Ramzan Ul Mubarak Ka Aakhri Ashra

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

عبادت اور عید کی تیاریاں عروج پر

Ramzan ul Mubarak Ka Aakhri Ashra
یوں تو رمضان المبارک عبادت رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے مگر اس کی اہمیت دنیاوی لحاظ سے بھی کم نہیں اس ماہ مبارک میں جہاں لوگ عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں ۔ وہیں عید کی تیاریوں کا سلسلہ بھی عروج پر رہتا ہے خواتین سحرو افطار کے ساتھ ساتھ عید کی تیاریوں کیلئے بھی وقت نکالنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ آخری عشرہ چونکہ عبادت کا عشرہ بھی ہے اس لئے خواتین کی مصروفیات دوگنا ہو جاتی ہیں ۔

رمضان المبارک کی معاشی سرگرمیوں صرف کھانے پینے کا سامان ، ملبوسات یا جوتوں کی خرید وفروخت محددو نہیں اس کے اثرات ہر جگہ نظر آتے ہیں زیادہ تر گھرانوں میں عید کی تیاریوں کے ضمن میں گھر کی آرئش وغیرہ پر توجہ دی جاتی ہے ۔ صوفوں کے کشن ، پردے آرائشی اشیاء عام طور پر رمضان میں ہی خریدی جاتی ہیں ۔

صاحب حیثیت گھرانوں میں نیا فرنیچر قالین وغیرہ عید دے پہلے خریدنے کا رجحان پایا جاتا ہے ۔


ماہ رمضان اور عید کی تیاریوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں درزی حضرات پہلے نمبر پر ہیں ۔ رمضان میں ٹیلرنگ شاپس رات گئے تک کھلی رہتی ہیں ۔ خاص طور پر خواتین کت ملبوسات تیار کرنے والے کاریگروں کاکال نظر آتا ہے ۔ گھروں میں سلائی کا کام کرنے والی خواتین کے پاس بھی کام کی بہتاب ہوتی ہے ۔ ٹیلرنگ شاپس والے پندرہویں یابیسیوں روزے سے نئی بکنگ بند کر دیتے ہیں ۔
درزیوں کے پاس کام کی بہتاب کے پیش نظر زیادہ تر خواتین شعبان ہی کے مہینے میں کپڑے کی خریداری مکمل کر لیتی ہیں ۔ چنانچہ جیسے جیسے عید آتی ہے بازاروں میں خریداروں کا ہجوم بڑھنے لگتا ہے ۔
عید کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ آخری عشرے کی طاق راتوں میں عبادت عروج پر ہوتی ہے ۔ آج کل اکثر خواتین میں دورہٴ قرآن کی کلاسز کا رجحان عام ہے ۔ بچیاں اپنی ماؤں کے ساتھ کچن میں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ عبادت بھی پوری دلجعی سے کرتی ہیں ۔

ماہ رمضان میں لوگ خوراک پر بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں اس کے بعد ملبوسات اور ذاتی استعمال کی دیگر اشیاء کا نمبر آتا ہے تاہم گھریلو استعمال کی دوسری اشیاء مثلاََ کراکری ، فرنیچر ، آرائشی وسجاوٹی اشیاء بیڈشیٹس ودیگر اشیاء کی خریداری پر توجہ دیتی ہیں ۔ بہرحال ماہ رمضان میں کس کو کیا ملتا ہے یہ تو بظاہر کسی کو نظر نہیں آتا لیکن اس مبارک مہینے کی برکت سے سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
لیکن آپ اس مبارک ماہ میں اور آنے والے عید کے تہوار پر اپنے اردگرد کے لوگوں پر ضرور نظر رکھیے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی خوشیوں میں مگن ہواور کسی مجبور کی طرف دیکھ بھی نہ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ا س ماہ مبارک کی رحمتیں سمیٹنے اور دوسروں کے کام آنے کا موقع عطافرمائے۔

Your Thoughts and Comments