Shab E Qadr

شب قدر

رمضان المبارک کی نورانی آغوش میں پوشیدہ نزول رحمت کی رات اس کا ثواب پچھلی امتوں کی ہزار ماہ کی عبادت سے زیادہ ہے

shab e Qadr
علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی:
لیلة القدر رمضان المبارک کی نورانی آغوش میں پوشیدہ لہلہاتی جگمگاتی نورانیت سے منور روحانیت سے معطر وبابرکت رات ہے جسے خود خالق کائنات نے لیلة القدر فرمایا کہ یہ شرف وبرکت والی رات ہے۔
اسی شب مبارک میں کلام الہٰی کے نزول کی ابتداء ہوئی اسی شب میں یہ کلام لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا گیا۔
جبکہ کل قرآن مجید کو رسول کریم ﷺ پر رفتہ رفتہ حسب مصلحت خداوندی تقریباََ 23سال کے عرصہ میں نازل کیاگیا۔ سب سے پہلی وحی رسول اللہﷺ پر اسی ماہ مبارک یعنی رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی کسی طاقت رات میں نازل ہوئی وہ بھی انہی طاق راتوں میں سے کوئی برکت والی رات ہے۔ لہٰذا آیہ کریم صاف ارشاد فرمارہی ہے کہ یہ رات معمولی رات نہیں بلکہ وہ رات ہے جس میں کلام ربانی کے نزول کی ابتداء ہوئی۔

وماادرک مالیلة القدر۔ اور تم نے کیاجانا کیا ہے شب قدر۔ یعنی یہ رات کیسی بزرگیوں اور شرافتوں اور فضیلتوں والی رات ہے اور اپنی جلو میں کیسی کیسی عظمتوں کولئے آئی ہے یہ کسے معلوم ہے۔
خطبات عرب خصوصاََ قرآن مجید کے اسلوب بلاغت کے مطابق زیادہ شوق پیداکرنے کے لئے سوال قائم کیا جارہا ہے۔ پھر خود ہی اس کا جواب مرحمت ہوتا ہے اور جواب میں لیلة القدر کو دہرانا محض اس کی اہمیت وعظمت کے اظہار کے لئے چنانچہ جواب دیاگیا” یہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

یعنی اجرعبادت اور ثواب طاعت کے اعتباد سے اس ایک رات کاعمل خیراور کار طاعت وثواب اور بندگی رب الارباب ایسے ہزار مہینوں کے عمل خیروطاعت سے افضل وبہتر ہے جس میں شب قدر شمار نہ ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم نو مجسم ﷺ نے گزشتہ امتوں کے ایک طاعت گزار بندہٴ مومن کاذکر فرمایا وہ تمام رات عبادت میں گزارتا تھااور رتمام دن جہاد میں مصروف رہتا تھا ۔
اس بندہٴ مومن نے اسی طرح ہزار مہینے بسر کئے۔ مسلمانوں کو اس پر تعجب بھی ہوا اور اس کی عبادت وریاضت پرشک بھی آیا اس پریہ سورہٴ مبارکہ نازل ہوئی اور مسلمانوں کو شب قدر مرحمت فرمائی گئی جو اجروثواب کے اعتبار سے ایک ہزار کے مسلسل امور طاعت سے کہیں افضل وبہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کااپنے جیب پر کرم بالائے کرم ہے کہ آپ کے امتی شب قدر صرف ایک رات طاعت وعبادت میں گزاریں اور ان کا ثواب پچھلی امت کے ہزار ماہ عبادت کرنے والے افراد سے کہیں زیادہ ہے۔

عبادتوں کاثواب یوں ہی معمولا کیا کم ہوتا ہے لیکن جب یہ رات نزول قرآن کی سالگرہ والی رات آتی ہے تو اجر بھی بڑھ کر ہزارگنا ہوجاتا ہے ۔ حساب سے ہزار مہینوں کے تقریباََ 83سال ہوتے ہیں لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراواس سے کوئی عدمعین نہ ہوبلکہ محاورہٴ عرب کے مطابق کہ وہ کسی بڑی تعداد کاتصور دلانے کے لئے ہزار لفظ بولتے تھے۔ محض تکثیر عدمراد ہوتو اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ اس ایک رات میں عمل خیر کاثواب اتنا کثیر درکثیر ہے کہ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں۔ آیہ کریمہ میں ملائکہ سے مراد ملائکہ رحمت ہیں اور الروح سے مراد روح الامین یعنی فرشتہ اعظم حضرت جبرائیل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب شب قدر آتی ہے تو جبرائیل فرشتوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ زمین پرآتے ہیں اور یہ گروہ ملائکہ پر اس بندہٴ مومن کو جوکھڑا ہے یا بیٹھا اور ذکر الہٰی میں مشغول ہوتا ہے سب کو سلام کرتے ہیں اور ان کے حق میں دعائے مغفرت اور التجائے رحمت کرتے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ ان سے مصافحہ بھی کرتے ہیں۔ جبکہ صوفیائے کرام سے اس کی علامت یہ منقول ہے کہ اس بندہٴ عبادت گزار کے بدن پر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل ایک عجیب سی کیفیت میں سرشار ہوجاتا ہے ۔ اپنے رب کے حکم سے ہرکام کیلئے۔
یعنی ملائکہ رحمت ومغفرت اور حضرت جبرائیل کایہ نزول ازخود نہین ہوتا بلکہ تمام ترامرالہٰی کی تعمیل میں ہوتا ہے۔
انہیں حکم دیاجاتا ہے کہ زمین کے اطراف واکناف میں اس کے مشارق ومغارب میں پھیل کر میرے محبوب ﷺ کے امتیوں کی زیارت کرو انہیں سلامتی وعافیت کی خوشخبریاں پہنچاؤ اور نوید رحمت سناؤ ان سے سے مصافحہ کروان کے حق میں دعائے عفووعافیت اور التجائے بخشش ومغفرت کرو جویاد الہٰی میں مصروف رحمت حق سے لولگائے بیٹھا ہے۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔
یعنی شب قدر میں نازل ہونے والی رحمتیں اور برکتیں اوریہ روح پرور اور ایمان افروزکیفیتیں رات کسی خاص حصے کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ رات بھر صبح کے طلوع ہونے تک برابر جاری وساری رہتی ہیں۔ ساری رات رحمت باری پکار پکار کراپنے بندوں کو بلاتی اور گوہر مقصود سے ان کے دامن بھرنا چاہتی ہے۔

Your Thoughts and Comments