Shab E Barat Ki Fazeelat

شب برات کی فضیلت

بعض علماء کرام نے کتب تفسیرہ وغیرہ میں کچھ روایات کا تذکرہ کیا ہے۔جس کے مطابق ماہ شعبان کی فضیلت بیان کی جاتی ہے۔جبکہ شب برأت سے متعلق متعدد میں اس مبارک رات کا واقعہ بیان کیا گیاہے۔”حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیِ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیِ عناہا نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے نبیﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے تھے۔

Shab e Barat Ki Fazeelat
حافظ محمد زبیر:
بعض علماء کرام نے کتب تفسیرہ وغیرہ میں کچھ روایات کا تذکرہ کیا ہے۔جس کے مطابق ماہ شعبان کی فضیلت بیان کی جاتی ہے۔جبکہ شب برأت سے متعلق متعدد میں اس مبارک رات کا واقعہ بیان کیا گیاہے۔”حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیِ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیِ عناہا نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے نبیﷺ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے تھے۔
آپﷺ شعبان کا سار مہینہ روزے رکھتے اور کہا کرتے تھے” اتنا عمل کرو جس کی تم استطاعت رکھتے ہو۔بے شک اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں اُکتاتا یہاں تک کہ تم (عمل سے)اکتا جاؤ۔“
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیِ عنہا فرماتی ہیں:” اللہ کے رسولﷺ کو سب مہینوں میں سے شعبان میں روزہ رکھنا زیادہ پسند تھا“۔


اس حدیث میں نفلی روزے سے مراد ہیں نہ کہ فرض روزے ورنہ اس اعتبار سے اللہ کے رسول کو سب سے زیادہ رمضان کا مہینہ پسند تھا۔


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیِ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا”جب نصف شعبان باقی رہ جائے(یعنی نصف شعبان گزر جائے)تو روزہ نہ رکھو۔
ماہ شعبان کی فضیلت میں ایک روایت یہ بھی ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیِ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ سے سوال کیا گیا کہ رمضان کے بعد کونسامہینہ افضل ہے؟آپﷺ نے فرمایا”شعبان“
”رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے۔
شعبان(گناہوں سے)پاک کرنے والاہے“۔
شب برأت کی فضیلت کے بارے حضرت معاذ بن جبل نے اللہ کے رسولﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:” اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی تمام مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں،سوائے مشرک اور کینہ پرورکی“۔
حضرت ابو ثعلبہ سے روایت ہے:”جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں۔اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کردیں۔“(یعنی جب تک وہ بغض اور کینہ ختم نہ کریں گے،اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا)۔
ہمارے معاشرے میں شب برأت کے حوالے سے بدعات بھی پائی جاتی ہیں۔چراغاں کرنا اور پٹاخے چھوڑنے کی بری رسم سوائے پاکستان کے دیگر اسلامی ممالک میں نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ رسم ہندوؤں سے وراثت میں ملی ہے۔آتش بازی ہندوؤں کی رسم دیوالی کی نقل ہے۔علاوہ ازیں اس میں آتش پرست مجوسیوں سے بھی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے(یعنی)اس کا مجھ سے اور دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
آتش بازی کی سب سے بڑی قباحت آئے دن دیکھنے میں آتی ہے،وہ انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔قومی روزناموں میں یہ خبر شائع ہوچکی ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کی شادی میں پورا خاندان بس میں موجود پٹاخوں کے آگ پکڑنے کی وجہ سے جل کر راکھ ہوگیا۔
لہٰذا آتش بازی چاہے شب برأت پر ہو یا دوسرے مواقع پر ایک،شیطانی فعل ہے اور ممنوع ہے۔قبرستان کی زیارت کرنا مشروع ہے اور رسولﷺ نے اس کا حکم بھی فرمایا۔آپﷺ کی حدیث ہے:”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا․․․․پس اب تم ان کی زیارت کیا کرو،کیونکہ قبروں کی زیارت آخرت کی یاد دلاتی ہے“ لیکن پندرہ شعبان کی رات کو جلوس کی شکل بنا کر چراغاں کرتے ہوئے قبرستان کے لئے نکلنا اور اسے سنت سمجھنا بالکل غلط ہے۔
رسول اللہﷺ کی کسی بھی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ پندرہ شعبان کی رات کو قبرستان کے لئے نکلے ہوں۔اس کے لئے عموماََ جو احادیث بیان کی جاتی ہیں،نصف شعبان کی رات کی فضیلت تو صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اس رات کی فضیلت کا اعتبار کرتے ہوئے اس رات عمومی عبادات مثلاََ نوافل،تلاوت،اور انفرادی ذکروافکار وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اس رات کی کوئی مخصوص عبادت مثلاََبارہ رکعتیں پڑھنا کسی بھی صحیح یا حسن روایت سے ثابت نہیں ہے۔بلکہ اس رات کی مخصوص عبادات کے حوالے سے جتنی روایات مروی ہیں،وہ موضوعات کے درجے کی ہیں۔شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنا اللہ کے رسولﷺ سے ثابت ہے۔لیکن آپﷺ نے اپنی امت کو پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے منع فرمادیاتاکہ رمضان کے روزوں میں سستی پیدا نہ ہو۔
اس لئے شعبان کے مہینے کی عمومی فضیلت کے تحت یا ایام بیض میں روزہ رکھنے والی صحیح احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اس دن روزہ رکھا جا سکتا ہے۔حضرت قتادہ بن ملحا رضی اللہ تعالیِ عنہ فرماتے ہیں:”اللہ کے رسولﷺ ہمیں ایام بیض یعنی ہر مہینے کی تیرہ چودہ اور پندرہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔”لیکن پندرہ شعبان کے روزے کی علیحدہ سے کوئی خصوصی فضیلت کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے

Your Thoughts and Comments