Wasiat

وصیت

جب حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا : میرے ملنے جلنے والوں کو ، میرے غلاموں اور خدمتگاروں کو ، میرے ہمسائیوں کو اور رشتہ داروں کو میرے پاس بلاؤ۔

Wasiat
حکایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ :
جب حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا :
میرے ملنے جلنے والوں کو ، میرے غلاموں اور خدمتگاروں کو ، میرے ہمسائیوں کو اور رشتہ داروں کو میرے پاس بلاؤ ۔
جب سب لوگ آگئے تو حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :
میرا آخری وقت قریب ہے ۔
ہوسکتا ہے کہ میں نے تم میں سے کسی کے ساتھ ہاتھ یا زبان سے زیادتی کی ہو، اور وہ اللہ تعالیٰ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے روز بدلہ لینے والا ہے ۔ اس لئے میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میں سے ایک ایک کرکے ہر شخص میرے پاس آئے اور جو اس کے دل میں ہو مجھ سے بدلہ لے لے ، اس سے پہلے کہ میری جان نکال لی جائے ۔
لوگوں نے عرض کیا :
اے عبادہ بن صامت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آپ تو ہمارے لئے والد کا درجہ رکھتے ہیں ، ہم کو ادب سکھانے والے تھے اور کبھی اپنے خادم کو بھی برا کلمہ نہ کہتے تھے ۔


یہ سن کر حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :
کیا تم لوگوں نے جو کچھ ہوا ہے سب کچھ معاف کردیا ہے ۔
لوگو نے جواب دیا :
ہاں ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ۔
یااللہ ، توگواہ رہ ۔
اس کے بعد فرمایا ۔
اچھا اگر کوئی بدلہ نہیں لیتا اور مجھے معاف کردیا تو میری وصیت کی حفاظت کرنا ، میں تم میں سے ہر انسان پر اس بات کی پابندی لگاتا ہوں کہ وہ میرے اوپر روئے ، جب میری جان نکل جائے تو سب وضو کرنا اور اچھا وضو کرنا، پھر تم میں سے ہرانسان مسجد میں جائے اور نماز پڑھے اور پھر عبادہ بن صامت اور اس کی جان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ۔

Your Thoughts and Comments