Ashiya Ki Qeemat Mukarar Karne Ka Hukam

اشیاء کی قیمت مقرر کرنے کا حکم

بازاروں سے ضرورت کی اشیاء کا غائب ہونا اور مہنگا ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے

بدھ مئی

Ashiya Ki Qeemat Mukarar Karne Ka Hukam
مُبشّر احمد رَبّاَنی
بازاروں سے ضرورت کی اشیاء کا غائب ہونا اور مہنگا ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت بعض اشیاء پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہے اور ضرورت کے مطابق عوام الناس کو مہیا نہیں کر سکتی جس کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ ہوتی ہے حالانکہ بازار سے کوئی چیز بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ خفیہ طریقے سے مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے ۔
قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے نقصانات زیادہ ہوتے ہیں اور عوام الناس اشیائے ضرورت کا با آسانی حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں اشیاء کے نرخ بڑھ گئے جس پر لوگوں نے آپ سے آکر شکایت کی جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نرخ بہت بڑھنے لگے ہیں آپ ہمارے لئے قیمتوں پر کنٹرول کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یقینا اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کر نے والا ہے ۔

وہی مہنگا کرنے والا ہے وہی سستا کرنے والا ہے اور وہی رزق دینے والا ہے ۔میں اس بات کا امید وار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملوں کہ کوئی شخص مجھ سے خون یا مال میں ظلم کی بنا پر مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔“
اس حدیث کے آخری الفاظ قابل توجہ ہیں کہ ”اس بات کا امیدوار ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ مجھ پر کسی کاخونی یامالی حق نہ ہو‘اس سے معلوم ہوا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا گاہک یادکاندار کسی ایک پر ظلم ہے جس کی ذمہ داری قبول کرنے پر آپ آمادہ نہ تھے۔

حکومت جو اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کرتی ہے اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اعلان کر دیتی ہے کہ فلاں فلاں اشیاء کی قیمت یہ ہے ۔اس سے زیادہ قیمت پر یہ اشیاء فروخت نہیں کی جاسکتیں ۔اسی طرح حکومت کی جانب سے اشیاء کی قیمتیں مقرر کر کے باقاعدہ لسٹ دکانوں پر آویزاں کر دی جاتی ہے تاکہ دوکاندار اس سے زیادہ قیمت وصول نہ کر سکے اور اس بات کی چیکنگ کے لیے گاہے بگاہے حکومت چھاپے بھی مارتی ہے لیکن اس کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ دوکاندار اس ریٹ پر ردی اور ناکارہ اشیاء فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں اورگر کوئی خریدار خالص اور عمدہ چیز کا طلبگار ہوتو اس سے علیحدہ ریٹ طے کرلیتے ہیں ‘البتہ اگر کوئی حکومتی آدمی آکر دو کاندار سے اس مقررہ ریٹ پر چیز طلب کرے تو دوکاندار اسے خالص چیز مہیا کرتا ہے تاکہ کہیں وہ پکڑانہ جائے اور جرمانہ یا سزا سے بچ جائے۔

اس کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ دوکاندار اپنی کمیٹی کے افراد کے ذریعہ یا کسی اور واسطے سے حکومتی عملہ کو رشوت دے کر بد دیا نتی پر مبنی حرکات رذیلہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور گاہک کو ناخالص ‘ردی‘بے کار اور گھٹیا اشیاء فروخت کرتے ہیں۔
ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ حکومت جس چیز پر کنٹرول کرتی ہے ملک کے مختلف حصوں میں اس کے ڈپو مقرر کر دیتی ہے تاکہ ان ڈپوؤں سے وہ چیز مقررریٹ پر حاصل کی جاسکے۔

اس میں بھی کئی ایک بددیانتیاں جنم لیتی ہیں بلکہ ڈپو ہولڈرز کئی بددنتیوں کے مرتکب ہوتے ہیں’وہ اپنے واقف کا ر’عزیز واقارب وغیرہ کو تو اشیاء فراہم کرتے ہیں جب کہ دیگر بہت سے افراد کو محروم رکھتے ہیں بلکہ بہت سے افراد اس طرح کے ڈپوؤں پر ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔
عورتیں اور بچے سارادن لائنوں میں لگے ذلت وخواری کو اپنا مقدر بنارہے ہوتے ہیں اور اکثر ڈپو ہولڈرز ایسے افراد سے رشوت وصول کرکے اشیاء کو بچا کر بازار میں مختلف دوکانداروں کو بلیک کرتے ہیں ۔
اس طرح چور بازاری کا نیا دروازہ کھل جاتاہے۔
بہر کیف اس طرح کی کئی خرابیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جن سے خریداراور دوکاندار کے درمیان کئی جرائم جنم لیتے ہیں مزید تفصیل کے لیے’تجارت اور لین دین کے مسائل واحکام “ملاحظہ کریں قاضی شوکانی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس حدیث اور جو اس معنی کی احادیث وار د ہوئی ہیں ان سے قیمتوں کے کنٹرول کی حرمت میں استدلال کیا گیا ہے اور قیمتوں پرکنٹرول کرنا ظلم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کو اپنے مالوں کے تصرف کا اختیار دیا گیا ہے اور قیمتوں پر کنٹرول ان پر مالی تصرف میں رکاوٹ ہے جب کہ حاکم وقت مسلمانوں کی خیر خواہی کی رعایت پر مامور ہے ۔

اس کے لیے گاہک کوسستے داموں اشیاء کی خریداری میں نظر کرنا دو کاندار کے لئے قیمت بڑھانے کی مصلحت میں نظر کرنے سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔جب یہ دونوں معاملے آمنے سامنے ہوں تو اس وقت لازم ہے کہ فریقین (دوکاندار اور گاہک)کو اپنے معاملے میں اجتہاد کا اختیار دیا جائے سودابیچنے والے کو اس کی مرضی کے خلاف بیچنے پر پابند کرنا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے خلاف ہے “اے ایمان والو اپنے مالوں کو آپس میں ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس صورت کے تمہاری آپس میں تجارت رضا مندی سے ہو“یہ مذہب جمہور علماء کا ہے ۔

اسلامی معاشرے میں چونکہ تجارت بالکل آزاد ہے ‘اس لیے ہر چیز کھلے عام فروخت ہونی چاہئے یہ بات بھی یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تاجر برادری کے لوگ متقی‘ پر ہیز گار اور صالح ہوتے تھے اور وہ مناسب ریٹ پر اشیاء فروخت کرتے تھے۔قیمتوں کا اتارچڑھاؤ تاجروں کی بد نیتی پر نہیں ہوتا تھا بلکہ سامان فروخت کی کمی اور اس کی کثرت طلب کی بنا پر قیمتیں چڑھ گئی تھیں۔

لیکن جب اشیاء خوردنی میں گرانی اور ریٹ کا اضافہ خود تاجر وں کا پیدا کردہ ہو اور عامة الناس کے پاس اشیاء خوردونوش آسانی سے نہ پہنچنے دیتے ہوں تو یہ تاجروں برادری کا ظلم ہے اور عوام الناس کی بھلائی کی خاطر ان کا ظلم روکنا عین انصاف اور حکومت کا حق ہے تو اس ایک صورت میں اگر کنٹرول ریٹ ہو جائے تو کوئی شرعی قباحت نہیں کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کنٹرول کرنے سے انکار کیا تھا تو اس کے اسباب قدرتی تھے تاجر برادری کے پیدا کردہ نہیں تھے۔
باہر سے غلہ نہیں پہنچ رہاتھا۔
امام بن تیمیہ فرمتے ہیں:
”کنٹرول ریٹ بعض صورتوں میں ناجائز اورظلم ہے اور بعض صورتوں میں عدل وانصاف اور جائز ہے۔“
جب کنٹرول ریٹ ایسی صورت پر مشتمل ہو کہ لوگوں کے اوپر ظلم کیا جائے اور ان کو ناحق کسی چیز کو ایسی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے جسے وہ ناپسند کرتے ہوں یا جو چیز اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مباح رکھی ہے ‘اس سے انہیں روکا جائے تو یہ حرام ہے ۔

جب کنٹرول ریٹ عدل وانصاف پر مبنی ہو جیسا کہ انہیں کسی چیز کا جتنا معاوضہ مناسب ہواس کے لیے انہیں مجبور کیا جائے اور جو کام ان پر حرام ہے اس کے کرنے سے روکا جائے جیسے مناسب معاوضے سے زیادہ قیمت لینا تو یہ کنٹرول جائز ہے بلکہ واجب ہے۔
پہلی صورت کی مثال سیدناانس والی حدیث دلیل ہے جو اوپر ذکر کی گئی ہے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرتے ہیں:
”جب لوگ اپنے سودے کو معروف طریقے پر ظلم کئے بغیر فروخت کریں اور قیمت یاتو اشیاء کی کمی کی وجہ سے بڑھ جائے یا لوگوں کی کثرت کی بنا پر تویہ اللہ کی طرف سے ہے ۔
ایسی صورت میں مخلوق کو مقررقیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کرناناحق ہے ۔“
”اور دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ سودا بیچنے والے افراد لوگوں کی ضرورت کے باوجود زیادہ قیمت کی وصولی کے بغیر بیچنا روک دیں تو ان پر واجب ہے کہ وہ سودے کو مناسب قیمت پر بیچیں ایسی صورت میں (جب وہ زیادہ قیمتیں وصول کریں )انہیں مناسب قیمت کا پابند کردینا چاہئے ان پر لازم ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے لازم ٹھہرائی ہے اسے لازم پکڑیں۔

تقریباً یہی بات امام ابن قیم نے الطرق الحکمیةص244‘ 245میں اور الفراسہ میں ذکر کی ہے ۔لہٰذا اگر تاجر برادری کی جانب سے ظلم ہو اور عوام الناس کی ضرورت کے باوجود بلاوجہ اشیاء کی فراہمی مناسب ریٹ پر نہ کریں تو انہیں مقررہ قیمت کا پابند کیا جا سکتا ہے اور اگر منڈیاں آزاد ہوں گرانی تاجر برادری کی طرف سے پیدا نہ کی گئی ہو بلکہ قدرتی طور پر اشیاء کی قلت یا عوام کی کثرت کی بنا پر ہوتو اس صورت میں کنٹرول ریٹ درست نہیں ہے ۔
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments