Asalam Alaikum Kehna

السلام علیکم کہنا

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ ملاقات کے وقت سلام کہنے کا حکم ہے

بدھ مئی

Asalam alaikum kehna
مُبشّر احمد رَبّاَنی
اسلام باہمی اخوت ومروت کا دین ہے جیسا کہ ارشاد ہے:
”ایمان والے بھائی بھائی ہیں۔“
ان کی باہمی محبت کو قائم رکھنے کے لئے اسلام نے بہت سارے احکام وآداب بیان فرمائے ہیں جن میں سے ایک ادب یہ ہے کہ جب آپس میں ملاقات کریں تو”السلام علیکم “کہیں۔یہ مسلمانوں کے ذمے مسلمانوں کا حق ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
”مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں جب تو اس سے ملے تو سلام کہہ اور جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر‘اور جب تجھ سے خیر خواہی طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کر‘اور جب اسے چھینک آئے وہ اللہ کی حمد کرے تو اسے”یرحمک اللہ‘کہہ اور جب وہ مریض ہو جائے تو اس کی عیادت کر‘جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا۔


اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ ملاقات کے وقت سلام کہنے کا حکم ہے اگر دوسرا بھائی سلام میں پہل کر جائے تو اس کاجواب کم از کم ”وعلیکم السلام “کے الفاظ کے ساتھ دینا چاہئے اور کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جب کوئی سلام کہے تو اس سے بہتر جواب دیں جیسا کہ ارشاد ہے:
”اور جب تمہیں سلام کہا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہیں الفاظ کو لوٹا دو۔
بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔“
امام ابن کثیر رحمة اللہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا:
(السلام علیکم یا رسول اللہ )
تو آپ نے فرمایا:
(وعلیکم السلام ورحمة اللہ)
پھر ایک اور آیا اس نے کہا:
(السلام علیکم یارسول اللہ ورحمة اللہ)
آپ نے اسے کہا:
(وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ)
پھر ایک اور آیا اس نے کہا:
(اسلام علیکم یا رسول اللہ ورحمة اللہ وبرکاتہ )
آپ نے اسے کہا:
(وعلیکم)
اس آدمی نے آپ سے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کے پاس فلاں فلاں آیا انہوں نے سلام کہا آپ نے ان کے جواب میں زیادہ کلمات کہے اس کی نسبت جو آپ نے مجھے جواب دیا ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ہمارے لئے کوئی چیز نہیں چھوڑی ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
”ہم نے تجھ پر اسے لوٹا دیا ہے ۔“
یہ روایت نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
”اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ سلام کہنے میں السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ سے زیادہ کلمات نہیں کہنے چاہئے۔اگر یہ اس سے زائد کلمات مشروع ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ کر دیتے۔

اس مسئلہ کی تائید عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے ۔جو تر مذی ابوداؤد اور مسند احمد وغیرہ میں موجود ہے ۔ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں زبان کے ساتھ ملاقات کے وقت سلام کے کلمات کہنے چاہئیں۔
سلام کی جگہ”کی حال اے“(Good Morning)وغیرہ کہنا صحیح نہیں ۔سلام کے کلمات کہنے کے بعد اگر”کی حال اے “یا دوسرے کلمات سے حال وغیرہ معلوم کرلیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

سلام کا جواب محض ہاتھ کے اشارے سے دینا بھی درست نہیں سلام کا جواب دینے کے لئے کلمات ہی کہنے چاہئے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے واضح ہے ۔
ہاں اگر کوئی شخص دور ہوتو سلام کے ساتھ اگر اشارہ بھی کیا جائے تا کہ اسے معلوم ہو جائے کے مجھے سلام کہا جارہا ہے تو اس کی گنجائش موجود ہے اور امام بخاری نے اپنی کتاب ”الادب المفرد“میں اس کے معنی کئی ایک آثار نقل کئے ہیں البتہ حالت نماز میں کوئی سلام کہہ دے تواس کا جواب زبان سے نہیں بلکہ ہاتھ کے اشارے سے دے جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازکی حالت میں سلام کہتے تھے؟تو آپ کس طرح جواب دیتے تھے۔
فرمایا آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔“
ہاتھ کے ساتھ صرف اشارہ یا فقط سر ہلانا یہ یہودونصاری کا طریقہ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر 3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments