Sardi Se Mutaliq Baaz Faqhi Ehkaam - Article No. 3528

سردی سے متعلق بعض فقہی احکام - تحریر نمبر 3528

احقر نے یہاں فقط بعض ان مسائل کا ذکر کیا ہے جو سردی سے متعلق ہیں،اللہ پاک شرعی احکامات کی پاسداری کی توفیق عطافرمائے

Abu Hamza Mohammad Imran Attari ابو حمزہ محمد عمران مدنی پیر جنوری

Sardi Se Mutaliq Baaz Faqhi Ehkaam
محترم قارئین کرام!پیش آمدہ ضروری فقہی مسائل کی معرفت ہر مسلمان مرد وعورت کے لیے ضروری ہے اور اس حوالے سے علماء کرام نے مستقل کتابیں تحریر کی ہیں ،احقر نے یہاں فقط بعض ان مسائل کا ذکر کیا ہے جو سردی سے متعلق ہیں،اللہ پاک شرعی احکامات کی پاسداری کی توفیق عطافرمائے!
وضو سے متعلق مسئلہ:
وضو کے مستحبات میں سے ہے کہ پانی بہاتے وقت اعضاء پر ہاتھ پھیرے بالخصوص سردی میں کہنیوں اور ایڑیوں کاخاص خیال رکھے کہ موسم کی خنکی کے سبب یہ مقام عموماً خشک ہوتے ہیں بعض اوقات ان مقامات سے پانی اوپرسے گزرجاتا ہےاور کھال بدستورخشک رہ جاتی ہے۔
(رد المحتار، کتاب الطھارۃ ، سنن الوضو ،ج:،ص:۱۲۳)
غسل سے متعلق مسئلہ:
اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضرر سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے۔

(بہار شریعت،تیمم کا بیان ،ج:۱،حصّہ :۲،ص:۳۴۸)
موزوں پرمسح کرنے سے متعلق مسائل:
حدثِ اصغر(یعنی :وضو نہ ہونے) کی صورت میں مردوعورت موزوں پر مسح کر سکتے ہیں موزہ چمڑے کا ہو یا صرف اس کا تَلا چمڑے کاہو اور باقی کسی اور دبیز اور موٹی چیز کاہو جس سے پانی پاؤں تک سرایت نہ کرے جیسے کرمچ وغیرہ۔

)نور الایضاح، ،ص:۳۵)
موزے پر مسح کرنے کے لیے سات شرطیں ہیں:
پہلی شرط:
وُضو کرکے پہنا ہویعنی پہننے کے بعد اور حدث سے پہلے ایک ایسا وقت ہو کہ اس وقت میں وہ شخص با وُضو ہو خواہ پورا وُضو کرکے پہناہو یا صرف پاؤں دھو کر پہنا ہو اور بعد میں وضو توڑنے والی کسی چیز کے پائے جانے سے پہلے پورا وُضو کر لیاہو۔
دوسری شرط:
موزے ایسے ہوں کہ ٹخنے چھپ جائیں ا گردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ایڑی نہ کھلی ہو۔
أیضاً
تیسری شرط:
موزہ ایسا ہو کہ اس کو پہن کر آسانی کے ساتھ خوب چلنا پھرنا ممکن ہو پس شیشے ،لکڑی یا لوہے کے موزے پر مسح جائز نہیں ۔أیضاً
چوتھی شرط:
کوئی موزہ پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگلی کے برابر پاؤں ظاہر نہ ہوتا ہو اور اگر تین انگلی کے برابر موزہ پھٹا ہو اوراس کے اندر سے پاؤں کی تین اُنگلیوں سے کم دکھائی دیتا ہے تواس موزے پر مسح جائز ہے۔

پانچویں شرط:
موزےپاؤں سے چمٹا ہوا ہو،اسے پاؤں کے ساتھ کسی بندش کے ساتھ باندھنے کی ضرورت نہ ہو۔أیضاً
چھٹی شرط:
موزہ ایسا دبیز اور موٹا ہو کہ پانی اس سےرِس کر پاؤں تک نہ پہنچے ۔أیضاً
ساتویں شرط:
ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے مطابق تین انگلیوں کے برابر قدم کا اگلا حصّہ باقی ہو اگر کسی کے پاؤں کا یہ حصّہ کٹا ہوتو اس کے لیے مسح کرنے کی اجازت نہیں ہےأیضاً
مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہے۔
موزہ پہننے کے بعد پہلی مرتبہ جو حدث ہوا اس وقت سے مسح کا شمار ہے مثلاً صبح کے وقت موزہ پہنا اور ظہر کے وقت پہلی بار حدث ہوا تو مقیم دوسرے دن کی ظہر تک مسح کرے اور مسافر چوتھے دن کی ظہر تک۔ أیضاً
مسح میں فرض ہے کہ ہر موزہ کا مسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہواورموزے کی پشت پر ہو۔أیضاً
مسح میں سنت پوری تین انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرنا ہے اورانہیں پنڈلی تک کھینچ کر لے جاناہےاور مسح کرتے وقت انگلیاں کھلی رکھنا ہے۔
أیضاً
چار چیزیں مسح کو توڑ دیتی ہیں (۱)جن چیزوں سے وُضو ٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی جاتا رہتا ہے۔ (۲)موزے اتار دینے سے مسح ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ ایک ہی اتارا ہو یونہی اگر ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گاموزہ اتارنے یا پاؤں کا اکثر حصّہ باہر ہونے میں پاؤں کا وہ حصّہ معتبر ہے جو گٹوں سے پنجوں تک ہے پنڈلی کا اعتبار نہیں ان دونوں صورتوں میں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔
(۳)موزے پہن کر پانی میں چلا کہ ایک پاؤں کا آدھے سے زِیادہ حصّہ دُھل گیا یا اور کسی طرح سے موزے میں پانی چلا گیا اور آدھے سے زِیادہ پاؤں دھل گیا تو مسح جاتا رہا۔ أیضاً
(۴)مدت پوری ہوجانے سے مسح جاتا رہتا ہے اوراس صورت میں صرف پاؤں دھولینا کافی ہے پھر سے پورا وُضو کرنے کی حاجت نہیں اور بہتریہ ہے کہ پورا وُضو کرلے۔أیضاً
مسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو نہ اتارے اور ٹخنوں تک پورے موزے کا (نیچے اوپر اغل بغل اور ایڑیوں پر) مسح کرے کہ کچھ رہ نہ جائے۔
أیضاً
نمازسے متعلق مسائل :سردی کی شدّت سے بچنے کے لیے بعض حضرات اپنا منہ چادر یا رومال وغیرہ سےڈھانپ کرنماز پڑھتے ہیں حالانکہ دورانِ نما ز مُنہ ڈھانک لینا مکروہ ہے،حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا کہ کوئی شخص نماز میں اپنے مُنہ کو ڈھانپ لے۔(سنن ابن ماجہ،كتاب إقامة الصلاة، والسنة فيها،باب ما يكره في الصلاة،رقم:۹۶۶ ،ج:۱،ص:۳۱۰)
موسم سرما میں لوگ سردی سے بچنے کے لیے چادر ،مفلر وغیرہ حالتِ نماز میں بھی پہنے ہوئے ہوتے ہیں ، اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ چادر یا مفلر وغیرہ سر یا کندھے پر اس طرح ڈالا جائے کہ اس کے دونوں کنارے آگے کی طرف نہ لٹک رہے ہوں کہ اسے سدل کہتے ہیں اور حالتِ نماز میں سدل (کپڑا لٹکانا ) مکروہ تحریمی ہے ۔
(ردالمحتار،کتاب الصلوۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:۱،ص:۶۳۹)
اوراگر ایک کنارہ ایک کندھے پر ڈال دیا اور دوسرا کنارہ دوسرے کندھے پر ڈال دیا جو کمر کی طرف لٹک رہا ہے تواس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر رومال ، یا چادر وغیرہ کو ایک کندھے پر ڈال لیا اور اس کا ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پرلٹک رہا ہو جیسا کہ آج کل عموماً رومال رکھنے کا طریقہ ہے، تو ایسا کرنا بھی مکروہ ہے۔
أیضاً
حدیث میں ہے :رسول اللہﷺنےنماز میں سدل سے منع فرمایا ۔(سنن الترمذی،رقم:۳۷۸،ج:۲،ص:۲۱۷)
چادروغیرہ یوں لپیٹ کر نماز پڑھنا کہ ہاتھ بلا تکلّف باہر نہ نکالا جاسکےمکروہ ہے۔حدیث پاک میں ہے : جب تم میں سے کسی کے پاس(اوپر نیچے کے)دو کپڑےہوں تو اُسے چاہیئے کہ دونوں کپڑوں میں نماز پڑھے اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اُسے چاہیئے کہ اس سےتہبندباندھ لے اور یہودیوں کی طرح کپڑا اپنے جسم پر نہ لپیٹے۔
(سنن ابی داؤد، رقم:۶۳۵،ج:۱،ص:۱۷۲)
بعض لوگ اس حوالے سے الجھن میں مبتلا رہتے ہیں کہ سردی میں جو جیکٹ یا صدری پہنی ہے ،اس کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ اس حوالے سے علماءفرماتے ہیں کہ انگرکھے پر جو صدری یا چغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام (بٹن)بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں کہ یہ خلاف معتاد نہیں۔

جماعت سے متعلق مسئلہ:
عاقِل بالغ آزاد قادر پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے بلاعذر جماعت چھوڑنے والا گنہگارہے ۔جماعت کو چھوڑنے کے بعض عذر ہیں ، ان اعذار میں کوئی عذر پا یا جائے تو جماعت چھوڑنے میں گناہ نہیں ہوتا ، من جملہ ان اعذار میں سے ایک عذر سخت سردی بھی ہے۔(ردالمحتار، کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ ،ج:۱،ص:۵۴۷)
حدیث پاک میں ہے :حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے ایک سرد رات میں مقام ضَجْنَانْ میں پڑاؤ ڈالا
پھر آپ نے اعلان کرنے والے کو اعلان کرنے حکم دیا کہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لیں ! پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا :نبی پاک ﷺ جب سفر میں ہوتے اور رات بہت ٹھنڈی یا بارش والی ہوتی تو آپ اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنے کا کہتے: سب اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو !(سنن الدارمی ، رقم:۱۳۱۱، ج:۲، ص:۸۱۰)
روزے سے متعلق مسئلہ:
کسی عارضی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کی وجہ سے رمضان المبارک کےروزے رہ گئے ہوں تو سردی کے موسم میں اُن کی قضاءبآسانی کی جا سکتی ہےکہ دن چھوٹے ہوجاتے ہیں اور یوں روزہ آسان ہوجاتا ہے،بعض بوڑھے موسم گرما میں رمضان آنے کی صورت میں روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ روزہ کی جگہ فدیہ دے دیتے ہیں حالانکہ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو موسمِ سرما میں دن چھوٹا ہونے ، موسم سرد ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر ہوتے ہیں ایسے عمر رسیدہ لوگ بھی کفارہ نہیں دے سکتے بلکہ گرمیوں میں قضا کرکے سردیوں میں روزے رکھنا ان پر فرض ہے، بعض عمر رسیدہ لوگ ماہِ رمضان گرمی کے موسم میں آنے کی وجہ سے لگاتار مہینہ بھر کے روزے نہیں رکھ سکتے مگر ایک دودن بیچ کرکے رکھ سکتے ہیں توان پر فرض ہے کہ جتنے رکھ سکیں اُتنے رکھیں اور جتنے قضا ہوجائیں سردیوں میں رکھ لیں۔
الغرض روزہ کے بدلے کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ سردی میں، نہ لگاتار نہ متفرق۔
حج و عمرہ سے متعلق مسائل:
حج و عمرہ کے مسائل میں بھی سردی کی بنا پر تخفیف ہوتی ہے چنانچہ عام حالات میں جس جرم میں دَم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جُوؤں کی سخت ایذا کے باعث ہوگا تواصطلاحِ شریعت میں جُرمِ غیر اختیاری کہتے ہیں ،اور اس میں اختیار ہوتا ہے کہ دَم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ فطر دے دے یا دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادے یا تین روزے رکھ لے۔

لا علمی کی وجہ سے سردی کے موسم میں حالتِ احرام میں ہونے کے باوجود بعض محرم سوئٹر استعمال کرلیتے ہیں ،بعض سوتے ہوئے کمبل اپنے منہ پر اوڑھ لیتے ہیں حالانکہ احرام میں یہ امور ممنوع و ناجائز ہیں ،اس حوالے سے چند مسائل درج ذیل ہیں:
مُحرِم نے سِلا کپڑا چار پہر(پورا دن ) کامل پہنا تو دَم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ تھوڑی دیر پہنا اور لگاتار کئی دن تک پہنے رہا جب بھی ایک ہی دَم واجب ہے ،جب کہ یہ لگا تار پہننا ایک طرح کا ہو یعنی عُذر سے یا بلا عذر اور اگر مثلاً ایک دن بلاعذر تھا، دوسرے دن بعذر یا بالعکس تو دو کفارے واجب ہوں گے۔

اگر دن میں پہنا رات میں گرمی کے سبب اُتار ڈالا یا رات میں سردی کی وجہ سے پہنا دن میں اُتار ڈالا، باز آنے کی نیت سے نہ اُتارا تو ایک کفارہ ہے اور توبہ کی نیت سے اُتارا تو ہر بار میں نیا کفارہ واجب ہوگا۔ یوہیں کسی ایک دن کُرتا پہنا تھا اور اُتار ڈالا پھر پاجامہ پہنا اُسے بھی اُتار کر ٹوپی پہنی تو یہ سب ایک ہی پہننا ہے اور اگر ایک دن ایک پہنا دوسرے دن دوسرا تو دو کفارے واجب ہیں۔
(بہار شریعت ،حج کا بیان ،جرم اور ان کے کفارے ،سلے کپڑے پہننا ،(بہار شریعت :ج:۱،حصّہ:۶،ص:۱۱۶۷)
علامہ شامی لکھتے ہیں: احرام کی حالت میں چہرے کا کل یا بعض حصہ کا چھپانا حرام ہے پورے چہرے یا سر ایک دن یا ایک رات چھپانے سے دم لازم ہوتا ہے اور ایک دن سے کم میں صدقہ لازم ہوتا ہے اور عورت بھی اس مسٔلہ میں شامل ہے اور وہ بالاجماع اپنے چہرے کو نہیں چھپاۓ گی۔واللہ اعلم بالصواب

Your Thoughts and Comments