Urah Al-Hujurat - Article No. 3486

سورة الحجرات (آداب اور شان رسالت ﷺ و مسلمانوں کے لئے اہم ہدایات) - تحریر نمبر 3486

سورة الحجرات میں جہاں نبی کریم ﷺ کے مقام کی بلندی، آداب رسالت ﷺ اور شان رسالت ﷺ اور آپ ﷺ کی عظمت کا ذکر ہے وہی پر ہر مسلمان کے لئے اس سورة میں دنیا میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے لئے بہت ہی اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

Muhammad Riaz محمد ریاض پیر اگست

urah Al-Hujurat
سورة الحجرات مدنی سورة ہے یعنی یہ سورة ہجرت کے بعد مدینہ شریف میں نازل ہوئی۔
اس سورة کا نزول کے اعتبار سے 106 واں نمبر ہے جبکہ قرآن مجید و فرقان حمید میں اشاعت کے حساب سے 49 واں نمبر ہے۔ اس سورة کی کُل 18 آیات ہیں۔
سورة الحجرات میں جہاں نبی کریم ﷺ کے مقام کی بلندی، آداب رسالت ﷺ اور شان رسالت ﷺ اور آپ ﷺ کی عظمت کا ذکر ہے وہی پر ہر مسلمان کے لئے اس سورة میں دنیا میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے لئے بہت ہی اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

آداب اور شا ن رسالت ﷺ میں نازل ہونے والی آیات (ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری):
آیت نمبر 1: مومنو! کسی بات کے جواب میں اللہ اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سنتا ہے جانتا ہے۔


آیت نمبر2 : اے اہل ایمان اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اسی طرح انکے روبرو زور سے نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

(یہ آیت مبارکہ روضہ الرسول ﷺ کی جالیوں کے اوپر بھی بہت ہی نمایاں طور پر لکھی ہوئی نظر آتی ہے)۔
آیت نمبر 3: جو لوگ اللہ کے رسول ﷺکے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں اللہ نے انکے دل کو تقوی کے لئے جانچ لیا ہے، انکے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔
آیت نمبر 4 : اے نبی ﷺ جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں۔
آیت نمبر5 : اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر انکے پاس آتے تو یہ انکے لئے بہتر ہوتا، اور اللہ بخشنے والاہے مہربان ہے۔

سورة الحجرات میں مسلمانوں کے لئے زندگی گزارنے کے لئے نمایاں ہدایات والی آیات (ترجمہ مولانا فتح محمد جالندھری):
(1) خبر کی تصدیق ضرور کیا کرو:
مومنو اگر کوئی گناہگار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے توخوب تحقیق کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو، پھرتم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے (آیت نمبر 6)
(2) لڑائی کرنے والے مسلمانوں کے درمیان صلح کرایا کرو:
اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو ، پھر اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع لائے،پس جب وہ رجوع لائے تودونوں فریق میں عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف سے کام لوکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
(آیت نمبر9 )
(3) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں:
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ، تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہوتاکہ تم پر رحمت کی جائے ۔ (آیت نمبر 10 )
(4) مومن کسی مومن کا مذاق نہ اُڑائے:
مومنو! مرد مردوں سے تمسخر نہ کریں ممکن ہے کہ جن کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ممکن ہے وہ جن کا مذاق اُڑا رہی ہیں ان سے اچھی ہوں، اور اپنوں کو آپس میں عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو، ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے، اور جو لوگ توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔
(آیت نمبر 11)
(5) گمان اور تجسس اور غیبت سے پرہیز:
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے پرہیز کروکہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو او ر نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے، تو غیبت نہ کرو اور اللہ کا ڈر رکھو ، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
(آیت نمبر 12 )
(6) قوم اور قبائل بنانے کا مقصد صرف شناخت ہے:
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، بے شک اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والاہے سب سے خبردار ہے۔ (آیت نمبر 13)
(7) اسلام لانے اور ایمان لانے میں فرق:
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہوں کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

(8) مومن کون ہے؟
مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اسکے رسول ﷺ پر ایما ن لائے پھر شک میں نہ پڑے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا، یہی لوگ ایمان کے سچے ہیں۔ (آیت نمبر 15)
(9) اگر آپ مسلمان ہیں تو یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے:
ان سے کہو کہ کیا تم اللہ کو اپنی دیانتداری جتاتے ہو، اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
(آیت نمبر 16 )
یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں، کہدو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دیکھایا بشرطیکہ تم سچے مسلمان ہو۔ (آیت نمبر 17 ) بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے۔ (آیت نمبر 18)
انتہائی اہم نوٹ:
اک مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ پختہ ایمان ہے کہ قرآن مجید و فرقان حمید اللہ کی آخری کتاب ہے جو کہ خاتم النبیین ، آقا کریم، محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی، قرآن مجید کے ترجمہ یا تشریح کرنے کی جسارت مجھ جیسے انتہائی گناہ گار بندہ کے بس کی بات نہیں ہے۔
مجھ جیسا گناہگار بندہ نقل سے نقل کرنے کی کوشش ہی کرسکتا ہے۔ اس لئے تحریر میں خدانخواستہ اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو بندہ ناچیز اللہ کے حضور معافی کا طلبگار ہے ۔ اللہ کریم ہم سب مسلمانوں کو قرآن کریم و فرقان حمید میں درج اللہ کے پیارے رسول ﷺ کی شان رسالت ﷺ کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ، اللہ کریم کی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہوکر پکا، سچا مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Your Thoughts and Comments