Zakat K FazaiL Or Masail

زکوٰة کے فضائل و مسائل

دین اسلام میں زکوٰة ہر مالدار صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔زکوٰة کی معاشرتی حیثیت ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے۔ اگر ہر صاحب نصاب زکوٰةدینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر سے قرض کی بھیک نہ مانگیں

Zakat K FazaiL Or Masail
مولانا محمد الیاس گھمن :
دین اسلام میں زکوٰة ہر مالدار صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔زکوٰة کی معاشرتی حیثیت ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے۔ اگر ہر صاحب نصاب زکوٰةدینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر سے قرض کی بھیک نہ مانگیں اورزکوٰة ادا کرنے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی مسلمان سود کی لعنت سے بچ سکتے ہیں۔

زکوٰة کی فضیلت:
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً 32 مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰةکو ذکر فرمایا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت معلوم ہو سکتی ہے۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بے شمار احادیث میں زکوٰةکی فضیلت ، ترغیب اور افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ زکوٰةکو دین میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔

اور زکوٰة ادا نہ کرنے والے کو سخت عذاب کی وعید بتلائی گئی ہے۔

ایک حدیث میں ہے ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ ﷺکا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰةادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ (راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی آیت کا مصداق ہمیں سمجھایا اور یہ آیت تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے)اور ہرگز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہوگی بلکہ یہ بات ان کی بہت بری ہے وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنادیے جائیں گے اس کا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا۔

صاحب نصاب کون ہے ؟:
جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردو عورت کو صاحب نصاب کہا جاتا ہے۔
واجب ہونے کی شرائط:
مسلمان ہونا، نصاب کا پورا ہونا، عاقل بالغ ہو، اس پر سال گزر جائے۔

زکوٰةکے چند اہم مسائل:
مسئلہ1: اگر کسی کی آمدنی کافی ہے لیکن وہ مقروض ہے اور خرچہ زیادہ ہونے کی وجہ سے قرض ادا کرنے پر قادر نہیں تو ایسے آدمی پر زکوٰة واجب نہیں۔
جس شخص کی ماہانہ آمدنی معقول ہے لیکن سال بھر تک اس کے پاس نصاب کی مقدار جمع نہیں رہتی اور اس پر زکوٰةواجب نہیں۔ اگر ادھار کی رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو وصول ہونے کے بعد زکوٰة ادا کرنا لازم ہوگا اگر ادھار کی رقم وصول ہونے میں چند سال کا عرصہ گزر گیا تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰةدینا لازم ہوگا۔
اگر استاد غریب ہے نصاب کا مالک نہیں تو شاگرد کے لیے استاد کو زکوٰة دینا جائز بلکہ مستحق استاد کو زکوٰةدینے کا ثواب زیادہ ملے گا۔مردہ کے ایصال ثواب کے لیے زکوٰةکی رقم دینا جائز نہیں بلکہ دوسری حلال رقم صدقات زکوٰةکے علاوہ سے ایصال ثواب کرنا ہوگا ورنہ میت کو ثواب نہیں ہوگا۔ باپ اور بیٹا مل کر پیسہ کماتے ہیں اور پیسہ والد کے قبضہ میں ہے اور باپ ہی اس میں سے تصرف کرتا ہے اور وہ رقم نصاب کے برابر ہے تو سال گزرنے کے بعد باپ کے لیے زکوٰةادا کرنا لازم ہوگا بیتے کے لیے نہیں کیونکہ ان پیسوں کا مالک باپ ہے ہاں اگر وہ اپنا اپنا پیسہ تقسیم کردیں تو الگ الگ زکوٰة واجب ہوگی۔
اپنے باپ کو زکوٰة دینا جائز نہیں۔ بچہ اگر صاحب نصاب ہے تو نابالغ ہونے کی وجہ سے اس کے مال وغیرہ پرزکوٰةواجب نہیں اور ولی کے لیے نابالغ کے مال سے زکوٰةادا کرنا لازم نہیں ہوگا دوسری عبادات کی طرح بچہ پرزکوٰة بھی واجب نہیں۔ زکوٰةکی رقم سے مکانات بناکر مستحق لوگوں میں تقسیم کرنے سے زکوٰةادا ہوگی البتہ مستحق لوگوں کو مکمل طور پر مالک بنا دینا ضروری ہے مکان کا قبضہ بھی دیدیں رجسٹرڈ کراکر کاغذات بھی ان کے حوالے کر دے تاکہ وہ اپنے اختیار سے جس قسم کا جائز تصرف کرنا چاہے کرسکیں۔
جو رقم زکوٰةکی نیت کے بغیر اد اکی جائے اور جس کو دی جائے وہ خرچ بھی کرلے اب اگر اس مال کو زکوٰةمیں شمار کیا جائے تو وہ درست نہیں اور زکوٰة ادا نہیں ہوگی۔بھابھی، بھائی، بھتیجا، بہن اگر وہ نصاب کے مالک نہیں اور مستحق بھی ہیں اور ان کا کھانا پینا الگ ہو تو ان سب کوزکوٰةدینا جائز ہے۔ بیوی کو اگر شوہر زکوٰةدے تو یہ جائز نہیں۔ اگر بیوی صاحب نصاب ہے تو خود بیوی کوزکوٰةادا کرنا ضروری ہے شوہر پر ضرور ی نہیں۔ زکوٰةایک مسلمان کے لئے فریضہ خداوندی اور عبادت ہے انکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰة ادا نہیں ہوتی بلکہ زکوٰة کا الگ ادا کرنا فرض ہے۔

Your Thoughts and Comments