Wazaif Ki Tadaad Maloom Karnay Ka Hukum

وظائف کی تعداد معلوم کرنے کا حکم

کتب احادیث میں کچھ وظائف ایسے ہیں جن کی تعداد مقرر ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کی تعداد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر نہیں کی۔

منگل اپریل

wazaif ki tadaad maloom karnay ka hukum

مُبشّر احمد رَبّاَنی
کتب احادیث میں کچھ وظائف ایسے ہیں جن کی تعداد مقرر ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کی تعداد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر نہیں کی۔
100مرتبہ درود شریف کے متعلق کوئی صحیح حدیث مجھے معلوم نہیں ۔مولانا عطاء اللہ حنیف رحمة اللہ علیہ نے ”پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دعائیں“ص45میں سو بار درود شریف پڑھنے کی سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح اور مغرب کی نمازوں کے بعد کلام کرنے سے پہلے سو بار درود پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی سو ضرورتیں پوری فرماتا ہے ۔

تیس دنیا میں اور ستر آخرت میں ۔لیکن یہ روایت موضوع ہے اس کی احمد بن موسیٰ نے روایت کیا ہے جیسا کہ امام ابن القیم نے” جلاء الافھام“فصل الموطن الثالث والثلاثون من مواطن الصلوة علیہ“
(ص:245)رقم (298)میں باسندز کر کیا ہے اور اسی طرح علامہ سخاوی نے ”القول البدیع“
ص:174میں ذکر کیا ہے اور اس کی سند پر ضعف کا حکم بھی لگایاہے ۔


امام حاکم ‘احمد بن موسیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں ”یہ روایات گھڑ تا تھا اور اسانید کو متن سے ملادیتا تھا”حمزہ السھمی فرماتے ہیں ”اس نے مجاھیل مشائخ سے منکرروایات بیان کی ہیں جن کو کسی دوسرے نے بیان نہیں کیا ۔اس لئے محدثین نے اسے کذاب کہا ہے ۔
امام ذھبی فرماتے ہیں:”احدالوضاعین“روایات گھڑنے والوں میں سے ایک ہے ۔

اور اس کے دیگر روایات بھی مجاہیل قسم کے ہیں علم رجال کی معروف کتب میں ان کا ذکر نہیں ملتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔
حافظ ابن مندہ نے اس روایت کو ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے جسے اما م ابن القیم نے جلاء الافہام ص 242رقم (300)میں ذکر کیا ہے اس میں فجر اور مغرب کی نماز کی قید نہیں بلکہ مطلق طور پر دن میں 100بار پڑھنے کا ذکر ہے ۔

امام ابن القیم اور علامہ سخاوی نے ”القول البدیع “ص 128میں لکھا کہ حافظ ابو موسی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور دونوں بزرگوں نے اس کی تحسین نقل کرکے سکوت کیا ہے ۔حالانکہ یہ روایت بھی من گھڑت یہ ۔حافظ ابوموسی بذات خود وضاع اور روایت گھڑنے والا ہے ۔اس کی تحسین کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے ؟اس کی سند میں عباس بن بکارالضبی ہے جس کے بارے میں امام دارقطنی فرماتے ہیں کذاب :
علامہ ھیثمی فرماتے ہیں ”ضعیف“ہے
امام عقیلی فرماتے ہیں :”اس کی اکثر روایات میں وہم اور نکارت ہے ۔

امام ابن حبان فرماتے ہیں:
اس سے کسی حال میں بھی حجت پکڑنا جائز نہیں اور نہ ہی اس کی روایت کو لکھنا جائز ہے سوائے خواص کے لئے ‘اعتبار کے سبیل پر ۔امام ابن عدی اسے منکرالحدیث قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح اس کا استاد ابوبکر الھذلی جو اس کا ماموں بھی ہے ‘قابل حجت نہیں اور باتفاق محدثین متروک ہے ۔امام یحی بن سعید‘امام یحی بن معین ‘امام ابوزرعہ رازی‘امام ابو حاتم رازی ‘امام نسائی‘امام جوز جانی‘امام یعقوب بن سفیان ‘امام ابو احمد الحاکم وغیر ھم نے اسے ضعیف ‘متروک اور غیر ثقہ قرار دیا ہے ۔

2۔ابو ھریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”جس نے مجھ پر سو مرتبہ درود پڑھا ‘اس کی بخشش کردی گئی۔“
اس روایت کی سند میں سفیان اورا عمش دومدلس راوی ہیں جن کی تصریح بالسماع موجود نہیں اور احمد بن عبدالرحمن بن بحرالسعدی کافی الحال مجھے ترجمہ نہیں ملا۔
3۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے اور جس نے مجھ پر دس مرتبہ درود پڑھا اللہ اس پر سورحمتیں نازل کرتا ہے اور جس نے مجھ پر سو مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان نفاق اور جہنم سے برائت لکھ دیتا ہے اور قیامت والے دن اسے شہداء کے ساتھ جگہ دے گا۔

امام منذری فرماتے ہیں:
اس کی سند میں ابراہیم بن سالم کے بارے جرح اور تعدیل میں نہیں جانتا۔اس طرح اس کی سند میں عبدالعزیز بن قیس بن عبدالرحمن مجہول ہے (تقریب ص 215)
4۔علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے جمعہ والے دن مجھ پر سودفعہ درود پڑھا‘وہ قیامت والے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک نور ہو گا اور اگر وہ نور ساری مخلوق پر تقسیم کردیا جائے تو انہیں کافی ہو گا۔

یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔اس کی سند میں محمد بن عجلان مدلس ہے اور روایت معنعن ہے ۔اس میں سماع کی تصریح نہیں اور اس میں کچھ مجہول راوی ہیں ۔
الغرض مجھے ایسی کوئی صحیح روایت نہیں ملی جن میں درود شریف کے متعلق 100کے عدد کی تعیین ہو البتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنے کا حکم احادیث صحیحہ میں موجود ہے ۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جمعہ والے دن اور جمعہ والی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجو ۔جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔“
مزید احادیث صحیح الجامع اور سلسلہ صحیحہ میں ملا حظہ کریں ۔البتہ صبح وشام دس دس بار درود پڑھنے کی حدیث مو جود ہے جسے امام منذری رحمة اللہ علیہ اور علامہ البانی نے حسن قرار دیا ہے ۔

ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے مجھ پر صبح وشام دس دس بار درود شریف پڑھا قیامت والے دن اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔“
امام منذری فرماتے ہیں:
اسے امام طبرانی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے ان میں سے ایک جید ہے اور علامہ البانی بھی اسے حسن قرار دیتے ہیں ۔
علامہ ھیثمی بھی اس کی ایک سند کو جید قرار دیتے ہیں۔

لہٰذا صبح وشام کے اذکار میں 10بار درود شریف کا عدد صحیح ثابت ہے اسے معمول بنائیں اور پھر چلتے پھرتے‘ اٹھتے بیٹھے درود شریف پڑھتے رہیں بلکہ اگر آپ اپنی ساری دعاؤں کی جگہ درود ہی پڑھتے رہیں تو یہ بھی درست ہے ۔ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رات کو دو تہائی حصہ گزر جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور فرماتے لوگو اللہ کو یاد کرو‘اللہ کو یاد کرو۔
آگیا زلزلے کا جھٹکا ‘اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا۔موت آگئی اپنی ہولنا کیوں کے ساتھ ‘موت آگئی اپنی ہولنا کیوں کے ساتھ۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا اے اللہ کے رسول
”میں آپ پر کثرت سے درود پڑھا کرتا ہوں ۔میں درود کی آپ کے لئے کیا مقدار رکھوں (یعنی اور دعاؤں کے مقابلے میں )آپ نے فرمایا:جس قدر تو چا ہے ۔عر ض کیا کیا ایک چوتھائی ؟فرمایا جتنا تو چاہے ۔
اگر زیادہ کرے تو بہتر ہے۔ عرض کیا نصف فرمایا :جتنا تو چاہے۔ اگر زیادہ کرے تو بہتر ہے عرض کیا ۔دو تہائی ۔فرمایا :جتنا تو چاہے۔اگر زیادہ کرے تو بہتر ہے ۔میں نے عرض کیا‘میں تمام(وقت)
آپ کے درود کے لیے وقف کردوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسی حالت میں تیرے مقاصد کی کفایت کی جائے گی اور تیرے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
یامقسط700بار اور سورہ یاسین72مرتبہ پڑھنا یہ تعدادکہیں ثابت نہیں ۔
لوگوں کے اپنے مقرر کر دہ اعداد ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض اذکار عدد کے تعین کے بغیر اور بعض عدد کے تعین کے ساتھ ثابت ہیں جن کی تفصیل کے لئے آپ راقم کی کتب ”باغیچہ جنت“”حصن المجاہد “اور”پریشانیوں سے نجات“ملاحظہ کریں جن میں احادیث صحیحہ وحسنہ سے اذکاروادعیہ درج کئے گئے ہیں اور جن کی تعداد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے ‘وہ بھی واضح کی گئی ہے اور جو مطلق طور پر دعائیں مذکورہ ہوئی ہیں ‘انہیں بغیر تعداد کے ہی تحریر کیا گیا ہے ۔وباللہ التوفیق
( آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر 3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments