Aik Raat Main Quran Khatam Kara

ایک رات میں قرآن ختم کرنا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کی رو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ایک رات میں قرآن حکیم ختم نہیں کیا

بدھ مئی

Aik Raat Main Quran Khatam Kara
مُبشّر احمد رَبّاَنی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث کی رو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ایک رات میں قرآن حکیم ختم نہیں کیا بلکہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات مختلف اوقات میں مختلف ہوتی تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی زیادہ قرآن پڑھتے اور کبھی کم۔چند ایک احادیث ملا حظہ ہوں :
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
”میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورة بقرہ شروع کی ۔میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو آیت پر رکوع کریں گے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاری رہے میں نے سوچا یہ سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے‘مگر آپ جاری رہے ۔

میں نے کہا شاید یہ پڑھ کر رکوع کریں گے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورئہ نساء شروع کی ‘اسے پڑھا۔
پھر آل عمران شروع کردی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے جب ایسی آیت کے پاس سے گزرتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ تسبیح کرتے اور جب سوال والی آیت کے پاس سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ پکڑتے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا“۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ نے قرات لمبی کر دی ۔
یہاں تک کہ میں نے غلط معاملے کا ارادہ کر لیا۔آپ سے کہا گیا:
آپ نے کیا ارادہ کیا :کہنے لگے میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑدوں“۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو“۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ایک مہینے میں قرآن پڑھ ‘میں نے کہا:میں (اس سے کم وقت میں پڑھنے کی )قوت پاتا ہوں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سات دنوں میں پڑھ اور اس سے زیادہ نہ کر“۔

اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید رخصت دیتے ہوئے فرمایا:
”جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے نہیں سمجھا“۔
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی تین دنوں سے کم میں قرآن ختم نہیں کرتے تھے:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن سے کم میں قرآن نہیں پڑھتے تھے“۔
سنن سعید بن منصور میں بسند صحیح عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
”قرآن مجید کو سات دنوں میں پڑھو اور تین سے کم میں نہ پڑھو“۔

مذکورہ بالااحادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں قرآن مجید ختم نہیں کرتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین راتوں سے کم میں قرآن مکمل نہیں کرتے تھے۔اور عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ کو بھی فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا اس نے اسے سمجھا نہیں ۔لہٰذا مختار مذہب یہی ہے کہ تین دنوں سے کم میں قرآن نہ پڑھا جائے۔
فتح الباری میں ہے کہ
”یہ مذہب امام احمد ‘امام ابو عبید اور امام اسحق بن راہو یہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے اختیار کیا ہے “۔
مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمة اللہ علیہ تحفة الاحوذی 63/4میں رقمطر از ہیں
”میرے نزدیک مختار مذہب وہ ہے جسے امام احمد اور امام اسحاق بن راہو یہ وغیر ہمانے اختیار کیا ہے “۔
سلف صالحین رحمة اللہ علیہ میں سے کئی افراد سے تین دنوں سے کم میں قرآن پڑھنے کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور حکم سب پر فائق ہے ۔
ممکن ہے ان اسلاف کو یہ معلوم نہ ہو۔
اس لیے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو سامنے رکھنا چاہئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر عمل کسی کا نہیں ہو سکتا ہے ۔اس لیے ہمارے نزدیک راجح بات یہی ہے کہ قرآن مجید کو تین دنوں سے کم میں نہ ختم کیا جائے۔(مجلة الدعوة ‘جون1988ء)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر2)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments