Sulah Hudebya

صلح حدیبیہ

ہجرت کے پانچویں سال غزوہ خندق کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ نے پیشین گوئی فرمادی تھی کہ ”اب قریش تم پر چڑھائی نہیں کرسکیں گے “۔چنانچہ چھ ہجری میں آپ ﷺ نے ایک بار فجرکی نمازکے بعد مسلمانوں کو بتایا میں نے خواب دیکھاہے کہ خانہ کعبہ کاطواف کررہاہوں

Sulah Hudebya
ہجرت کے پانچویں سال غزوہ خندق کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ نے پیشین گوئی فرمادی تھی کہ ”اب قریش تم پر چڑھائی نہیں کرسکیں گے “۔چنانچہ چھ ہجری میں آپ ﷺ نے ایک بار فجرکی نمازکے بعد مسلمانوں کو بتایا میں نے خواب دیکھاہے کہ خانہ کعبہ کاطواف کررہاہوں۔نبی کاخواب صرف سچاہی نہیں ہوتابلکہ وہ وحی ہونے کے ناطے حکم ربی ہوتاہے اور اسے پوراکرناضروری ہوتاہے اس لیے عمومی طورپر کل مسلمان اورمہاجرین خصوصی طور پر نہایت خوش ہو گئے کہ چھ سالوں کی طویل مدت کے بعد وہ حرم شریف کا سفرکریں گے اوراپنے آبائی شہر کو روانہ ہوں گے۔
کم وبیش چودہ سو مسلمان آپ کے ہم رکاب تھے اور عمرہ کی نیت سے اور قربانی کے جانوروں ، ستراونٹوں،کی معیت میںآ پﷺ بغیرکسی جنگی ہتھیار کے عازم حرم مکہ ہوئے۔

محسن انسانیت ﷺ نے خاص طور پر اس مقصد کے لیے ،ذوالقعدہ،ایک محترم مہینے کاانتخاب فرمایاجس میں جنگ منع تھی تاکہ قریش مکہ پر واضع ہوسکے کہ مسلمان لڑائی کے لیے نہیں بلکہ خالصتاََعمرے کی نیت سے آرہے ہیں۔

ام المومنین حضرت ام سلمہ بھی اس سفر سعادت میںآ پ ﷺ کے ہمراہ تھیں۔راستہ میں ”ذوالحلیفہ“کے مقام پر آپ نے احرام بھی باندھ لیاجس سے دنیاپر اور خاص طورپراہل مکہ پر واضع ہوگیاکہ اس لشکر نبوی ﷺکے کوئی جنگی عزائم نہیں ہیں اوریہ خالصتاََایک مذہبی سفرہے جو زیارت کعبةاللہ کے لیے کیا جارہاہے۔جیسے جیسے مکہ کی وادی قریب آتی جارہی تھی اہل مکہ کی طرف سے تکلیف دہ خبریں ملتی چلی جارہی تھیں چنانچہ آپﷺ نے مکہ داخل ہونے سے پہلے ”حدیبیہ‘نامی ایک کنویں کے جوار میں پڑاوٴڈال دیاتاکہ براہ راست ٹکراوٴ سے بچاجاسکے۔

دوسری طرف اہل مکہ نے طے کرلیاکہ وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ مسلمانوں کو ”بے دین“،باغی“اور”بھگوڑے “سمجھتے تھے۔اہل مکہ خودکو مذہبی ٹھیکیدارخیال کرتے تھے اور جوبھی ان کے مذہب کومانے گاوہ تو دیندارہے مگرجوکوئی ان کے مذہب سے انکارکرے گاوہ دہریہ ہے،کافرہے،لادین ہے،مرتدہے اورگویاان کا مجرم ہے،اور اس قبیل کے افرادکوکوئی حق نہیں کہ وہ خانہ کعبہ کاطواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کرسکیں۔
ان خیالات کی مالک قریش کی قیادت مسلمانوں کو حرم کی حدود میں داخلے کی روادار نہ تھی جس کے باعث نوجوانان قریش مکہ مسلمانوں سے جنگ پر آمادہ رضا تھے حالانکہ خود ان کے عقیدے کے مطابق اس ماہ مقدس میں اور ان حدود حرم میں جنگ و جدال قطعاََ ممنوع تھی۔لیکن جب خواہش نفس کو خدابنالیاجائے اور مذہب کی تعلیمات مذہبی پروہتوں کے ہاتھ میں کھلونا بن جائیں تو حلال و حرام اور جائزوناجائزکے معیارات تبدیل ہو جاتے ہیں چنانچہ تمام تقدیسی تحریمات کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں سے جنگ کا فیصلہ کر لیاگیااور قریش مکہ کے کچھ دستے خالد بن ولیدجواس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کی قیادت میں شب خون مارنے کے لیے روانہ بھی ہو گئے۔
ان دستوں کی کہیں کہیں چھوٹی موٹی جھڑپیں بھی ہوئیں اور مسلمانوں نے ان کے کچھ افرادپکڑکر خدمت اقدسﷺمیں پیش بھی کر دیے لیکن محسن انسانیت ﷺ نے انہیں رہاکرنے کاحکم دیاکیونکہ آپ ﷺکسی قیمت پر بھی جنگ نہیں چاہتے تھے۔
جنگ سے اعراض کرنے کی اس مسلسل پالیسی نے قریش کو مجبورکیاکہ وہ سفارت کاری پر آمادہ ہوں ۔انہوں نے دارالندوہ میں مشورہ کیااوربنی ہاشم کے دوست قبیلہ ”نبوخزاعہ“کے سردار بدیل بن ورقاع کو بھیجاگیاکہ گفت و شنیدکر کے مسلمانوں تک قریش کا غیض و غضب پہنچاسکے۔
گویااب قریش کی صورتحال ایسی تھی جیسے حالات سے شکست کھایاہوابھیڑیا جہاں سرخ سرخ آنکھوں سے حریف کو گھوررہاہوتاہے وہاں دم بھی ہلارہاہوتاہے کہ شایدمصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ بدیل بن ورقاع نے قریش مکہ کو بتایا کہ اہل مدینہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اور ان کے کوئی عسکری عزائم نہیں ہیں سو انہیں عمرہ کے لیے مکہ آنے کی اجازت دے دی جائے۔
پس قریش کی یہ تدبیر بھی انہیں پر الٹ گئی تھی۔اب کی بار قریش نے بہت ہی بزرگ سردار عروہ بن مسعود کوبھیجااس نے واپس آکر قریش کو مشورہ دیاکہ دیکھواس شخص کے ساتھ جنگ کاارادہ نہ کرو،اس نے کہاکہ ہم نے ساری عمر تجارت کی غرض سے سفرکیے ہیں اور بڑے بڑے سرداروں اور بڑے بڑے بادشاہوں کے لشکری دیکھے ہیں لیکن جس طرح اس شخص کے چاہنے والے ان پر جان نچھاورکرتے ہیں اس کی مثال دنیامیں کہیں اور نہیں دیکھی۔
عروہ نے اہل مکہ کو مشورہ دیاکہ دیکھو تم ان سے کبھی نہیں جیت سکتے پس صلح کی پیشکش کو قبول کرلو۔ابھی سفارت کا سلسلہ جاری تھاکہ مکہ کے شریرذہنوں نے اسی(80) افراجنگی پر مشتمل ایک دستہ کو بھیجاتاکہ مسلمانوں کو ہراساں کیاجاسکے اور وہ مدینہ کی جانب لوٹ جائیں۔وہ دستہ جو مسلمانوں کوخوفزدہ کرنے آیاتھا خود مسلمانوں کے نرغے میں آگیااوراسے خدمت اقدسﷺ میں پیش کردیاگیا،جنگ سے چونکہ اعراض پیش نظر تھااس لیے اس دستہ کو بھی اس لیے آزادکردیاگیاکہ قریش صلح پر آمادہ ہوجائیں۔
جب قریش کی تمام سفارتوں کانتیجہ قریش کی ہٹ دھرمی کے سواکچھ نہ نکلاتو تو آپﷺ نے اپنی سفارت بھیجنے کاارادہ فرمایا۔
محسن انسانیت ﷺنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کواپناسفیربناکر بھیجا،انہوں نے بڑی جرات مندی سے قریش سے کہاکہ اب دوہی راستے ہیں تمہارے سامنے،مسلمانوں کو عمرہ کرنے دویاپھرجنگ کے لیے تیارہوجاوٴ۔قریش مکہ بھلا”باغیوں اورمرتدوں“کوعمرے کی اجازت کیسے دیتے اور ریاست مدینہ طیبہ سے مسلسل چھیڑچھاڑنے اب انہیں جنگ کے قابل بھی نہیں چھوڑاتھاچنانچہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ نہ سے کہاکہ کہ وہ خود طواف کرلیں اور واپس چلے جائیں۔
حضرت عثمان نے اپنے نبیﷺاور ساتھیوں کے بغیرطواف کرنے سے صاف انکارکردیاجس کے نتیجے میں قریش نے ان کااونٹ قتل کردیااورانہیں نظر بندکردیا۔کافی وقت گزرنے کے بعد جب حضرت عثمان رضی اللہ عن نہ لوٹے تومسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیاگیاہے۔اس پرمحسن انسانیتﷺ ببول کے ایک درخت تلے تشریف فرماہوئے اور فرمایاکہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کابدلہ لیناہم سب پر لازم ہے ،کون ہے جواس کاروائی میں میراساتھ دے گا؟چودہ سوکے چودہ سو مسلمانوں نے آپﷺکے ہاتھ پر قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے انتقام پر بیعت کی۔
اللہ تعالی نے اس بیعت پراپنی خوشنودی کاپیغام بھیجااور سورہ فتح میں اللہ تعالی نے ان تمام افرادپراپنی رضامندی کا اظہارکیاجنہوں نے آپ ﷺکے ہاتھ پر بیعت کی تھی،اسی لیے اس بیعت کو ”بیعت رضوان “ کہتے ہیں۔یہ اطلاع جب وادی مکہ کے مکینوں تک پہنچی توان کے پاوٴں تلے سے زمین سرک گئی اب ان کے لیے ”باغیوں اور بھگوڑوں“سے صلح کے سواکوئی راستہ نہ تھا۔

”خطیب قریش“ سہیل بن عمروجوزبان دانی میں اور خطابت میں اپنا ثانی نہ رکھتاتھاقریش کی طرف سے جب مسلمانوں کے لشکرمیں پہنچاتوجنگی تیاریاں دیکھ کربہت گھبرایااورفوراََخدمت اقدس میں پہنچ کرعرض کی کہ عثمان رضی اللہ عنہ ابھی زندہ ہیں اور تھوڑی دیر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہنچ بھی گئے جس سے مسلمانوں کاغصہ تھم گیا۔بیٹھتی جھاگ دیکھ کرعروہ نے آپﷺکی خدمت میں عرض کیاکہ چندشرا ئط مان لیں تو ایک خوفناک جنگ ٹل سکتی ہے۔
شرائط پیش کی گئیں،جواگرچہ بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں لیکن چونکہ فراست نبویﷺبہت دورتک دیکھ رہی تھی اورپہلی بار یہود سے صلح کرکے قریش سے ٹکر لی گئی اور اب کی بار ہرقیمت پر اس مورچے کوخاموش کر کے تویہود کاقلع قمع کرنا مقصود تھااس لیے یہی شرائط قدرے قدوغد کے بعد مان لی گئیں:۔
1۔اس سال لوٹ جائیں اور اگلے سال عمرے کے لیے نہتے آئیں اورتین دن قیام کے بعد چلے جائیں۔

2۔اہلیان مکہ میں سے کوئی مدینہ آیاتواسے واپس کیاجائے گااورکوئی مسلمان مکہ آیاتواسے واپس نہیں کیاجائے گا۔
3۔اگلے دس سالوں تک فریقین میں جنگ نہیں ہوگی اورقبائل عرب جس فریق کے ساتھ چاہیں مل سکتے ہیں۔
ان یکطرفہ شرائط کے علاوہ بھی معاہدہ نامہ لکھے جاتے وقت قریش کی طرف سے کچھ بدتمیزیاں دیکھنے میں آئیں لیکن فراست نبویﷺ نے انہیں برداشت کیا۔
ابھی دستخط ہونا باقی تھے کہ کچھ مسلمانان مکہ جنہیں قریش نے قیدمیں ڈال رکھاتھاکسی طرح آزادہوکرلشکراسلام میں پہنچ گئے لیکن قول وقرارکی بنیادپر آپﷺ نے انہیں اہل مکہ کے حوالے کردیاتاہم کچھ ہی دیر بعدچند خواتین اسلام بھی مکہ سے فرارہوکر لشکراسلام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔سہیل بن عمرونے کہاکہ انہیں بھی ہمارے حوالے کردیں لیکن محسن انسانیت ﷺنے انکارکردیاااورکہاکہ معاہدے میں مردوں کا ذکر ہے عورتوں کانہیں۔
ان شرائط پرعام مسلمان مطمئن نہیں تھے لیکن یہ مسلمانوں کی سیاسی فتح تھی کہ اہل مکہ نے ”بھگوڑوں اور لادینوں“کواپنے ہم پلہ مان کر ان سے معاہدہ کیاتھااسی لیے چنددن بعد جب سورة فتح میں اس صلح کو ”فتح مبین“کہاتومسلمانوں کو اطمنان ہوگیا۔صلح نامہ کی تکمیل کے بعد مسلمانوں نے اسی مقام پر قربانیوں کے جانور ذبح کیے حلق کرایااوراحرام کھول دیے۔

معاہدے کی پہلی شرط کے مطابق اگلے سال مسلمان مکہ میں وارد ہوئے اوراپنے نبیﷺ کی امامت میں عمرہ اداکیا۔قریش کواپنی آنکھوں سے ان”بھگوڑوں اورباغیوں اور “کاطواف کرتے دیکھنا قبول نہ تھااس لیے وہ پہاڑوں کی طرف سدھارگئے اور مکہ خالی کردیا۔مسلمانوں نے بڑے اطمنان سے تین دنوں تک حرم کعبہ کی فیوض و برکات کوسمیٹااورلوٹ آئے اور اس طرح نبی ﷺکاخواب پورا ہوگیا۔
دوسری شرط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھی لیکن فراست نبویﷺنے اسے قبول کیاجس کا نتیجہ یہ ہواکہ مکہ سے بھاگنے والے مسلمان نوجوانوں نے قریش کے قافلوں کوپریشان کرنا شروع کر دیا۔مکہ سے بھاگے ہوئے یہ مسلمان قریش مکہ کے قافلوں کو،جنہیں پورے عرب میں کوئی پریشان نہ کرتاتھا،انہیں یہ نوجوان خالی نہ جانے دیتے تھے۔قریش مکہ نے جب ریاست مدینہ طیبہ سے رجوع کیاتوریاست کی طرف سے انہیں صاف جواب مل گیاکیونکہ یہ نوجوان مسلمان تو تھے لیکن ریاست مدینہ طیبہ کے شہری نہ تھے۔
چنانچہ جب قریش بہت پریشان ہوئے تواس شرط سے دستبردارہوگئے اور محسن انسانیتﷺ نے ان نوجوانوں کو مدینہ بلالیا۔دوسری شرط کے دوسرے حصے کے باعث اہل مکہ بلاروک ٹوک مدینہ طیبہ جانے لگے اورمسلمانوں کاقائم کردہ معاشرہ دیکھ کر اس قدر متاثرہوئے کہ اہل مکہ کے مسلمان ہونے کی شرح میں بہت اضافہ ہوگیاااورخالد بن ولید اورعمروبن العاص جیسے لوگ بھی اسی دوران مسلمان ہو گئے۔
تیسری اور آخری شرط کے باعث مسلمانوں نے یہودیوں کازورتوڑدیااوراتنی سرعت سے یہ کاروائی کی کہ ذوالقعدہ میں یہ معاہدہ ہوا اورمحرم میں خیبرپر چڑھائی کردی گئی۔اور پھرتاریخ نے ثابت کیاکہ یہی تیسری شرط فتح مکہ کا مقدمہ بنی اور مسلمانوں کوباغی،کافر،مرتداور بھگوڑے سمجھنے والے خود تاقیامت ان استعارات کے مستحق ٹہرے۔

Your Thoughts and Comments