Zina Ki Tohmat Lagana - Article No. 3524

زنا کی تہمت لگانا - تحریر نمبر 3524

شرعی ثبوت کے بغیر کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے، آج کل معاذ اللہ !یہ گناہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے

Abu Hamza Mohammad Imran Attari ابو حمزہ محمد عمران مدنی اتوار دسمبر

Zina Ki Tohmat Lagana
شرعی ثبوت کے بغیر کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے، آج کل معاذ اللہ !یہ گناہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے ،قرآن پاک کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بے گناہ پر زنا کی تہمت لگاتاہے تواُس شخص سے اس دعوی پر گواہوں کا مطالبہ کیا جائے، اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تواسے حدقذف لگائی جائے گی۔
یعنی :اسّی کوڑے مارے جائیں گے۔ ملحوظ رہے کہ اس طرح کی جتنی بھی اسلامی سزائیں ہیں ،انہیں نافذ کرنے کااختیار عام افراد کو نہیں، بلکہ ان سزاؤں کو نافذ کرنا اسلامی حکومت کا کام ہے۔ جس ملک میں شرعی اسلامی حکومت نہ ہو ، شرعی سزاؤں کانفاذ نہ ہوتو وہاں ایسے شخص پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے ، جس مرد یا عورت پر تہمت لگائی ہے اس سے سچے دل سے معافی مانگے۔

جس طرح سے زنا کا جھوٹے الزام لگانے کی بات کو عام کیا تھا ، اسی طرح اس معاملے میں خود کے جھوٹاہونے کا اعلان کرے ۔ اگروہ شخص اپنی غلطی اور گناہ پر شرمندہ نہ ہو،اعلانیہ توبہ نہ کرے ، جن پر الزام لگایا ان سے معافی نہ مانگے تو ایسے شخص سے تعلقات کو ختم کرلیا جائے کہ قرآن وسنت میں یہ حکم موجود ہے فاسق فاجر ،کبیرہ گناہ کرنے والے افراد کے ساتھ نشست و برخاست نہ رکھی جائے تاکہ انہیں نصیحت ہو اور وہ آئندہ اس گناہ کے ارتکاب سے بچیں ۔

تہمتِ زِنا کی مذمّت قرآن کی روشنی میں
اللہ ربّ العباد عزّوجلّ کا فرمان عبرت نشان ہے:(اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ)
ترجمہ :بے شک وہ جو عیب لگاتے ہیں،بھولی بھالی، پاک دامن ایمان والیوں کو، اُن پر لعنت ہے دنیا،اور آخرت میں، اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اور فرماتا ہے:(وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاوَ اُوۡلٰئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ)
ترجمہ:اورجو پاک دامن عورتوں کو زنا کا عیب لگائیں، پھر چار گواہ زنا کے معائنہ کے نہ لائیں، تو اُنہیں اسّی کوڑے لگاؤ، اور اُن کی گواہی کبھی نہ مانو،اور وہی فاسق و گناہ گارہیں۔

تہمتِ زناکی شرعی سزا:صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی حاشیہ خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:اس آیت سے چند مسائل ثابت ہوئے:
مسئلہ:جو شخص کسی پارسا مرد، یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے، اور اُس معائنہ کے چار گواہ پیش نہ کر سکے، تو اُس پر حدّ واجب ہوجاتی ہے اَسّی کوڑے، آیت میں ”محصنات“ کا لفظ خصوص ِ واقعہ کے سبب سے ہوا ہے، یا اِس لیے کہ عورتوں کو تہمت لگاناکثیرالوقوع ہے۔

مسئلہ: اور ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں، اور اُن پر حدّ جاری ہوچکی ہو، مردودُ الشّھادۃ ہوجاتے ہیں،کبھی اُن کی گواہی مقبول نہیں ہوتی۔مسئلہ:پارسا سے مراد وہ ہیں، جو مسلمان، مکلف، آزاد، اور زنا سے پاک ہوں۔ مسئلہ: زنا کی شہادت کا نصاب، چار گواہ ہیں۔مسئلہ:حدِّ قذف، مطالبہ پر مشروط ہے، جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے، تو قاضی پر حدّ قائم کرنا لازم نہیں۔
مسئلہ:قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحۃََ کسی کو یا زانی کہے، یا کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں، یا اُس کے باپ کانام لے کر کہے: تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے، یا اُس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے، اور ہو اُس کی ماں پارسا، تو ایسا شخص قاذف ہو جائیگا، اور اُس پر تہمت کی حدّآئے گی۔
تہمتِ زنا کی مذمّت احادیث کی روشنی میں :
نبی پاکﷺ نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو، پھر آپ ﷺنے اُن میں بھولی بھالی،پاکدامن مسلمان عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کا بھی ذِکر فرمایا۔

نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
مسلمان سے مراد کامل مسلمان ہے، یعنی:وہ شخص جو ارکانِ اسلام پوری طرح ادا کرے، اور مسلمان اُس سے محفوظ رہیں، اس طرح کہ وہ مسلمانوں کے حُرمت والے اموال اور اُن کی عزّتوں کے درپے نہ ہو، زبان کو ہاتھ پر مقدم کیا کہ زبان کے ذریعے تکلیف وایذاء پہنچانا، باکثرت ہوتا ہے، اور بہت تیزی سے ہوتا ہے۔

نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: تجھے تیری ماں روئے! بروزِ قیامت لوگوں کو نتھنوں کے بل، اُن کی زبان کا کاٹا ہوا ہی گرائے گا۔
اللہ تعالیٰ اس فعلِ بد کی مذمت میں ارشاد فرماتا ہے:(وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَاناً وَّ اِثْماً مُّبِیْناً)
ترجمہ:اور وہ جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان،اورکُھلا گُناہ اپنے سر لیا۔

نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے مملوک غلام،یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی، اگر وہ حقیقۃً ایسا نہ ہو، جیسا کہ ُاس نے کہا،تو بروزِ قیامت اُسے حدِّقذف لگائی جائے گی۔
علامہ مناوی علیہ الرحمۃ اِس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:حدِّ قذف دنیا میں نہیں لگے گی کہ حدِّ قذ ف کے لیے شرط ہے کہ جس پر تہمت لگائی گئی ہو، وہ محصن (پاک دامن ) ہو، اور احصان کے ثابت ہونے کے لیے ایک شرط آزاد ہونا بھی ہے۔اور آخرت میں مالک کو حدّ اس لیے لگا ئی جائے گی کہ اب اُس مالک کی مجازی ملکیت بھی ختم ہوچکی، اس وقت فقط اللہ تعالی ہی کی حکومت ہوگی، کوئی آقا، اور کوئی غلام نہ ہوگا، اب بس اہلِ تقوی ہی کوفضیلت حاصل ہو گی۔

Your Thoughts and Comments