Raah E Khuda

راہِ خدا

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک شخص نے درخواست کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے میری قسمت کا سارا رزق مجھے ایک ہی بار دلوا دیں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کی اور

Raah e Khuda
ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک شخص نے درخواست کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے میری قسمت کا سارا رزق مجھے ایک ہی بار دلوا دیں موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کی اور اس غریب شخص کو تمام زندگی کا رزق ایک ہی بار مل گیا اس شخص نے فوراً لنگر خانہ کھول دیا اور اعلان کر دیا کہ جس شخص کے کھانے کا انتظام نہ ہو وہ ہمارے لنگر خانے سے پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی اس بات پر تعجب ہواانہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ نہ مانا تو آپ وہاں سے چلے گئے ۔

ایک ہفتے بعد ان کا ادھر سے گزر ہوا تو دیکھا کہ لنگر خانہ ہنوز ابھی تک جاری ہے دوسری مرتبہ ایک ماہ بعد اور پھر تیسری مرتبہ چھ ماں بعد ادھر سے گزرے تو آپ نے حسب معمول اسی طرح لوگوں کو لنگر خانے سے کھانا کھاتے دیکھاان کا خیال تھا کہ اس غریب آدمی کی دریا دلی کی بدولت سارا رزق چند روز میں ختم ہو جائے گا مگر لنگر خانہ ابھی تک مسلسل جاری تھا۔


آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیااے اللہ یہ کیا قصہ ہے اس کا تھوڑا سا رزق ابھی تک چل رہا ہے جواب آیابے شک اس کی قسمت میں تھوڑا سا ہی رزق تھا جو اب تک ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن ہمارا قانون ہے کہ جو شخص ہماری راہ میں کچھ خرچ کرتا ہے تو ہم اس کا دس گنا اس کو دنیا میں اور نوے گنا آخرت میں دیتے ہیں یہ شخص بھی اس قانون کے دائرے سے باہر نہیں جتنا یہ ہماری راہ میں خرچ کرتا ہے اس کا دس گنا ہم اسے دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔

Your Thoughts and Comments