Asma Ul Husna-Al Rehman

اسماء الحسنیٰ: الرحمن

سب پر رحمت کرنے والا اعدادابجد 298، دنیا کے تمام امور کے لیے باعث رحمت۔ الرحمن بلا تخصیص مذہب و ملت رحمت کی عام بارش برسانے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہونے کے ناطے پوری دنیا کے لیے اور تمام نوح انسانی کے واسطے رحمن ہے ۔

پیر مئی

Asma Ul Husna-Al Rehman

پیرشاہ محمد قادری سرکار:
سب پر رحمت کرنے والا اعدادابجد 298، دنیا کے تمام امور کے لیے باعث رحمت۔ الرحمن بلا تخصیص مذہب و ملت رحمت کی عام بارش برسانے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہونے کے ناطے پوری دنیا کے لیے اور تمام نوح انسانی کے واسطے رحمن ہے۔ اس اسم کے ذریعہ گناہوں ، دل کی سختی اور خراب عادات سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی اسٹیل کے پیالے میں یا رحمن 298بارکندہ کروا لیا جائے اور تمام دن اسی پیالے سے پانی پینے والا امراض قلبی اور دل کی سختی سے نجات پائے۔

ہر نماز کے بعد یا رحمن اسم کے اعداد 298کے مطابق پڑھے تو آنے والے حالات سے باخبر ہو جائے۔ اگر اسم الرحمن کو کوئی شخص سفید ریشمی کپڑے پر مشک و زعفران سے 50 بار لکھ کر اپنے پاس رکھے تو خوش نصیب ہو جائے اور خلقت میں اس کی عزت ہو۔

اسم الرحمن کو کند ذہن اور تعلیم سے بھاگنے والے بچوں کو زعفران اور عرق گلاب سے دھو کر پلایا جائے تو وہ ذہن ہوں اور تعلیم میں دلچسپی لیں۔

اسم الرحمن کو اگر ایک چلے تک پرہیز جمالی و جلالی کے ساتھ تیرہ ہزار بار (13000) پڑھا جائے تو دل رحمت خداوندی کا خزانہ بنے اور پوشیدہ امور سے باخبر ہو جائے ۔ اسم الرحمن کو تنہائی میں وقت کی پابندی کے ساتھ بکثرت پڑھنے والا نعمت خداوندی سے مالا مال ہو جائے، جس شخص کو محبت کی نظر سے دیکھے وہ خود بھی خوش ہو ، جسے نصیحت کر ے وہ پار سا ہو جائے اور جس سے بیزاری کا اظہار کر ے وہ پریشانی سے دو چار ہو۔
اسم الرحمن کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ تقاضائے رحمت اللہ نے ہمارے ہر قسم کی راحت کا انتظار فرمایا ہے، بسا اوقات انسان پر مصیبت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے۔ مگر خدا یہ مصیبت رحمن ہونے کے ناطے راحت میں تبدیل کر دیتا ہے مادرمہربان کے دل میں جو محبت اپنی اولاد کے لیے ہوتی ہے۔ اس سے ستر گنا زیادہ محبت اللہ کو اپنے بندوں سے ہوتی ہے مگر ماں کے دل میں یہ محبت پیدا کرنے والا کون ہے؟ وہی رب رحمن ۔
الرحمن کا کمال شفقت دیکھئے کہ وہ اگر اپنے بندوں پر کوئی پریشانی لاتا ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کا بندہ اسی پریشانی سے راہ راست پر آجائے اور اپنی زندگی کو بہتر بنا لے ۔الرحمن اور الرحیم کا ذکر عموماََ علماءکرام ایک ساتھ کرتے آئے ہیں کیونکہ اس کی صفات رحمن ورحیم نہ صرف یکساں ہیں بلکہ وہ اپنے بندے کو نگاہ رحمت سے بھی یکساں دیکھتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کبھی کبھی رحمت خداوندی زحمت بھی ثابت ہوتی ہے مگر اس میں بھی ناسمجھ انسانوں کے لیے خیر کا ہی پہلو ہوتا ہے۔ مثلاََ کسی مریض کا مرض ایسا ہے کہ اس کا ہاتھ یا پاو¿ں کاٹنا پڑے گا مگر مریض کی زندگی بچ جائے گی تو پھر وہ ڈاکٹر خواہ کتنا ہی مہربان ہی کیوں نہ ہو یہ ظالمانہ کام صرف مریض کی بہتری کے لیے کرنے پر مجبور ہے۔
اسی طرح وہ کسی ظالم، جابر اور سنگدل افراد کو مبتلائے مصیبت کرتا ہے تاکہ وہ خوف خدا کھائیں اور دنیا کو تکلیف پہنچانے سے رک جائیں۔اسم الرحمن کے ذیل میں اسم الرحیم میں بھی اس سلسلے کی باتیں تفصیلاََ بیان کی گئی ہیں مگر الرحمن کی رحمت پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں بہت سی پسندیدہ باتیں تلخ و شیریں واقعات ایسے بھی دکھائی دیںگے جس میںخیر کے اسباب کم تھے۔
مگر رحمن نے اپنی رحمت خاص سے اسے باعث خیر بنا دیا۔الرحمن کی بخشی ہوئی بہترین نعمتوں میں اسے ایک نعمت علم بھی ہے علم کی لذت کے سامنے دنیا کی تمام لذات بے مصرف ہیں وجہ یہ ہے کہ علم کی وجہ سے روح میں بالیدگی اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔ صاحب علم شخص جب گفتگو کرتا ہے تو اسے ایک جاہل اور کم علم شخص بھی سن کر فیض پاتا ہے۔ علم کی سب سے بڑی کتاب قرآن حکیم ہے جو الرحمن نے اپنی روشن ہدایات کے ساتھ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی یہ الرحمن کی امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔

Your Thoughts and Comments