Roori Per Kitna Arsa Rahy

روڑی پر کتنا عرصہ رہے؟

بیماری کی وجہ سے صرف آپ علیہ السلام کی آنکھیں دل اور زبان محفوظ تھی کیڑے مکوڑے آپ علیہ السلام کے جسم پر پھرتے تھے آپ علیہ السلام روڑی پر سات سال اور کئی دن رہے

Roori per kitna Arsa Rahy
روڑی پر کتنا عرصہ رہے؟
حضرت الحسن رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ: بیماری کی وجہ سے صرف آپ علیہ السلام کی آنکھیں دل اور زبان محفوظ تھی کیڑے مکوڑے آپ علیہ السلام کے جسم پر پھرتے تھے آپ علیہ السلام روڑی پر سات سال اور کئی دن رہے۔
امام ابو جعفرمحمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ کرتے ہیں :حضرت الحسن رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ،حضرت ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ ماہ کوڑے کرکٹ پررہے آپ علیہ السلام نے کبھی اس تکلیف کے دورکرنے کی دعا نہیں فرمائی حالانکہ زمین پر حضرت ایوب علیہ السلام سے کوئی مکرم مخلوق نہ تھی۔
علماء فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے کہا،اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں کوئی حاجت ہوتی تو اس کے ساتھ ایسا نہ کرتے یہ جملہ سن کر آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔


حضرت ایوب علیہ السلام پر پھنسیاں کتنی بڑی تھیں؟ امام ابو جعفر محمد بن جریز طبری متوفی310 ھ روایت کرتے ہیں۔حضرت وہب بن منبہ رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ،حضرت ایوب علیہ السلام کو عورت کے پستان کی طرح بڑی بڑی پھنسیاں نکلتی تھیں اور پھر پھٹ جاتی تھیں۔


حضرت الارض جسم مبارک پر پھرنے تھے: امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ روایت کرتے ہیں،حضرت الحسن رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام سات سال اور کچھ ماہ بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر رہے اور حشرات الارض آپ علیہ السلام کے جسم پر پھرتے رہتے تھے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا مقبول ہوگئی: امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ء روایت کرتے ہیں،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے تحت ہے کہ جب حضرت ایوب علیہ السلام کو تکلیف لاحق ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف سے چھٹکارے کی دعا فراموش کرادی آپ علیہ السلام کثرت سے ذکر الہٰی کرتے رہتے تھے اور مصیبت آپ علیہ السلام کی رغبت اور حسن ایقان میں اضافہ کرتی تھی جب ابتلا کی مدت ختم ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی تکلیف دور کرنے کا ارادہ فرمایا تو دعا کا اذن ملا اور دعا کو آپ علیہ السلام کے لئے آسان کردیا گیا اس سے پہلے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا تھا کہ میرے بندے ایوب علیہ السلام کے لئے مناسب نہیں کہ مجھ سے دعا مانگے پھر میں اس کے لیے قبول نہ کروں جب آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالٰ نے اس کو شرف قبولیت عطا فرمائی اورہر چیز جو اللہ تعالیٰ نے لے لی تھی وہ دوگنا عطا فرمائی آپ علیہ السلام کے اہل بھی لوٹا دئیے اور ان کی مثل بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی تعریف فرمائی۔

کیا حضرت ایوب علیہ السلام کو جذام تھا؟ امام ابوالقاسم علی بن الحسن عساکرمتوفی571 ھ روایت کرتے ہیں حضرت وہب رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری لگی تھی وہ جذام نہیں تھا بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ سخت بیماری تھی آپ علیہ السلام کے جسم پر عورت کے پستان جیسی پھنسیاں نکلتی تھیں اور پھر پھٹ جاتی تھیں۔ گرنے والا کیڑا اٹھا کر دوبارہ جسم اقداس پر لگادیتے: امام ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں،حضرت الحسن رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اگر حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم اقداس سے کوئی کیڑا گر جاتا تو آپ علیہ السلام اٹھا کر اپنی جگہ پر رکھ دیتے اور ارشاد فرماتے اللہ تعالیٰ کے رزق میں سے کھا۔

زوجہ مبارکہ کو صبر کی تلقین: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم مجھ پر فاقہ اورتکلیف دہ کیفیت نازل ہوئی کہ میں نے ایک روٹی کے بدلے میں اپنی مینڈھیاں فروخت کردیں اور تجھے کھانا کھلایا آپ علیہ السلام مستحاب الدعوات شخص ہیں اللہ تعالیٰ سے اپنی شفا کے لیے دعا فرمائیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا:تجھ پر افسوس !ستر سال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں رہے اور ابھی سات سال آزمائش میں ہوئے ہیں۔
شیطان کا خود کو جھوٹی تسلی دینا: امام ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی 571 ھ روایت کرتے ہیں،حضرت طلحہ بن مصرف رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ،ابلیس نے کہا مجھے ایوب علیہ السلام سے کبھی فرحت نہیں ملتی مگر جب میں نے ان کے رونے کی آواز سنی(تو میں بہت خوش ہوا)کیونکہ میں نے جان لیا کہ میں نے اس کو تکلیف پہنچادی ہے۔

چیچک کا مرض: امام ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی571 ھ روایت کرتے ہیں:حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سب سے پہلے چیچک کا مرض حضرت ایوب علیہ السلام کو لگا تھا۔
کھلیان پر سونا اور چاندی انڈیلا: امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی405 ھ روایت کرتے ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال بیمار رہے آپ علیہ السلام کو اپنے پرائے سب چھوڑگئے لیکن وہ شخص جو آپ علیہ السلام کے خاص دوست تھے وہ صبح و شام آپ علیہ السلام کے پاس آتے جاتے تھے۔
ایک دن ایک نے دوسرے سے کہا:حضرت ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا جرم کیا ہے جو کبھی کسی نے نہیں کیا۔دوسرے نے کہا :وہ کس طرح؟اس نے کہا:یہ اٹھارہ سال سے مصیبت میں گرفتار ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں فرمایا اور اس کی مصیبت کو دور نہیں کیا وہ شخص حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا تو اس سے صبر نہ ہوسکا اس نے اپنے ساتھی کی بات کا آپ علیہ السلام کے سامنے ذکر کیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا:میں نہیں جانتا جو تو کہہ رہا ہے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے میں دو ایسے اشخاص کے پاس سے گزرتا تھا جو اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے میں اپنے گھر کی طرف لوٹتا تھا اور ان کے درمیان الفت پیدا کردیتا تھا تاکہ ناجائز طریقہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا نام نہ استعمال کریں آپ علیہ السلام اپنی حاجت کے لیے نکلتے تھے جب قضائے حاجت کر لیتے تو ان کی بیوی ان کے ہاتھ سے پکڑ لیتی تھی حتیٰ کہ اپنی جگہ پہنچ جاتے ایک دن آپ علیہ السلام کی بیوی نے کچھ دیر لگادی تو اللہ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔
بیوی آپ علیہ کی طرف پہنچی تو آپ علیہ السلام ا سکی طرف متوجہ ہوئے آپ علیہ السلام کی مصیبت ختم ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام پہلے سے بھی زیادہ حسین تھے جب بیوی نے یہ منظر دیکھا تو کہا اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا نبی دیکھا ہے جو مصیبت میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ کی قسم! جب وہ صحیح تھا تو تجھ سے زیادہ اس کے مشابہ میں نے کبھی کوئی شخص نہیں دیکھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا:میں ہی تو وہ ہوں۔ارشاد فرمایا:حضرت ایوب علیہ السلام کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا اور ایک جوکا اللہ تعالیٰ نے دوبادل بھیجے ایک گندم کے کھلیان پرتھا اس نے اس میں سونا انڈیل دیا حتیٰ کہ وہ بہنے لگا اور دوسرے بادل نے جو کے کھلیان میں چاندی بہائی حتیٰ کہ وہ بہنے لگا۔
صبر رب تعالیٰ کا سلام: امام ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی571 ھ روایت کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے واَ یة اَھلَہُ وَ مِثلَھُم مَعَھُم کے متعلق پوچھا۔تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ آپ علیہ کو اپنی بیوی واپس کردی تھی اور اس کے شباب میں اضافہ کردیا تھا حتیٰ کہ اس کے بطن سے چھبیس بچے پیدا ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جس نے کہا اے ایوب علیہ تیرارب عزوجل تجھے صبر کی وجہ سے سلام کہتا ہے اپنے کھلیان کی طرف نکل پس اللہ تعالیٰ نے اس کھلیان پر ایک سرخ بادل بھیجا اس نے سونے کی مکڑیاں برسائیں اور وہ فرشتہ انہیں جمع کررہا تھا ایک مکڑی جاتی تو حضرت ایوب علیہ السلام اس کا پیچھا کرتے حتیٰ کہ وہ اس کو اپنے کھلیان میں لوتا دیتے فرشتے نے کہا:اے ایوب علیہ السلام! کیا آپ کھلیان میں موجودمکڑیوں سے سیر نہیں ہوتے حتیٰ کہ آپ باہر والی کا پیچھا کرتے ہو؟حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا:یہ میرے رب عزوجل کی برکت سے ایک برکت ہے میں برکات الہٰیہ سے سیر نہیں ہوتا۔

Your Thoughts and Comments