ZulQarnain Or Yajooj Majooj

ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج

یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ لوگ بلا کے جنگجو و خونخوار اور بالکل ہی وحشی اور جنگلی ہیں۔ جو بالکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں

ZulQarnain Or Yajooj Majooj
شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ:
(۳۹)ذوالقر نین اور یاجوج و ماجوج
ذوالقر نین کا نام ”سکندر“ ہے۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی ہیں حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور جنگوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور یہ ایک بڑھیا کے اکلوتے فرزند ہیں۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرکے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابرہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔
صحیح قول یہی ہے کہ یہ نبی نہیں ہیں۔ بلکہ بندہ صالح ہیں جو ولایت کے شرف سے سرفراز ہیں (صادی ج۳ص۲۱)
ذوالقر نین کیوں کہلائے؟
حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ ذوالقر نین (دو سینگوں والے)کے لقب سے اس لئے مشہور ہوگئے کہ انہوں نے دنیا کے دو سینگوں یعنی دونوں کناروں کا چکر لگایاتھا۔

اور بعض کا قول ہے کہ ان کے دور میں لوگوں کے دو قرن ختم ہوگئے سو برس کا ایک قرن ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے دو گیسو تھے اس لئے ذوالقر نین کہلاتے ہیں۔

اور یہ بھی ایک قول ہے کہ ان کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے۔ اور بعض اس کے قائل ہیں کہ خود ان کے سر پر دونوں طرف ابھار تھا جو سینگ جیسا نظر آتا تھا اور بعضوں نے یہ وجہ بتائی کہ چونکہ ان کے باپ اور ماں نجیب الطرفین اور شریف زادہ تھے اس لئے لوگ ان کو ذوالقر نین کہنے لگے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (مدارک ج۳ ص ۲۳)
اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام روئے زمین کی بادشاہی عطا فرمائی تھی دنیا میں کل چار باد شاہ ایسے ہوئے ہیں جن کو پوری زمین کی پوری بادشاہی ملی۔
ان میں دو مومن تھے اور دو کافر۔ مومن تو حضرت سلیمان علیہ السلام اور ذوالقر نین ہیں۔ اور کافر ایک بخت نصر اور دوسرا نمرود ہے اور تمام روئے زمین کے ایک پانچویں بادشاہ اس امت میں ہونے والے ہیں۔ جن کا اسم گرامی حضرت ”امام مہدی“ ہے (صاوی ج۳ص۲۳)
ذوالقر نین کے تین سفر
قرآن مجید میں حضرت ذوالقر نین کے تین سفروں کا حال بیان ہوا ہے جو سورة کہف میں ہے ہم قرآن مجید ہی سے ان تینوں سفروں کا حال تحریر کرتے ہیں۔
جن کی رو داد بہت ہی عجیب اور عبرت خیز ہے۔
پہلا سفر
حضرت ذوالقر نین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص آب حیات کے چشمہ میں پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ س لئے حضرت ذوالقر نین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا۔
مگر حضرت ذوالقر نین کے مقدر میں نہیں تھا۔ وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے اوہ سب منزلیں طے کرکے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھے اس کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا یہ قوم ”ناسک“ کہلاتی تھی حضرت ذوالقر نین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔
تو حضرت ذوالقر نین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہوگئے۔ اور کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھ سے مقتول ہوگئے!
دوسرا سفر
پھر آپ نے مشرق کا سفرفرمایا یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو یہ دیکھا کہ وہاں ایک ایسی قوم ہے جن کے پاس کوئی عمارت اور مکانات نہیں ہیں۔
ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ سورج طلوع ہونے کے وقت یہ لوگ زمین کے غاروں میں چھپ جاتے تھے۔ اور سورج ڈھل جانے کے بعد غاروں سے نکل کر اپنی روزی کی تلاش میں لگ جاتے تھے۔ یہ لوگ ”منسک“ کہلاتے تھے حضرت ذوالقر نین نے ان لوگوں کے مقابلہ میں بھی لشکر آرائی کی۔ اور جو لوگ ایمان لائے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا اور جو اپنے کفر پر اڑے رہے ان کو تہہ تیغ کردیا!
تیسرا سفر
پھر آپ نے شمال کی جانب سفر فرمایا یہاں تک کہ ”سدین“ ( دو پہاڑوں کے درمیان ) میں پہنچے تو وہاں کی آبادی والوں کی عجیب و غریب زبان تھی۔
ان لوگوں کے ساتھ اشاروں سے بمشکل بات چیت کی جاسکتی تھی۔ ان لوگوں نے حضرت ذوالقر نین سے یاجوج و ماجوج کے مظالم کی شکایت کی اور آپ کی مدد کے طالب ہوئے۔
یاجوج و ماجوج
یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ لوگ بلا کے جنگجو و خونخوار اور بالکل ہی وحشی اور جنگلی ہیں۔
جو بالکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں موسم ربیع میں یہ لوگ اپنے غاروں سے نکل کر تمام کھیتیاں اور سبزیاں کھا جاتے تھے اور خشک چیزوں کو لاد کر لے جاتے تھے۔ آدمیوں اور جنگلی جانوروں یہاں تک سانپ بچھو، گرگٹ اور ہر چھوٹے بڑے جانوروں کو کھاجاتے تھے!
سدسکندری
حضرت ذوالقر نین سے لوگوں نے فریاد کی کہ آپ ہمیں یاجوج وماجوج کے شر اور ان کی ایذار سانیوں سے بچائیے۔
اور ان لوگوں نے اس کے عوض کچھ مال دینے کی پیش کش کی تو حضرت ذوالقر نین نے فرمایا کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔ بس تم لوگ جسمانی محنت سے میری مدد کرو۔ چنانچہ آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان بنیاد کھدوائی۔ جب پانی نکل آیا تو اس پر پگھلائے تانبے کے گارے سے پتھر جمائے گئے اورلوہے کے تختے نیچے اوپرچن کر ان کے درمیان میں لکڑی اور کوئلہ بھروادیا۔
اور اس میں آگ جلوادی۔ اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی پھر پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلادیاگیا جو سب مل کر بہت ہی مضبوط اور نہایت مستحکم دیوار بن گئی! (صادی ج ۳ ص ۲۲ ومدراک و خزائن العرفان)
قرآن مجید کی سورہ کہف میں سے پہلے سفر کا ذکر ہے پھر تک دوسرے سفر کا تذکرہ ہے اور تک تیسرے سفر کی روداد ہے۔

سدسکندری کب ٹوٹے گی؟
حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج و ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر جب محنت کرتے کرتے اس کو توڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اب چلو باقی کو کل توڑ ڈالیں گے۔ دوسرے دن جب اس دیوار کے ٹوٹنے کا وقت آئے گا توان میں سے کہنے والاکہے گا کہ اب چلو۔ انشاء اللہ تعالیٰ کل اس دیوار کو توڑ لیں گے۔
ان لوگوں کے انشاء اللہ کہنے کی برکت اور اس کلمہ کا یہ ثمرہ ہوگا کہ دوسرے دن دیوار ٹوٹ جائے گی۔ یہ قیامت قریب ہونے کا وقت ہوگا۔ دیوار ٹوٹنے کے بعد یاجوج و ماجوج نکل پڑیں گے اور زمین میں ہرطرف فتنہ و فساد اور قتل و غارت کریں گے۔ چشموں اور تالابوں کا پانی پی ڈالیں گے۔ جانوروں اور درختوں کو کھاڈالیں گے۔ زمین پرہر جگہوں میں پھیل جائیں گے۔ مگر مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس ان تینوں شہروں میں یہ داخل نہ ہوسکیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان لوگوں کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور یہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔ قرآن مجید میں ہے ترجمہ: یہاں تک کہ جب کھولے جائیں کے یاجوج وماجوج اور وہ ہربلندی سے ڈھلکتے ہوئے دوڑتے ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments