Tajdar E Saddaqat K Ausaaf O Kamalat

تاجدارِ صداقت کے اوصاف وکمالات

صحابہ میں سب سے افضلیت کا شرف اُسے حاصل ہو ا جسے نبی محترم ﷺ نے زبانِ نبوت سے انبیاء کے علاوہ تمام انسانوں سے افضل قرار دیا ، جسے سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف ملا ، جسے صدیق اکبر کا لقب عطا ہوا ، جسے یار غار ومزار کا تمغہ ملا

Mufti Muhammad Asghar مفتی محمد اصغر جمعہ فروری

Tajdar e Saddaqat K Ausaaf O Kamalat
اللہ تعالیٰ کے آخری نبی جناب حضرت محمد ﷺ تمام جہانوں کے لیے نبی رحمت بنا کر بھیجے گئے ، آپ تمام نبیوں کے امام اور تمام رسولوں کے سردار تھے ، آپ کو بہت سی خوبیوں اور ان گنت خصوصیات وکمالات سے نوازا گیا ، آپ کے مبارک سر پر ختم نبوت کا تاج سجایا گیا ، آپ کو اپنے دین کی اشاعت اور مدد ونصرت کے لیے ایسی جماعت عطا کی گئی جسے حضرات صحابہ کرام  کہا جاتا ہے ، آپ سے قبل کسی نبی کو ایسی پاکیزہ او ر قدسی صفا ت جماعت نہیں ملی ، تمام صحابہ خیرِ امت تھے ، تمام صحابہ تقویٰ وطہارت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ، تمام صحابہ عادل اور اخلاق محمدی کا پرتاوٴ تھے ، مگر جس طرح ایک گلدستہ کے مختلف پھولوں میں ہر پھول کی خوشبو دوسرے سے جدا اور منفرد ہے اسی طرح صحابہ میں ہر صحابی کی شان، عظمت،مزاج اور اخلاق وعادات دوسرے سے مختلف ہے ، صحابہ میں سب سے افضلیت کا شرف اُسے حاصل ہو ا جسے نبی محترم ﷺ نے زبانِ نبوت سے انبیاء کے علاوہ تمام انسانوں سے افضل قرار دیا ، جسے سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف ملا ، جسے صدیق اکبر کا لقب عطا ہوا ، جسے یار غار ومزار کا تمغہ ملا ، جس نے بغیر کسی پس وپیش کے نبی کی نبوت کا اقرار کیا ، جس نے ایمان لانے کے بعد نبی کی صحبت اور دیدار کو دنیا کی قیمتی ترین متاع قرار دیا ، جو نبی کے سفر وحضر کا رفیق بنا ، جو مزاج شناسِ نبوت تھا ، جو محبوب ِبارگاہ اور محرم اسرارِ نبوت تھا ۔

نبی محترم ﷺ اور حضرات شیخین حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی اللہ عنہما کے مزاج میں یکسانیت تھی اور یہ تینوں ہم مزاج تھے ، صاحبِ مشکوة ،امام محمد بن عبداللہ  نے ایک حدیث ذکر کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں حضرات کے مزاج وحالات میں بہت زیادہ مماثلت اور یکسانیت پائی جاتی تھی اور یہ ہم مزاج ہونے کی نشانی ہے گویا یہ ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ  فرماتی ہیں کہ نبی محترم ﷺ کی وفات سے چند دن قبل میں نے خواب دیکھا کہ میرے گھر میں تین چاند اترے ہیں ،میں نے خواب اپنے ابّا جی حضرت ابوبکر صدیق  سے بیان کیا ،انہوں نے اس کی تعبیربتاتے ہوئے فرمایا: کہ تیرے گھر میں دنیا کے تین بہترین افراد دفن ہونگے ، چنانچہ چند دنوں کے بعد نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور آپ میرے حُجرے میں دفن کئے گئے تو حضرت ابوبکر صدیق  نے عرض کیا کہ اے عائشہ ! یہ تمہارے تین چاندوں میں سے بہترین چاند ہے پھر حضرت ابوبکر صدیق  کا وصال ہوا تو انہیں نبی محترم ﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا ،یہ دوسرا چاند تھا پھر حضرت عمر  شہید ہوئے ،تو ان کو بھی نبی محترم ﷺ کے دوسرے پہلومیں دفن کیا گیا، یو ں یہ تیسرا چاند بھی حضر ت عائشہ  کے حُجرے میں پہنچ گیا ،جن کا مزاج بھی ایک تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو مزار بھی ایک دے دیا اورانشاء اللہ قیامت کے دن گنبد خصرا کے یہ تینوں مکین ایک ساتھ حجرئہ عائشہ  سے اکٹھے اٹھیں گے ۔
ایک دن اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور مختلف لوگوں کو الگ الگ دروازوں سے پکارا جائے گا، حضرت سیدنا صدیق اکبر  نے عرض کیا ، یارسول اللہ ! کیا کو ئی ایسا خوش نصیب انسان بھی ہوگا جسے جنت کے تمام دروازوں سے بیک وقت پکارا جائے گا ؟ نبی محترم ﷺنے فرمایا کہ ہاں ! وہ خوش نصیب تم ہی ہو ، تمہیں تما م دروازوں سے پکار ا جائے گا ۔
۹ئھ میں افواہ پھیلی کہ روم کا بادشاہ پورے عرب پر حملہ کرنا چاہتا ہے ،یہ صحابہ  کا نہایت عُسرت اور تنگ حالی کا زمانہ تھا ، اللہ کے نبی ﷺ نے جہادی مہمات اور جنگی تیاریوں کے لیے انفاق فی سبیل اللہ ( چندے ) کا اعلان فرمایا ، تمام صحابہ  نے حسب حیثیت واستطاعت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، حضرت عثما ن  بہت دولت مند تھے اس لیے انہوں نے بہت بھاری مقدار میں مالی خدمت پیش کی ، لیکن سیدنا صدیق اکبر نے تو کما ل ہی کردیا کہ گھر کا سارا اثاثہ ہی لا کر پیشِ خدمت کردیا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھر کے اہل وعیا ل کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ فرمایا :اُن کے لیے اللہ اور اس کا رسول کافی ہے ۔
حضرت ابوبکر صدیق جب ایما ن لائے تھے تو اس وقت ان کی ملکیت میں چالیس ہزار درہم نقد موجود تھے انہوں نے وہ ساری کی ساری رقم راہ خدا میں خرچ کردی ، نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر صدیق  کے ما ل سے زیادہ کوئی مال میرے لیے مفید نہیں ہوا ، ابوبکر صدیق  سے زیادہ مجھ پر جان ومال کے لحاظ سے کسی کا احسان نہیں ، آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اے اللہ ! میں دنیا میں سب کے احسانات کا بدلہ دے چکا ہو ں لیکن ابوبکر کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکا توہی قیامت کے دن اس کا بدلہ دے دینا ۔
نبی محترم ﷺ تشکر وامتنان کے طور پر حوصلہ افزائی کے یہ جملے جب ارشاد فرماتے ،تو حضرت ابوبکر صدیق  آبدیدہ ہوکر عرض کرتے ،یا رسول اللہ ﷺ ! جان ومال سب ہی آ پ کے لیے ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق  خیر کے کاموں میں ہمیشہ آگے آگے ہوتے تھے ، صدقات وخیرات میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ، حضرت عمر  نے بارہا مسابقت کی کوشش کی ، لیکن ان کے مقابلے میں کبھی بھی کامیا ب نہ ہوسکے ، تب ایک دن فرمانے لگے ، ابوبکر ! میری پوری زندگی کی ساری نیکیاں آپ لے لیں اور مجھے غار ِ ثور والی صرف ایک رات کی نیکی دے دیں ۔
سخاوت وفیاضی کا یہ سلسلہ حضرت ابوبکر صدیق  کے آخر ی لمحہء حیات تک بھی تسلسل سے جاری رہا ، یہا ں تک کہ وفات سے کچھ دیر قبل بھی فقرا ومساکین کو یاد رکھا اور ان کے لیے اپنے مال سے ایک خمس کی وصیت فرمائی ۔ حضرت ابوبکر صدیق  کی پوری زندگی ایک با وفا ، مخلص ، جان نثار ، دیانت دار، امانت داراور سچے عاشق وسچے دوست کے طور پر ہمیشہ یا درکھی جائے گی، حضرت ابوبکر صدیق  نے نبی محترم ﷺ کی اعانت ورفاقت کا حق ادا کردیا اور دوستوں کے لیے بے لوث سچی دوستی کا نمونہ قائم کردیا ، لوگ تا قیامت اس سچی دوستی کا حوالہ دیتے رہیں گے ۔
حضرت ابوبکر صدیق  کی زندگی عظیم الشان کارناموں سے لبریز ہے ، انہوں نے نبی محترم ﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا دوسال تین ماہ کا بہت ہی قلیل عرصہ پایا ہے ، اس مختصر سی مدت میں بھی عظیم الشان کارنامے انجام دیے ہیں،نبی محترم ﷺ کے وصال کے بعد فتنے آندھیوں کی طرح اسلام پر ٹوٹ پڑے تھے ، قریب تھا کہ اسلام کا نام ونشان ہی مٹ جاتا لیکن حضرت ابوبکر صدیق  نے اپنی فہم وفراست اور حکمت وبصیرت کے ساتھ اسلام کو پھر سے دوبارہ زندہ کردیا،تب ہی تو حضرت عبد اللہ ابن مسعود  نے فرمایا تھا کہ”ہم نبی ﷺ کی وفات کے بعد ایسے حالات میں گِھر گئے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق  کو ہمارا خلیفہ بنا کر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم ہلاک ہوجاتے،یہی وجہ ہے کہ دنیاے اسلام حضرت ابوبکر صدیق  کو اپنا سب سے بڑا محسن سمجھتی ہے اور ان کے ان گنت احسانات سے مسلمانوں کی گردنیں اب تک بھی جھکی پڑی ہیں ۔
حضرت ابوبکر صدیق  نے خلافت کا منصب سنبھالتے ہی سب سے پہلے جو پالیسی خطبہ ارشاد فرمایا ،اس کے مندرجات حسب ذیل ہیں ”لوگو ! میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں ، حالانکہ میں تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہوں ، اگر میں اچھا کام کروں توتم میری اعانت کرو اور اگر برائی کی طرف جاوٴں تو تم مجھے سیدھا کردو ، صدق امانت ہے اور کذ ب خیانت ہے انشاء اللہ تمہار کمزور فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے یہا ں تک کہ میں اس کا حق واپس دلادوں اور تمہارا قوی مرد بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق دلا دوں ، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیتی ہے اللہ اس کو ذلیل وخوار کردیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے اللہ اس کی مصیبت کو بھی عام کردیتا ہے ، میں اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کی اطاعت کروں تو تم میری اطاعت کرو مگر جب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ۔
خدا تم پر رحم کرے۔“حضرت ابوبکر صدیق  کے تجدیدی کارناموں میں مدعیان نبوت کا قلع قمع کرنا ، مرتدین کی سرکوبی کرنا ، منکرین زکوٰة سے جہاد کرنا، قرآن کریم کی جمع وترتیب اور مختلف جہادی مہمات انجام دینا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسلام کو اپنی اصلی شکل وصورت میں قائم رکھنے کی پوری پوری کوشش کرنا شامل ہے حضرت ابوبکر صدیق  ۲۲جمادی الثانی ۱۳ئھ کو ۶۳ سال کی عمر میں دارالفنا سے دارالبقا کی طرف کوچ کر گئے ، ہر سال ۲۲ جمادی الثانی کو امت مسلمہ اپنے اس عظیم محسن کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ان کے نقوش ہائے زندگی سے رہنمائی لیتی ہے اور ان کی تعلیمات سے اگلی نسلوں کو روشناس کرانے کا عزم ظاہر کرتی ہے ۔
اللہ تعالی ٰ امت مسلمہ کی اس کوشش کو بار آور فرمائے اور ان کو کامیابیوں سے ہمکنارفرمائے آمین ۔

Your Thoughts and Comments