Satwain Darwazay Par Kon Rukawat Banay Ga

ساتویں دروازے پر کون رکاوٹ بنے گا

ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہوگئیں اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہوجائے شیطان نے اس کو بہکایا چنانچہ

Satwain Darwazay Par Kon Rukawat Banay Ga
ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہوگئیں اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہوجائے شیطان نے اس کو بہکایا چنانچہ اس نے ارادہ کر لیا کہ اب بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا ۔
اس کی غلط فہمی پر غور کریں بھلا اس میں بیوی کا کیا قصور ۔ رات کو سویا تواس نے عجیب وغریب خواب دیکھا اس نے دیکھا کہ کہ قیامت برپا ہوچکی ہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جن کے سبب اس پر جہنم واجب ہوچکی ہے ۔ لہٰذا فرشتوں نے اس کو پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے ۔
پہلے دروازے پر گئے ۔ تو دیکھاکہ اس کی ایک بیٹی وہاں کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا۔

فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے پر چلے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی جو اس کے لئے آڑ بن گئی ۔ اب وہ تیسرے دروازے پر اسے لے گئے وہاں تیسری لڑکی کھڑی تھی جو رکاوٹ بن گئی ۔ اس طرح فرشتے جس دروازے پر اس کو لے کر جاتے وہاں اس کی ایک ایک بیٹی کھڑی ہوتی جو اس کا دفاع کرتی اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ۔ غرض یہ کہ فرشتے اسے جہنم کے چھ دروازوں پر لے کر گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی چلی گئی ۔
اب ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے اس کو لے کر اس دروازے کی طرف چل دیئے ۔
اس پر گھبراہٹ طاری ہوئی کہ اس دروازے پر میرے لئے رکاوٹ کون بنے گا اسے معلوم ہوگیا کہ جو نیت اس نے کی تھی غلط تھی وہ شیطان کے بہکاوے میں آگیا ۔ انتہائی پریشانی اور خوف ودہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل چکی تھی اور اس نے رب العزت کے حضور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور دعا کی ۔
اے اللہ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما۔ اس لئے جن لوگوں کاقضا وقدر پر ایمان ہے انہیں لڑکیوں کی پیدائش پر رنجیدہ خاطر ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہئے ایمان کی کمزوری کے سبب جن بدعقیدہ لوگوں کایہ تصور بن چکا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کا سبب ان کی بیویاں ہیں یہ سراسر غلط ہے اس میں بیویوں کا یاخود ان کا کوئی عمل دخل نہیں ۔
بلکہ میاں بیوی تو صرف ایک ذریعہ ہیں ، پیدا کرنے والی ہستی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے وہی جس کو چاہتا ہے لڑکا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنادیتا ہے ایسی صورت میں ہر مسلمان پر واجب ہے اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر پر راضی ہو اللہ تعالیٰ نے سورة شوری میں ارشاد فرمایا ہے ۔

ترجمعہ : آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے وہ وجوچاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلاکردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ۔

Your Thoughts and Comments