Zul Noorain Hazrat Usman Ghani RA

ذوالنورین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

آقاﷺ نے اپنے دست مبارک کو دست عثمان قراردیا تھا

Zul Noorain Hazrat Usman Ghani RA
مولانا مجیب الرحمن :
خلیفہ سوم، پیکر جو دوسخاسیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور اکرام ﷺ نے کئی بار جنت کی بشارت دی اور آپﷺ کو” عشرہ مبشرہ “ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں بھی شامل ہونے کے سعادت حاصل ہے۔
حضوراکرم ﷺ کی دوبیٹیوں ، حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ کے بعد دیگرے نکاح کی وجہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ” ذوالنورین “ بھی کہاجاتا ہے ۔

آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو ” نورایمان “ سے منور کیا، طبقات ابن سعد کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہیں جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ السابقون الاولون “ کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ حافظ قرآن جامع القران اور ناشر القرآن بھی ہیں، ایک موقعہ پر حضور اکرام ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہر نبی کا ایک ساتھی ورفیق ہوتا ہے میرا ساتھی جنت میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہوگا۔


امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو حضور اکرام ﷺ اپنا لباس درست فرمالیتے اور فرماتے تھے کہ میں اس (عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) سے کس طرح حیانہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
آپ کانام عثمان رضی اللہ عنہ اور لقب ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضور اکرام ﷺ سے ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کی سب سے بڑی شاخ بنوامیہ “ سے ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سفید رنگ، خوبصورت وباوجاہت اور متوازن قدوقامت کے مالک تھے۔ گھنی داڑھی اور دراززلفوں کی وجہ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب لباس زیب تن کر کے ” عمامہ “ سے مزین ہوتے تو انتہائی خوبصورت معلوم ہوتے۔
اعلیٰ سیرت وکردار کے ساتھ ساتھ اپنی ثروت وسخاوت میں مشہور اور ” شرم وحیا “ کی صفت میں بے مثال تھے۔
بڑے پیمانے پر تجارت کی بدولت آپ رضی اللہ عنہ کا شمار صاحبان ثروت میں ہوتا تھا لیکن اس سب کے باوجود رہن سہن، اخلاق واطور اور کردار میں آپ رضی اللہ کا ہر کام سنت نبوی ﷺ سے ہی آراستہ ومزین ہوتا۔ ایک مرتبہ وضوء سے فارغ ہوکر مسکرائے اور لوگوں نے اس موقعہ پر مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرم کی وضوء کے بعد اسی طرح مسکراتے ہوئے دیکھا ہے۔

امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ” بیعت رضوان“ کے موقعہ پر تقریباََ چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خون کابدلہ لینے کیلئے حضوراکرم ﷺ کے دست مبارک پر موت کی بیعت “ کی۔ اس موقہ پر حضور اقدس ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ ” بیعت“ عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔

بنت نبی حضرت سیدہ رقیہ رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد حضور اکرم ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ اس موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں اور ایک روایت کے مطابق حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے ان کوسیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیتا رہتا ۔

جنگ تبوک کے موقع پر پیکر صدقی ووفا ء خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گھر کا تمام سامان اور مال واسباب اور خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نصف مال لاکر حضور اقدس ﷺ کے قدموں میں نچھاور کردیا۔ ایک روایت کے مطابق اس موقعہ پر سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے اور ایک ہزار شرفیاں جنگ تبوک کیلئے اللہ کے راستہ میں دیں۔
حضور اقدس ﷺ منبرمبارک سے نیچے تشریف لائے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت سے اس قدر خوش تھے کہ آپ ﷺ اپنے دست مبارک سے اشرفیوں کو الٹ پلٹ کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ “ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی کام اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس کو دیکھا کہ اول شب سے طلوع فجر تک ہاتھ اٹھا کر سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کیلئے دعا فرماتے رہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تیرے تمام گناہ معاف کردیئے ہیں جو تجھ سے ہوچکے یا قیامت تک ہونگے۔ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس کو بھی اتنا ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کی بغل مبارک ظاہر ہوجائے مگر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کیلئے جب آپ ﷺ دعا فرماتے تھے تو بغل مبارک ظاہر ہوجاتی تھی۔

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک مدت تک ” کاتب وحی ” جیسے جلیل القدرمنصب پر بھی فائزرہے اس کے علاوہ حضور اقدس ﷺ کے خطوط وغیرہ بھی لکھا کرتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ رات کو بہت تھوڑی دیر کیلئے سوتے تھے اور تقریباََ تمام رات نماز وعبادت میں مصروف رہتے آپ رضی اللہ عنہ صائم الدہر“ تھے ،سوائے ایام ممنوعہ کے کسی دن روزہ کاناغہ نہ ہوتا تھا۔
جس روز آپ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن بھی آپ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ ہر جمعتہ المبارک کو دو غلام آزاد کرتے ۔ ایک مرتبہ سخت وقحط پڑا تمام لوگ پریشان تھے اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار اونٹ غلے سے لدے ہوئے آئے تو مدینہ کے تاجروں نے کئی گناہ زائد قیمت پر یہ غلہ خریاند چاہا لیکن آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، میں تم سب لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ” فقراء مدینہ “ کو دیدیا۔
جب حضور اقدس ﷺ مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم کو میٹھے پانی کیلئے بڑی وقت وتکلیف تھی، صرف ایک میٹھے پانی کا کنواں ” بئر رومہ“ تھا۔ جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا جو مہنگے داموں پانی فروخت کیاکرتا تھا۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کنویں کوخرید کر اللہ کے راستہ میں وقف کردے اس کیلئے جنت کی بشارت وخوشخبری ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کنویں کو خرید کر وقف کردیا۔
خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قاتلانہ حملہ میں شیدزخمی ہونے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہوئے لگے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم نے ان سے درخواست کی کہ آپ رضی اللہ عنہ اپناجانشین وخلیفہ مقرر فرمادیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ” عشرہ مبشرہ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے چھ نا مور شخصیات، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو نامزدہ کرکے ” خلیفہ “ کے انتخاب کاحکم دیا۔
بالآخر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 24 میں نظام خلافت سنبھالا اور خلیفہ مقرر ہوئے تو شروع میں آپ رضی اللہ عنہ نے 22لاکھ مربع میل پر حکومت کی۔ اس میں سے بیشتر ممالک فتح ہوچکے تھے لیکن ابھی یہاں مسلمان مستحکم نہیں ہوئے تھے اور خطرہ تھا کہ یہ ممالک اور ریاستیں دوبارہ کفر کی آغوش میں نہ چلی جائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فوج کو جدید عسکری انداز میں ترتیب دیا اور آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور خلافت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کاپہلا بحری بیڑا تیار کرکے ” بحر اوقیانوس “ میں اسلام کا عظیم لشکر اتاراتھا۔

اسلامی فوجوں نے عثمانی دور میں ہی سندھ مکران، طبرستان اور کابل سمیت متعدد ایشیائی ممالک فتح کئے اور اسلامی حکومت یورپ کی سرحد تک پہنچ گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مملکت اسلامیہ میں انتظامی اور رفاعی شعبوں کا اجراء ہوا اور ہرعلاقہ میں سستے انصاف کی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمام صوبوں کے گورنر، قاضی اور ارکان دولت کی چھان پھٹک کرکے نہایت زیرک اور محنتی حاکم مقرر کرتے تھے۔

ابن سعد رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ دوپہر کے وقت مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کچی اینٹ کا تکیہ سرکے نیچے رکھے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ آرام فرما رہے ہیں۔ (اب کثیرجلد 7ص 213)
خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مصر کے بلوائی شہید کرنے کے درپے تھے اور تقریباََ ساڑھے سات سو بلوائیوں نے مدینہ منورہ پر قبضہ کرلیا۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم نے باغیوں کا سرکاٹنے کی اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھ سے یہ نہ ہوگا کہ حضور ﷺ کا خلیفہ ہوں اور خود ہی آپ ﷺ کی امت کاخون بہاؤں۔
ایک موقعہ پر حضورﷺ نے فرمایا تھا۔ اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائیں گے (خلافت عطا کریں گے )۔ جب منافق اسکواتارنے کی کوشش کریں تو اس کو مت اتارنایہاں تک کہ مجھے آملو (شہید ہوجاؤ ) ۔
چنانچہ آخری وقت میں جب باغیوں اور منافقوں نے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور اقدس ﷺ نے عہدلیا تھا چنانچہ میں اس عہد پر قائم ہوں اور صبر کررہا ہوں۔ 35 ذیقعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرہ کیا۔ دوران محاصرہ باغیوں نے چالیس روز تک آپ رضی اللہ عنہ کا کھانااور پانی بند کردیا اور 18ذوالحجہ کو چالیس روز سے بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ، خلیفہ سوم عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ المبارک کے روز، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے روز ہ کی حالت میں انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے 12 دن کم 12سال تک 44لاکھ مربع میل کے وسیع وعریض خطہ پر اسلامی سلطنت قائم کرنے اور نظام خلافت کو چلانے کے بعد جام شہادت نوش کیا۔ رضی اللہ عنہ۔

Your Thoughts and Comments