Rasool Allah SAW Akhlaq O Kirdar Main Apni Misal Aap Hain

رسول اللہ ﷺ اخلاق وکردار میں اپنی مثال آپ ہیں

ہم نے سنا ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش گوئیاں اور آپﷺ کے بہترین اخلاق وکردار کاذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پہلی آسمانی کتابوں میں جو ذکر ہے اس میں کچھ بتائیں تاکہ۔۔۔

Rasool Allah SAW Akhlaq o Kirdar Main Apni Misal Aap Hain
کوکب شہزاد:
ہم نے سنا ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پیش گوئیاں اور آپﷺ کے بہترین اخلاق وکردار کاذکر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پہلی آسمانی کتابوں میں جو ذکر ہے اس میں کچھ بتائیں تاکہ ہمارے علم میں بھی اضافہ ہواور ہم بھی اپنے پیارے نبی ﷺ کے اخلاق کی پیروی کرسکیں۔
دین اسلام ہمیں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری اور محبت کا درس دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی محبت ہی اصل ایمان ہے۔ جس مسلمان کواپنے دین سے پیار ہے اسے کورسول اللہ ﷺ سے بھی بے انتہا محبت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے نبی (ﷺ) آپ فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوتو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا“ اللہ تعالیٰ اخلاق وکردار میں اپنی قوم کے سب سے بہترین انسان کو ہی نبوت کے منصب پر فائز فرماتا ہے اور ان عظیم ہستیوں کااخلاق وکردار بچپن ہی سے لوگوں کے لیے نمونہ ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا آپﷺ کااخلاق وکردار کیساتھا؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ کیاتم نے قرآن پڑھا ہے؟ کان خلقہ قرآن․․․․․ آپ ﷺ کااخلاق قرآن تھا۔
آپ نے پوچھا ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں میں آپﷺ کااخلاق وکردار کیسا بیان ہوا ہے تو اس کے جواب کے لئے میں ایک حدیث مبارکہ بیان کرتی ہوں جس سے آپﷺ کے اخلاق وکردار کی ایک واضح تصویر آپ کے سامنے آجائے گی۔
حضرت عطاربن یسارضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا۔
میں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی وہ صفت بتائیں جو تورات میں ہے۔ انھوں نے کہا:اللہ کی قسم تو رات میں ان کی وہ صفات ہیں جن میں سے بعض کاذکر قرآن مجید میں ہے۔ قرآن مجید میں ہے“ اے نبیﷺ ہم نے آپ کو امت پر گواہ بناکر بھیجا اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے آپ امیوں کی جائے پناہ ہیں۔
تورات میں ہے کہ تو میرا بندہ رسول ہے، میں نے تیرانام متوکل رکھا ہے۔ آپ ﷺ برائی کابدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کردیتے ہیں اور بخش دیتے ہیں۔
آپ ﷺ کے پاس جب پہلی مرتبہ حضرت جبرائیل تشریف لائے توآپﷺ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور فرمانے لگے کہ مجھے اپنی جان کااندیشہ ہے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ بہترین اخلاق والے ہیں ، یتیموں کی سرپرستی کرتے ہیں، خطاکاروں کو معاف کرتے ہیں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں، آپ ﷺ کااللہ پاک کبھی آپﷺ کواکیلا نہیں چھوڑے گا پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو لے کر عیسائی راہب ورقہ بن نوفل کے پاس تشریف لے گئیں جنہوں نے آپ ﷺ کو دیکھ کر آپﷺ کے اللہ تعالیٰ کاسچا نبی ہونے کی تصدیق کی۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ ہم زبانی کلامی آپﷺ سے محبت کے دعوے کریں اور ہمارے اعمال ایمان سے خالی ہوں بلکہ آپ ﷺ سے محبت کاتقاضا ہے کہ بندہ آپﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور لوشش کرے کہ آپ ﷺ نے جس کام سے منع فرمایااسے چھوڑدے اور جد چیز کا حکم دیااس پر عمل کرے یہی محبت رسول اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کاباعث بنے گی اور یہی بات ہمیں جنت میں لے کر جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کے خالی دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں۔

Your Thoughts and Comments