Syed Gharana

سیّد گھرانا

ایک سیّد گھرانا خوشحال تھا۔گھر کا مالک بچیاں اور بیوی چھوڑ کر ملک عدم روانہ ہوا۔ والد کی وفات کے بعد بچیاں بے سہارا ہو گئیں۔حتیٰ کہ فاقوں تک نوبت آئی تو انہوں نے اپنے گھر کو چھوڑ کر شہر کی راہ لی۔شہر میں ایک بے آباد مسجد میں ڈیرہ ڈال دیا اور

Syed Gharana
ایک سیّد گھرانا خوشحال تھا۔گھر کا مالک بچیاں اور بیوی چھوڑ کر ملک عدم روانہ ہوا۔ والد کی وفات کے بعد بچیاں بے سہارا ہو گئیں۔حتیٰ کہ فاقوں تک نوبت آئی تو انہوں نے اپنے گھر کو چھوڑ کر شہر کی راہ لی۔شہر میں ایک بے آباد مسجد میں ڈیرہ ڈال دیا اور بچیوں کی والدہ ایک صاحب ثروت مسلمان کے گھر گئی اور اپنی بپتا کہنانی سنائی ۔اس پر اس امیر مسلمان نے کہا کہ تم اپنے سّید ہونے کا ثبوت فراہم کرو اور میرے پاس گواہ لاوٴ۔
وہ پریشانی میں اس کا در چھوڑ کر مجوسی کے ہاں میں بچیوں کے چلی گئی اس مجوسی نے ان کی نہائیت اعلیٰ طریق سے آوٴ بھگت کی۔رات خواب میں اس امیر آدمی نے دیکھا کہ روزِ حشر ہے اور حضورﷺ پرحمد کا پرچم لہرا رہا ہے اور قریب ایک جنت کا محل ہے ۔اس نے کہا یا رسول اللہﷺ ! یہ محل کس کا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان کے لیے ہے ۔

اس نے کہا میں آپ کا مسلمان ہوں۔

آپ ﷺ نے فرمایا! اس کے ثبوت کے لیے گواہ لاوٴ۔ اب وہ بہت حیران ہوااس کی حیرانی دیکھ کر آپ نے فرمایا،اُس عورت سے تم نے سیّدہ ہونے کی گواہی طلب کی تھی؟ اس پر اس کی آنکھ کُھل گئی اس نے بہت کوشش کر کے مجوسی کے ہاں اُسی سیّدہ اور بچیوں کو تلاش کر لیا اور مجوسی کی خوشامد شروع کر دی کہ اُن عورتوں کو میرے ہاں بھجوا دو۔اس مجوسی نے انکار کر دیا کہ ان کی بدولت میرے ہاں بہت سی نعمتیں آئی ہیں اور مجھے برکات نصیب ہوئی ہیں۔
اس پر اس امیر آدمی نے مجوسی کو نقدی کا جھانسا بھی دیا کہ ایک ہزار دینار کی رقم لے لو اور اُنہیں میرے ہاں بھجوا دو۔اس کے بعد امیر شخص نے صبر کا ارادہ کیا تو مجوسی نے کہا! تو نے خواب میں جو محل دیکھا تھا وہ میرے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ تم اپنے توحید پرست ہونے کے دعویدار ہو۔اللہ کی قسم ہم رات سونے سے پہلے ہی مسلمان ہو چکے تھے تو نے دیکھا آپ ﷺنے فرمایا سیّد زادیاں تمہارے گھر میں ہیں؟ میں نے عرض کیاجی ہاں، رسول اللہﷺ نے فرمایا! وہ محل تیرے اور تیرے اہل و عیال کے لیے ہے ۔ وہ امیر مسلمان ہاتھ ملتا رہ گیا۔

Your Thoughts and Comments