‘ کے ہر فیصلے پر ست تسلیم خم رکھا اور عشق الٰہی میں توحید کے پرچم کی سربلندی کیلئے بڑے سے بڑے مصائب و آلام ثابت قدمی سے برداشت کئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عزت و عظمت اور آپ علیہ السلام کے تقدس و احترام کا یہ عالم ہے کہ دنیا کے بڑے مذاہب کے ماننے والے مسلمان عیسائی اور یہودی بھی آپ کو الہ تعالیٰ کا عظیم المرتبت پیغمبر مانتے ہیں۔

یہ وہ جلیل القدر نبی ہیں جن کے وجود پاک سے نہ صرف دنیا کو ٹھنڈک نصیب ہوئی بلکہ آتش کدہ نمرود بھی ٹھنڈا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ سے اپنے دین متین کی بنیاد رکھوائی۔ حضرت ہاجرہ کی عمر اس وقت پچیس سال اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چوراسی برس کے لگ بھگ تھی‘ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صورت میں اولادِ نرینہ عطا فرمائی۔
حضرت جبرائیل کو حکم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ کو اس مقام تک پہنچا دیا جائے جن کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ جبرائیل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اونٹنی کی مہار تھامی اور انہیں اس مقام پر چھوڑ آئے جہاں نہ زندگی کا کوئی وجود تھا نہ چرند پرند، نہ سبزہ پانی اور نہ دو دور تک کسی آبادی کا نام و نشان موجود تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلا سے کہا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کی بیوی اور بیٹے کو چھوڑنے کا حکم ملا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ”یہاں․․․․؟ یعنی اس جگہ پر جہان زندگی کی کوئی امید نہیں۔ اپنی محبوب بیوی اور برسوں کی دعاؤں کی مراد لخت جگر کو تنہا چھوڑ جاؤں۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی‘ یا خلیل اللہ یہی مقام آپ کیلئے منتخب فرمایا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اگر میرے اللہ کی منشا اسی میں ہے تو مجھے منظور ہے۔ حضرت ابراہیم نے اونٹنی کی مہار تھامی اور واپسی کیلئے چل دئیے۔
حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے مہار تھام لی اور پوچھا کہا جارہے ہیں؟ آپ خاموش رہے‘ پھر پوچھا ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑ کر جارہے ہیں۔ آپ خاموش رہے حضرت ہاجرہ علیہ السلام آپ کی خاموشی کا سبب سمجھ گئیں اور کہا، کیا یہ رب کریم کا حکم ہے؟ آپ نے اثبات میں سر ہلایا تو بی بی حاجرہ بولیں، اچھا جائیں‘ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو اللہ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔
میاہ اونچے پہاڑوں کے درمیان ایک سیاہ وادی میں حضرت ہاجرہ علیہ السلام اپنے شیر خوار کے ہمراہ تن تنہا بیٹھی آسمان کو تکتی رہیں۔ چار سو خاموشی اور وحشت کا عالم تھا ۔ نہ جانے وہ پہلی سیاہ رات انہوں نے کیسے گزاری ۔ بچے کو گود میں لئے اللہ کی مد کی منتظر‘ نہ جانے کتنی راتیں اور دن گزار دئیے۔ شوہر کو جانے سے روکا اور نہ ہی کوئی گلہ شکوہ کیا۔
کچھ دور جا کر سید نا ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی: ”یا اللہ! انہیں نمازی رکھ‘ لوگوں کے دل ان کی طرف پھیر دے‘ انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور ایسی ویران اور بنجر وادی میں پینے کیلئے زم زم کا چشمہ بھی جاری کردیا اور کھانے کیلئے نایاب پھل مہیا فرمائے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ضعیف العمری میں اولاد نرینہ سے نوازا اور بیٹا جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک کڑی آزمائش سے دوچار کردیا۔ آپ علیہ السلام سے فرزند کی قربانی مانگ لی۔ اللہ کی رضا پر راضی اور صابر و شاکر باپ بیٹے نے حکم خداوندی کے سامنے تسلیم و رجا کی وہ مثالی پیش کی جس کی یاد رہتی دنیا تک منائی جاتی رہے گی۔
چشم فلک نے شاید روئے زمین پرایسا نظارہ کبھی نہ دیکھا ہو کہ والد اپنی ضعیف العمری میں اپنے اکلوتے فرزند کو راہ خدا میں قربان کرنے جارہا ہو اور بیٹا بھی ایسا کہ یہ سوچ کر کہ والد کی نظریں اسکے چہرے پر پڑیں تو کہیں ان کے ہاتھ نہ کپکپا جائیں، پیٹ کے بل زمین پر لیٹ گیا، اس عظیم منظر کو ہمیشہ کیلئے قران حکیم میں محفوظ کرلیا گیا۔ اس بے مثال واقعہ کو گزرے صدیاں بیت گئیں مگر آج بھی اس عظیم الشان واقعہ کی یاد دنیا بھر میں پویر شان و شوکت سے منائی جاتی ہے۔
حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر اور خلیل اللہ تھے آپ کی ساری زندگی آزمائشوں اور ابتلاؤں سے بھری پڑی ہے لیکن آپ علیہ السلام ہر امتحان میں سر خروپائے گئے۔ یعنی سب سے بڑی آزمائش اولاد کی قربانی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں ان کے لخت جگر کو ذبح کرنے کا حکم دیاگیا۔ آپ علیہ السلام نے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری رکھ دی‘ خلیل اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔
چونکہ اس آزمائش کا مقصد باپ اور بیٹے کے تسلیم و رضا کا امتحان لینا تھا لہٰذا خلیل اللہ اور فرزند اسماعیل علیہ السلام اس آزمائش میں ثابت قدم پائے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اطاعت کو شعائر اللہ بنادیا۔ اس ادائے عشق کو دین کا واجب رکن قرار دے دیا۔ اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں ایک مینڈھا پیش کردیا گیا۔ عید الاضحی اسی بے مثال واقعہ کی یاد دہانی کا نام ہے۔

Your Thoughts and Comments