Abu Sa'd Ibn Abi L Khayr - Article No. 3509

ابو سعد ابن ابی الخیر - تحریر نمبر 3509

ابی الخیر صوفی ازم کی تاریخ میں ایک اہم ترین ہستی ہیں

جمعہ اکتوبر

Abu Sa'd Ibn Abi L Khayr
مسعود مفتی
ابی الخیر صوفی ازم کی تاریخ میں ایک اہم ترین ہستی ہیں۔انہوں نے ان وحدت الوجودی افکار کی نمائندگی سر انجام دی جنہیں بایزید بسطامی(وفات 261 الہجری824/ بعد از مسیح) نے متعارف کروایا تھا۔وہ صوفی شاعری کے بانی تھے۔انہوں نے رباعی تحریر کی اور ان کی شاعری میں اس علامتی اسٹائل اور تصور کی جھلک پائی جاتی ہے جسے فارسی صوفی ازم کے عظیم شاعروں فرید الدین عطار اور جلال الدین رومی نے متعارف کروایا تھا۔
مزید برآں وہ اولین ہستی تھے جنہوں نے فارسی رباعی پر صوفیانہ مہر لگائی۔ان کے والد ابو الخیر دو افروش/پنساری/ عطار تھے۔ابو سعد ابو القاسم اجری یاسین(وفات 380الہجری990/بعد از مسیح) کا حوالہ اپنے وعظوں میں پیش کرتے تھے۔انہوں نے قرآن اور حدیث کا علم ابو علی ظہیر(وفات 389الہجری) سے حاصل کیا تھا۔

درویش لقمان السراکشت (Sarakhst)کی ہدایت پر انہوں نے اپنے آپ کو صوفی ازم کی تعلیم کے حصول کے لئے وقف کر دیا تھا۔

وہ انہیں اپنا مرشد/پیر تصور کرتے تھے اور مشکلات میں ان کی مدد اور معاونت حاصل کرتے تھے۔سعد ابی خیر جزوی طور پر اپنا وقت اپنے والد کے گھر کے ایک کمرے میں تنہائی میں گزارتے تھے اور قریبی خانقاہوں میں بھی مقیم رہتے تھے۔وہ قریبی صحرا کی پہاڑیوں میں اکثر مہینوں بھر کے لئے غائب ہو جاتے تھے اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے تھے۔
انہوں نے دنیا کے ساتھ اپنے تمام روابط منقطع کر لئے تھے اور ترک دنیا اختیار کی تھی وہ غریب غرباء کی مالی امداد کے لئے بھیک مانگتے تھے۔مساجد میں جھاڑو دیتے تھے۔
انہوں نے خوان(Khawaan)میں ماہنا(mahna)کے مقام پر 967الہجری میں جنم لیا تھا۔ابو سعد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ابو علی سینا کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کیے تھے اور جب وہ جدا ہوئے تھے․․․․ایک مقبول عام داستان کے مطابق صوفی بزرگ نے کہا:
”میں جو کچھ دیکھتا ہوں وہ جانتا ہے“
جبکہ فلاسفر نے کہا کہ:
”جو کچھ میں جانتا ہوں وہ دیکھتا ہے“
ابن سعد ابی الخیر کو ایک مرتبہ صوفی ازم کی تعریف کرنے کے بارے میں کہا کیا تھا۔
انہوں نے جواب دیا تھا کہ!
’جو کچھ تمہارے ذہن میں ہے اسے ایک طرف رکھ دو(مثلاً خواہشات اور آرزو وغیرہ)“
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ:
”خدا اور اس کے درمیان پردہ نہ ہی زمین ہے․․․․نہ ہی آسمان ہے اور نہ ہی تخت ہے بلکہ اپنی ذات اور فریب خیال/وہم پردہ ہیں اور جب یہ پردہ ہٹ جاتا ہے تب خدا تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے“
ان سے پوچھا گیا کہ:
”کیسے ایک بزرگ ہستی پانی پر چل سکتی تھی اور کیسے ایک اور بزرگ ہستی ہوا میں اڑ سکتی تھی اور کیسے ایک تیسری بزرگ ہستی آنکھ جھپکنے میں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ سکتی تھی“
انہوں نے جواب دیا کہ:
”مینڈک پانی میں تیر سکتا ہے اور بطخ پانی کو چھوتے ہوئے گزر جاتی ہے“
”کوا اور مکھی ہوا میں سے گزر سکتی ہے اور شیطان ایک لمحے میں مشرق تا مغرب جا سکتا ہے“
انہوں نے مزید فرمایا کہ:
”یہ چیزیں کسی وقعت کی حامل نہیں ہیں۔
یہ انسان ہی ہے جو بنی نوع انسانوں میں سکونت اختیار کرتا ہے․․․․․خرید و فروخت کرتا ہے․․․․․․ شادی بیاہ کرتا ہے اور اپنی ساتھی مخلوق کے ساتھ منسلک رہتا ہے اور اس کے باوجود بھی وہ ایک لمحے کے لئے اپنے خدا کو فراموش نہیں کرتا“

Your Thoughts and Comments