Bakhshish Ki Ghariyaan

بخشش کی گھڑیاں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات دونوں رکعت میں سر بسجوددیر تک دعامانگتے رہے

بدھ مئی

bakhshish ki ghariyaan

علامہ منیر احمد یوسفی
اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ‘فرماتی ہیں ‘رسول کریم روٴف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرئہ مبارک میں کملی اوڑھے آرام فرمارہے تھے ‘شعبان المعظم کی پندرہویں شب تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کملی سے باہر تشریف لائے اور میرے ہاں تشریف فرماہوئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھایا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر پر آرام نہ فرمایا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرہ(انور)سے نکلے ،میں نے خیال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔
میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نکلی مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (جنت)البقیع میں پایا۔

وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومن مردوں اور مومنہ عورتوں اور شہداء کی بخشش کے لئے استغفار فرمارہے تھے ۔

تو میں نے رسول کریم روٴف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دل میں )عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے کام میں لگے ہیں اور میں دنیوی حاجت میں ہوں ۔میں واپس لوٹی اور اپنے حجرے میں آگئی اور میرا سانس پھولا ہوا تھا۔
پھر رسول کریم روٴف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے ملے اور فرمایا:اے عائشہ رضی اللہ عنہا یہ سانس کیسا ہے ؟میں نے عرض کیا‘میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے لئے بستر بچھایا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آرام نہ فرمایا اور باہر تشریف لے گئے تو میں نے گمان کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور زوجہ مطہر رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے کے بعد جنت البقیع میں پایا ،وہاں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمل مبارک فرمارہے تھے اُسے ملا حظہ کیا:اور پھر میں جلدی جلدی واپس آگئی اس لئے میرا سانس پھولا ہوا ہے ۔

رسول کریم روٴف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تمہیں اس بات کا خوف ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے؟میرے پاس حضرت جبرائیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے ۔(ابن ماجہ ص100)اس رات اللہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر جہنم سے لوگوں کو آزادی عطا فرماتا ہے ۔
مگر اس رات اللہ مشرک،کینہ پرور، قاطع رحم،پاجامہ ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے‘ماں باپ کو ستانے والے اور ہمیشہ شراب پینے والے کی طرف نگاہ کرم نہیں فرمایا۔اے عائشہ رضی اللہ عنہا تم اجازت دو تا کہ میں آج کی رات قیام کروں ۔میں نے عرض کیا ،کیوں نہیں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔
پھر اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیلئے کھڑے ہوئے ،بعد ازیں طویل سجدہ فرمایا،جس سے مجھے اندیشہ ہوا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر گئی ہے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کے تلوے کو ہاتھ لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ہلایا اور مجھے بہت فرحت حاصل ہوئی ۔

پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ میں دُعا کرتے سنا:
اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر صبح ہوئی تومیں نے ان دُعائیہ کلمات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا تو نے ان کلمات کو سیکھ لیا؟عرض کیا جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :فرمایا ،تم خود بھی سیکھ لو اور اوروں کو بھی سکھلادو۔
کیونکہ (حضرت )
جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے مجھے یہ کلمات بتائے اور عرض کیا کہ میں ان کلمات کو سجدہ میں پرھوں “۔(الترغیب والترہیب جلد 3ص460‘)
شعبان المعظم کی پندرہویں شب‘نبی کریم روٴف ورحیم علیہ وسلم کی نماز:
اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں:ایک شعبان المعظم کی پندرہویں شب ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی جس میں مختصر قیام فرمایا جس میں ایک مرتبہ سورة الحمد شریف اور آیات کے لحاظ سے مختصر سورت پڑھی ،جس کے بعد رکوع کیا اور سجدے میں چلے گئے ۔
اتنا لمبا سجدہ فرمایا کہ میں نے گمان کیا شاید آپ کی روح پر واز کر گئی ہے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کو ہاتھ لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت دی ۔پھر دوسری رکعت میں ‘پہلی رکعت کی طرح قیام اور قرأت فرمائی اور لمبے وقت تک سجدہ میں پڑے رہے اور سجدوں میں یہ دُعائے پڑھی :۔”اے بار خدا یا تیرے عفو کی پناہ ڈھونڈتا ہوں تیرے عذاب سے اور تیری رضا کی پناہ ڈھونڈتا ہوں تیرے قہر سے اور تیرے ساتھ تجھ ہی سے پناہ ڈھونڈتا ہوں ۔
تیریی ذات بزرگ ہے۔میں تیری صفت وثناء بیان نہیں کر سکتا جیسی تونے خود اپنی صفت وثناء بیان فرمائی “۔
”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر انور کو سجدہ سے اُٹھایا اور نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا:اے عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا اے حمیرا رضی اللہ عنہا کیا تو نے خیال کیا کہ تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا ؟
فرماتی ہیں ،میں نے عرض کیا نہیں ! اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ میں نے گمان کیا تھا کہ طویل سجدہ میں شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک قبض کر لی گئی ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ یہ رات کون سی ہے ؟اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اللہ (تبارک و تعالیٰ )اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوب جانتے ہیں تو رسول کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،یہ شعبان المعظم کے نصف کی رات ہے یعنی پندرہویں شعبان المعظم کی رات۔
بے شک اللہ (تبارک وتعالیٰ )اس رات اپنے بندوں پر خصوصی نگاہ کرم فرماتا ہے ۔رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتا ہے کینہ پروروں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتاہے“۔
بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر بخشش:
اُم المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ‘رسول کریم رؤف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرئہ مبارک میں جلوہ افروز تھے ۔
رات کے وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر انور پر نہ پایا۔”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے نکلی ۔دیکھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں ہیں ۔اور اپنے سر انور کو آسمان کی طرف اُٹھائے ہوئے ہیں۔ فرمایا:اے عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ڈرتی تھیں کہ اللہ جل شانہ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے اوپر ظلم کریں گے ۔عرض کیا ‘یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خیال کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں تشریف لے گئے ہیں ۔
فرمایا:بے شک (اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ)شعبان المعظم کی پندرہویں رات میں خصوصی طور پر آسمان دُنیا پر نزول اَجلال فرماتا ہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد کے برابر لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔
حضرت عثمان بن مغیرہ بن اخنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘فرماتے ہیں ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :”شعبان (المعظم)میں اگلے شعبان المعظم تک کے تمام کام مقررکردےئے جاتے ہیں یہاں تک کہ جس کا نکاح ہونا ہے اور جس نے مرنا ہو اُس کا نام(زندوں سے)مرنے والوں میں علیٰحدہ کیا جاتا ہے“۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘فرماتے ہیں‘نبی کریم رؤف ورحیم نے فرمایا:”اللہ تبارک وتعالیٰ شعبان المعظم کی پندرہویں شب مخلوق کی طرف نزول اَجلال فرماتا ہے مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ سب کی بخشش فرمادیتاہے“۔امیر المومنین حضرت سیّدنا ابو ابکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘فرماتے ہیں:”یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ ہر مومن کی بخشش فرمادیتاہے،سوائے والدین کے نافرمان‘بے ادب اور ذاتی دشمنی رکھنے والے کے۔
“فرماتے ہیں‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب شعبان المعظم کی نصف یعنی پندرہویں رات ہوتی ہے ۔اللہ آسمان دُنیا پر نزول اَجلال فرماتا ہے ۔پھر اپنے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے ۔سوائے مشرک اور اپنے بھائی سے بعض رکھنے والے کے“۔
قیام شب برأت اور روزہ:
امیر المومنین حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘فرماتے ہیں‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب شعبان (المعظم)کے مہینے کی پندرہویں شب ہوتو اُس رات کو قیام کرو،عبادت کرو اور اُ س کے دن میں روزہ رکھو اس لئے کہ اس رات اللہ جل شانہ غروبِ آفتاب سے آسمان دُنیا پر نزول اَجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے ‘کوئی ہے جو بخشش چاہتا ہوتو میں اُسے بخش دوں ،کوئی ہے جو رزق چاہنے والا ہوتو میں اُسے روزی عطا فرماؤں اور کوئی مرض میں مبتلا ہے کہ شفاء چاہے تو میں اُس کو تندرست فرماؤں ،کوئی ایسا ہے ،کوئی ایسا ہے یہی فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ طلوع فجر ہو جاتی ہے“۔

پندرہویں شب کی نماز اور صبح کا
روزہ:
امیرالمومنین حضرت سیدّنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں:”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ شعبان المعظم کی پندرہویں شب کھڑے ہوئے اور آپ نے چودہ رکعتیں نماز پڑھی۔آپ صلی للہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے پھر 14بار سورة الفلق،14مرتبہ سورة الناس اور ایک مرتبہ آیت الکرسی پڑھی اور ایک مرتبہ کی تلاوت فرمائی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو امیر المومنین حضرت سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں‘میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس شخص کے لئے کیا حکم ہے جو اس طرح نماز ادا کرے ؟تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘جو اس طرح نماز پڑھے جیسے تو نے مجھے دیکھا ہے تو اس کے لئے بیس حج مبرور اور بیس سال کے روزوں کا ثواب ہے اور اگر اس رات کے بعد دن میں روزہ رکھے تو دو سال کے روزوں کا اُس کے لئے ثواب ہے ۔
ایک سال ماضی کا اور ایک سال مستقبل کا۔
صلاة الخیر
شعبان المعظم کی پندرہویں رات ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔اس کو صلاة الخیر”یانماز خیر“کہتے ہیں ۔اس کی سورکعتیں ہیں جن میں ہزار مرتبہ سورة الاخلاص شریف پڑھی جاتی ہے بایں انداز کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ شریف کے بعد 10مرتبہ سورة الاخلاص شریف ،یہ نماز دو دورکعت کر کے پڑھی جاتی ہے ۔

چار چار رکعت کرکے بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔مگر چار رکعت کی صورت میں یہ بات یاد رکھیں کہ جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھیں تو التحیات پڑھنے کے بعد دُرودشریف اور دُعا بھی پڑھیں اور جب تیسری رکعت شروع کریں تو پہلی رکعت کی طرح اس میں بھی ثناء پڑھیں لیکن پڑھیں۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۔
”مجھے تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اس رات اس نماز کو ادا کرے گا ،اللہ اُس کی طرف 70باہ نگاہ کرم فرمائے گا اور ہرنگاہ کرم کی برکت سے نماز پڑھنے والے کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا۔اُن حاجتوں میں سے ایک حاجت اُس کی بخشش ہے“۔

Your Thoughts and Comments