Aqeeda Khatam E Nabuwat Or Hazrat Amer Millat Rehma Ullah

عقیدہ ختم نبوت اور حضرت امیر ملت رحمة اللہ علیہ

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اجماعی عقیدہ کی قیامت تک کیلئے وضاحت فرمادی

ہفتہ ستمبر

Aqeeda Khatam e Nabuwat Or Hazrat Amer Millat Rehma Ullah
پیر سیدمنور حسین شاہ جماعتی
عقیدہ ختم نبوت پر ایمان ہی اسلام کا بنیادی تقاضا ہے،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب قرآن کریم نازل ہوئی ،وہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے،اس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت آخری اُمت ہے اس کے بعد کوئی اُمت نہیں ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکسی بھی قسم کی کوئی نبوت باقی نہیں ہے،اسی پر تمام اُمت کا چودہ سو برس سے اجماع چلا آرہا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی یا رسول پیدا نہیں ہو گا کیونکہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے۔

اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو پھر دین محفوظ ہے،اور اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو پورا دین محفوظ نہیں لہٰذا عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ پورے دین کا تحفظ ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہونگے ان میں سے ہر ایک اس زعم میں مبتلا ہو گا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے،مگر خبر دار آگاہ رہو کہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں ،میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا۔خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلیمہ کذاب ،اسود عنسی ،طلیحہ خویلد ،سجاح بنت الحارث اور سجیتا یہودی نے اغیار کی سازشوں کے تحت قصر نبوت میں نقب زنی کی کوشش کرتے ہوئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا،اس امت کے امام اور انبیاء کے بعد افضل ترین خلیفہ
الر سول جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام صحابہ واہل بیت کی معیت میں اُن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،انہیں کیفر کردار تک پہنچا کر قیامت تک کیلئے ختم نبوت کے اجماعی عقیدہ کی عملاً وضاحت کر دی ۔

جب مرزا قادیانی نے عقیدہ ختم نبوت کے برخلاف اپنے آپ کو جھوٹے نبی کی حیثیت سے پیش کیا تو اس وقت دو سید زاد ے حضرت خواجہ گو لڑدی سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب اور اعلیٰ حضرت امیر ملت مجدد دین وملت پیر سیدجماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمة اللہ علیہ میدان عمل میں اُتر آئے اور بر وقت مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی۔1901ء میں جب مرزا نے دعوی نبوت کیا تو بالخصوص بر صغیر کے مسلمان بے حد مضطرب ہوئے ،سب علماء اور صلحاء نے اس دعوے کی تکذیب کی اور دین مبین میں اس نئے فتنے کا سدباب کرنے کی مساعی میں مصروف ہو گئے۔
حضرت امیر ملت اس جماعت کے سر خیل بنے رہے اور ابتداء سے ہی کامل سر گرمی کے ساتھ مرزا کی مخالفت اور تکذیب فرماتے رہے ۔جہاں ضرورت ہوتی آپ فوراً وہاں پہنچ کر انسدادی اور تبلیغی کام شروع کر دیتے اور مسلمانوں کے ایمان کے تحفظ میں مشغول ہو جاتے۔
عقیدہ ختم نبوت کو ایک خاص سازش کے تحت عالمی سطح پر ختم کرنے کی منظم کوشش کی گئی اور جھوٹے دعویدار ان نبوت پیدا کئے گئے۔
ایک خاص سازش کے تحت قادیانیوں کی سر گر میاں پر نٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جاری ہیں اور ان کا مرکز یورپ اور بالخصوص بر طانیہ ہے جہاں ہم اہل سنت کے علماء ومشائخ کیساتھ مل کر دلائل وبراہین سے علمی وفکری طور پر اس فتنے کا سدباب کررہے ہیں۔ہماری مسلمان حکومتوں اور حکمرانوں سے بھر پور گزارش ہے کہ انڈونیشیا کی طرح قادیانیوں کی سر گرمیوں پر پابندی عائد کرنی چاہئے‘اس وقت اس فتنہ کے سدباب کیلئے ملت اسلامیہ اور بالخصوص علماء ومشائخ کا اتحاد سیاسی طور پر وقت کی اہم ضرورت ہے،پاکستان سمیت تمام مسلمان مملکتوں وحکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ او آئی سی (OIC)کے پلیٹ فارم سے اسلام کیخلاف پروپیگنڈے اور اسلاموفوبیا میں مبتلا ممالک وافر اد کا رد کریں۔

مغربی دنیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امیج کو خراب کرنے اور مسلمان نوجوانوں کو برانگیخة کرنے کیلئے جس طرح گستاخانہ خاکے شائع کئے جارہے ہیں یا قرآنی آیات کو تبدیل اور سیاق وسباق سے ہٹا کر غلط پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔تمام مسلمان حکومتوں کو اس کے تدارک کا پروگرام بنانا چاہئے۔ان حالات میں ملت اسلامیہ کے عمائدین کا فرض منصبی ہے کہ وہ اس فتنے سے ملت کو دلائل وبراہین اور قوت ایمانی سے محفوظ کریں۔
اس کے ساتھ ہی مشائخ عظام وعلمائے کرام ،سیاسی ومذہبی شخصیات اور دانشور حضرات کو چاہئے وہ اپنے آقا ومولانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کیلئے متحد ہو جائیں کیونکہ ہم سب کی عزتیں اور منصب بلاشک وشبہ تاجدار کا ئنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین پاک کا صدقہ ہے۔
اگر آج ہم اپنے آقا ومولاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس اور ختم نبوت کیلئے تمام کلمہ گو اور بالخصوص پاکستان کی 22کروڑ عوام متحد اور یکجا نہ ہوئے اور اس کا تحفظ نہ کیا تو یاد رکھئے ساری عزتیں اور شان وشوکت جن پر آج ہم کو بڑ ا فخر اور ناز ہے ،سب کچھ ختم ہو جائے گا،پھر ذلت و رسوائی ہمارا مقدر ہو گی۔
۔۔۔۔ہمارے جن ضمیر فروش سابق حکمرانوں نے ملک وقوم‘آنے والی نسلوں اور پاکستان کے بہتر مستقبل پر اپنے مفادات کو ترجیح دی ‘اپنے منصب کو بچانے کیلئے ضمیر فروشی اور غیر اسلامی قوتوں کے آلہ کار بنے رہے،قوم جن حکمرانوں کو ووٹ دے کر منتخب کرواتی رہی کہ یہ لوگ اسلام ،پاکستان اور قوم کے خدمتگارہوں گے مگر افسوس بعض بے ضمیر حکمرانوں نے اسی قوم کے آقا ومولا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کی بجائے اسی پر ڈاکہ ڈالا اور انہوں نے دنیاوی جاہ ومنصب اور مال و دولت کی وقعت دی۔
جنہوں نے اپنے نبی کی ختم نبوت کی ان شقوں کو دنیا وی فوائد کی وجہ سے تبدیل کرنے کی جسارت کی آج اسی کا وہ خمیازہ بھی بھگت رہے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود میں اخلاص ،محبت ،رواداری اور اخلاقی جرأت پیدا کریں کہ کسی بھی بڑی سے بڑی فرعونیت اور ظلم وناانصافی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔قادیانیت کے حوالے سے حکومت پاکستان کو آج بھی مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔
آج بھی سادہ لو ح مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کیلئے عبادت گاہوں اور ناموں کے حوالے سے قانون کی پابندی کرانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو موجود ہ دور کے جدید تعلیم یافتہ ماحول سے مکمل آگہی ہو سکے اور اسے میڈیا کی یلغار سے بچاتے ہوئے عہد حاضر کے تقاضے بھی پورے کئے جا سکیں۔ہمارے دانشور حضرات اس کے صحیح تناظر کو سمجھ سکتے ہیں اس لئے اس اَمر کی اشدضرورت ہے کہ موجودہ نسل کو اس واقعے اور اس کے پس منظر مقاصد اور نتائج وعواقب اور اپنے بزرگوں کی تعلیمات سے روشناس کرانے کیلئے حکومتی سطح پر اہتمام کیا جائے ۔اس کیلئے تحریری،تقریری،علمی،تحقیقی،روحانی غرضیکہ ہر جہت سے ایک مربوط اور منظم جدوجہد کو جاری رکھنا ہو گا۔

Your Thoughts and Comments