Zakat Social Security Ka Nizam

زکوٰة سوشل سکیورٹی کا نظام

زکوٰة اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن حکیم میں آتا ہے کہ زکوٰة دیگر سابقہ امتوں میں بھی رائج تھی۔ زکوٰة کے احکام تورات اور انجیل میں بھی موجود ہیں لیکن ان میں مدت مقرر نہیں تھی

Zakat Social Security Ka Nizam
ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی:
زکوٰة اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن حکیم میں آتا ہے کہ زکوٰة دیگر سابقہ امتوں میں بھی رائج تھی۔ زکوٰة کے احکام تورات اور انجیل میں بھی موجود ہیں لیکن ان میں مدت مقرر نہیں تھی جیسے اسلام میں ایک سال کی مدت مقرر ہے۔ زکوٰة کے لغوی معنی پھلنے پھولنے اور طہارت و برکات کے ہیں۔ شریعت میں اس سے یہ مراد ہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحق آدمی کو اپنے مال کے ایک معین حصے کا مالک بنانا ہے۔
زکوٰة کی تمدنی مصلحتیں بہت زیادہ ہیں۔ یہ ایسا اجتمائی سکیورٹی کا نظام ہے جس کے ذریعے معاشرے کے نادار اور مفلوک الحال لوگوں کی عمومی کفالت ہوتی ہے۔اسلام کا یہ نظام صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کی شکل میں شروع ہی سے رائج تھا لیکن فتح مکہ کے بعد 8ہجری میں زکوٰة فرض ہوئی اور محرم 9ہجری میں زکوٰة کے تمام قوانین نافذ ہوئے۔


نصاب زکوٰة ملاحظہ ہو:
چاندی ساڑھے 52تولے (اور بعض کے نزدیک 36تولے ساڑھے 5ماشے)
نفاذ زکوٰة میں مشکلات اور تجاویز:
جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں ملک میں زکوٰة اور عشر کے آرڈیننس مجریہ 1980ء کے بعد اس کے نفاذ کا سلسلہ شروع ہوا۔

دستور پاکستان کی دفعہ 31کے تحت ملک میں زکوٰة کی وصولی اور تقسیم کا ڈھانچہ بنایا گیا۔ مرکزی زکوٰة کونسل، صوبائی زکوٰة کونسلیں، لوکل کونسلیں اور کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ضلعی اور تحصیل کی سطح پر بھی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ زکوٰة کی وصولی اور تقسیم کے حوالے سے بہت سی مشکلات درپیش رہی ہیں۔
1۔زکوٰة حاجت مندوں تک صحیح طور پر نہیں پہنچ پاتی۔
رقم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کیلئے کفالت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
2۔بینکوں میں زکوٰة کی کٹوتی کا سسٹم غلط اور غیر اسلامی ہے۔ زکوٰة تو ایک سال کے بعد نافذ ہوتی ہے۔ بینکوں میں لوگوں کی امانتیں اور قرض بھی پڑے ہوتے ہیں ان پر زکوٰة کی کٹوتی غلط ہے۔
3۔قرآن حکیم عاملین پر خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زکوٰة ان لوگوں پر تنخواہ کی صورت میں خرچ ہوسکتی ہے جواسے اکٹھا کریں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ زکوٰة میلوں ٹھیلوں پر خرچ ہو، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کرائی جائیں۔

4۔ملک میں موجود نظام کی وجہ سے کروڑوں روپے ضائع ہوجاتے ہیں جنہیں کسی صنعت میں لگایا جائے تو غرباء کو ملازمتیں ملیں اور وظائف جاری ہوں۔
5۔نظام زکوٰة کیلئے حکومت کی ہر سطح پر عاملین و ناظمین زکوٰة دیانت دارہوں۔ تاکہ استحقاق کی بنیاد پر ضرورت مند اشخاص اور دینی و معاشرتی بہبود کے اداروں کی کفالت ہو۔
6۔15مارچ 1983ء (ربیع الاول 1983ء) کو عشر اور 20جون 1980ء سے نظام زکوٰة قائم کیا گیا تھا لیکن پیش رفت قابل افسوس ہے۔
گزشتہ 10سالوں میں عشر کی وصولی تشویشناک حدتک کم ہوگئی ہے۔جبکہ زکوٰة کی رقوم 10سال میں 200فیصد بڑھی ہیں۔
7۔زکوٰةایک مالی عبادت ہے۔ عوام الناس کو مختلف میڈیا پر موثر طریقوں سے ترغیب دلانے کی ضرورت ہے۔
8۔حکومت قابل زکوٰة اموال کا از سر نو جائزہ لے کر ایسے اموال کاتعین کرے اوران پر فلاحی ٹیکس لگایا جائے۔ قابل زکوٰة اموال اور زرعی پیداوار سے مذکورہ ٹیکس سے مفلوک الحال افراد کی بہتر معاشی کفالت ہوسکتی ہے۔

9۔مقامی زکوٰة کمیٹیوں کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ 1992ء میں ان کمیٹیوں کی تعداد ملک میں 40ہزار کے لگ بھگ تھی جن سے تقریباً تین لاکھ افراد منسلک تھے۔ کمیٹیوں میں ایماندار با اصول پڑھے لکھے مرد و خواتین اساتذہ کو شامل کیا جائے۔
10۔خوشحال تاجر طبقے اور صنعتی اداروں کے اموال تجارت کو زکوٰة سے مستثنیٰ نہ کیا جائے اس کی سفارش اسلامی نظریاتی کونسل بھی کرچکی ہے۔

11۔پلاٹ، مکان اور صنعتی جائیداد جو آگے منافع کمانے کی غرض سے خریدی جائے۔ ان پر بھی زکوٰة لاگو کی جائے۔ نیز حصص اور سرٹیفیکیٹس پر بھی بازاری شرح سے زکوٰة عائد کی جائے۔
12۔کرائے کی جائیداد سے بھی زکوٰة کاٹی جائے۔ صرف بیوگان اس سے متثنیٰ ہوں جنہیں کرایہ کی آمدنی سے گزر اوقات کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح بڑے بڑے ٹرانسپورٹ مالکان کی بچت پر بھی زکوٰة عائد کی جائے۔

زکوٰة کی تقسیم علاقوں کے لحاظ سے کی جائے۔ اسلام کے اوائل میں عاملین جہاں سے زکوٰةوصول کرتے۔ زکوٰة بچ جاتی تو دارالخلافہ میں امیرالمونین کو بھجوادیتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عاملین زکوٰة کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ ان لوگوں کے قرض ادا کریں جو غریب اور مفلوک الحال ہیں۔ نیز نادار غیر مسلم افراد کی ضرورتیں پوری کریں۔ حضرت عمر کے دور میں حضرت معاذ بن جبل نے یمن سے اموال صدقات میں سے 1/3حصہ خلیفہ کے پاس بھجوادیا۔
حضرت عمر ناراض ہوئے حضرت معاذ نے اگلے سال 1/2حصہ اور اگلے سال کل حصہ حضرت عمر کو بھجوادیا اور وضاحت کی کہ درحقیقت اس وقت زکوٰة لینے والا کوئی نہیں۔ پاکستان میں بھی اس سسٹم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ غربت ختم ہو۔ ملک میں موٴثر قانون رائج کرکے گداگری کو ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ زکوٰة مفلس لوگوں تک صحیح معنوں میں پہنچے۔ زکوٰة کو دستکاری اور چھوٹے درجوں کے صنعتی منصوبوں میں لگایا جائے۔ یہ منصوبے مقامی زکوٰة کمیٹی کی تحویل میں ہوں۔ان تمام اقدامات کیلئے نظام زکوٰة کو قومی و علاقائی سیاست سے الگ رکھنا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments