Shaadi K Liye Ikhrajat Ka Masla

شادی کے لئے اخراجات کا مسئلہ

اپنے آپ کو زنا وبدکاری سے بچانے کے لئے نکا ح کرنا چاہئے

بدھ جنوری

Shaadi K Liye ikhrajat ka masla
مبشر احمد ربانی
اپنے آپ کو زنا وبدکاری سے بچانے کے لئے نکا ح کرنا چاہئے کیونکہ نکاح کرنے سے انسان کی نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت ہو جاتی ہے مسلمان آدمی غلط نظروں اور گناہ سے بچ سکتاہے اسلام کے اندر نکاح کرنا انتہائی آسان ہے۔دنیا کے رسوم ورواج سے دور رہ کر اگر آپ اسلامی نکتہ نظر سے سوچیں تو آپ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے آپ کا فقر اور تنگ دستی ممکن ہے کہ اللہ نکاح کے ذریعے دور کردے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”تم میں سے جو مردوعورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کردو اور اپنے نیک غلام اور باندیوں کا بھی اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ وسعت والا علم والا ہے۔

یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ تنگ دستی ‘فقر اور محتاجی کو اپنے خاص فضل وکرم سے وسعت اور فراخی میں بدل دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتاہے۔


نکاح کرنے والا جو پاک دامنی کی نیت سے نکاح کرتاہے۔
مکاتب غلام جو ادائیگی کی نیت رکھتاہے۔


اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اس لئے آئی ہوں کہ میں آپ کے لئے اپنے نفس کو ہبہ کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اوپر سے نیچے تک نظر دوڑائی پھر اپنا سر نیچے کر لیا جب اس عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تو بیٹھ گئی تو آپ کے صحابہ کرام میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا ۔
اس نے کہا‘اے اللہ کے رسول اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں تو ان کو میرے ساتھ بیاہ دیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول!آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کی طرف جا دیکھ تو کوئی چیز پاتا ہے وہ چلا گیا پھر واپس آیا اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے کچھ نہیں پایا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کر اگر چہ ایک لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔
وہ جاکر پھر واپس آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی لیکن میری یہ ازار(تہہ بند)ہے(سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے پاس اوپر اوڑھنے کے لئے بھی چادر نہ تھی)اس کا آدھا حصہ اسے دوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو اپنے تہہ بند کے ساتھ کیا کرے گا؟اگر تو پہنے گا تو اس عورت پر اس میں سے کچھ نہ ہو گا اور اگر یہ عورت پہن لے گی تو تیرے اوپر کچھ نہ ہو گا وہ آدمی بیٹھ گیا۔
یہاں تک کہ اس کی مجلس لمبی ہوگئی وہ پھر کھڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منہ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا اسے حکم دے کر بلایا گیا جب وہ آیا تو آپ نے کہا تیرے پاس قرآن حکیم میں سے کیا ہے؟اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں آپ نے کہا تو انہیں اچھی طرح یاد رکھتاہے۔اس نے کہا:ہاں۔آپ نے فرمایا جا میں نے ان سورتوں کے عوض اس عورت سے تیرا نکاح کر دیا ہے۔

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح کیلئے شریعت میں لمبے چوڑے اخراجات نہیں ہیں جس صحابی کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اس کے پاس تو سوائے تہہ بند کے کچھ نہ تھا آج کون سا ایسا شخص ہے جس کے پاس کم از کم ایک جوڑا کپڑوں کا نہ ہوا کثریت ایسے لوگوں کی موجود ہے جن کے پاس لباس وافر مقدار میں موجود ہیں۔رہائش کے لئے گھر موجود ہے۔
اس صحابی سے بڑھ کر معاشی حالت درست ہے۔
لہٰذا آپ رسومات اور رواجوں سے ہٹ کر سنت نبوی کے مطابق نکاح کروالیں حق مہر کی بھی شرح میں کوئی مقدار کم یا زیادہ متعین نہیں۔حسب استطاعت مہرادا کردیں۔بد کاری وفحاسی کے اس سیل رواں میں پاک دامنی اختیار کرنا انتہائی لازمی ہے اور نکاح بدکاری سے بچنے کا بہترین راستہ ہے۔اس لیے گھر والوں کی بات تسلیم کرکے نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں اور اللہ تعالیٰ مالی مشکلات کو اپنے فضل وکرم سے درست کردے گا جیسا اوپر گزر چکا ہے۔

Your Thoughts and Comments