Bimari Main Ibadat Ka Sawab

بیماری میں عبادت کا ثوا ب

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیماری بھی ایک نعمت ہے کہ اس کے سبب انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں

بدھ مئی

Bimari Main Ibadat Ka Sawab

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیماری بھی ایک نعمت ہے کہ اس کے سبب انسان کے گناہ معاف ہوتے ہیں لیکن افسوس کہ لوگ جہالت کے سبب دکھ یا بیماری میں شکوے شروع کر دیتے ہیں ۔تویہ بہت بڑی محرومی ہے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”جب اللہ تعالیٰ کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر دنیا میں سزائیں دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کی برائی چاہتا ہے تو اس کی سزا مع گناہوں کے محفوظ رکھتا ہے ۔

حتیٰ کہ اسے قیامت کے دن پوری پوری دے گا۔“(ترمذی بحوالہ مشکوٰة)
مفسر شہیر حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:”یعنی گناہوں پر دنیا میں پکڑ ہو جانا اللہ کی رحمت کی علامت ہے اور باوجود سر کشی اور زیادتی گناہ کے ہر طرح کے عیش ملنا غضب الٰہی کی نشانی ہے ،کہ اس کا منشاء یہ ہے کہ تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دی جائے گی ۔

“(اللہ کی پناہ)(مرأة)اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب بندہ تین دن بیمار ہوتا ہے ،تو گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اُسے جنا تھا۔“(الجمع الزوائد)
حالت مرض میں تندرستی والی نیکیاں :حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب مسلمان کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو فرشتہ سے کہا جاتا ہے کہ اس کی وہی نیکیاں لکھ جو پہلے کرتا تھا ۔
پھر اگر رب عزوجل اسے شفا دیتا ہے تو اسے دھو دیتا ہے اور پاک کر دیتا ہے اور اگر اسے وفات دیتا ہے تو اسے بخش دیتا ہے اور رحم کرتا ہے ۔“(مشکوٰة)
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:”سبحان اللہ تعالیٰ کیسا مبارک فرمان ہے ۔کہ بیمار کو تندرستی کی نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے ۔مگر تندرستی کے گناہوں کا عذاب نہیں ہوتا یعنی اگر چور بد معاش بیماری کی وجہ سے چوری بد معاشی نہ کر سکے تو اس کے نامہ اعمال میں چوری وغیرہ لکھی نہ جائے گی۔
بلکہ ممکن ہے کہ تو بہ کی توفیق مل جائے جس سے ان گناہوں کی معافی ہو جائے۔اسلئے یہاں صالح عمل ارشاد ہے یہ سب اسلئے ہے کہ ہم اس کے حبیب کی اُمت ہیں۔“(مرأة شرح مشکوٰة)
عیادت مریض کا ثواب :مسلمان دکھی یا مریض کی عیادت کرنا ایسا نفیس وصالح عمل ہے جس سے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل ہوتی ہے ۔
نیز آپس میں محبت واخوت کیساتھ ساتھ دادِانسانیت حاصل ہوتی ہے ۔
تبھی تو احادیث مبارکہ میں اس کے ثواب کو بیان کیا گیا ۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام الانبیاء شب اسریٰ کے دو لہا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جس نے اچھے طریقے سے وضو کیا اور ثواب کی امید پر اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کی اسے جہنم سے ستر سال کے فاصل تک دور کر دیا جائے گا۔“(سنن ابوداؤد)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بیان فرماتے ہیں :”جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اس کیساتھ ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں ۔
جو صبح تک اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اس کیساتھ ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں اور شام تک اس کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ ہو گا۔“(سنن ابو داؤد)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مریض کی عیادت کرو،جنازوں کیساتھ جاؤ ،وہ تمہیں آخرت کی یاددلائیں گے۔
“(الادب المفرد)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حُسن اخلاق کے پیکر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :”پانچ اعمال ایسے ہیں جو انہیں ایک دن میں کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے جنتیوں میں لکھے گا۔1۔مریض کی عیادت کرنا۔2۔جنازے میں حاضر ہو نا۔3۔ایک دن کا روزہ رکھنا۔4۔نماز جمعہ کے لئے جانا۔
5۔غلام آزاد کرنا۔(صحیح ابن حبان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مالک ومختار آقا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ؟حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ! میں نے ۔پھر فرمایا! کہ تم میں سے آج مسکین کو کس نے کھانا کھلایا؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے ،پھر فرمایا! کہ تم میں سے آج مریض کی عیادت کس نے کی ؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے ۔
پھر فرمایا! آج تم میں سے جنازہ کیساتھ کون گیا؟حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!کہ جس شخص میں یہ چار خصلتیں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔“(الترغیب والترہیب)
مریض سے دعا کروانا:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ ،تو اسے اپنے لئے دعا کا کہو کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے ۔
“(ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰة)اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :”کیونکہ بیماربیماری کی وجہ سے گناہوں سے صاف ہو چکا ہے ۔نیز وہ اس حالت میں اللہ ہی اللہ کرتا رہتا ہے ۔لہٰذا وہ فرشتوں کی طرح ہے ۔“(مرأة شرح مشکوٰة)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں امام الانبیاء شب اسریٰ کے دولہا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ :”مریض جب تک تندرست نہ ہو جائے اُس کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی ۔
“(الترغیب والترہیب)
مریض کیلئے دعا کرنے کا ثواب :حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سر کار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :”جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور 7مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللہ عزوجل اسے اس مرض سے شفا عطا فرمائے گا۔“
دعا :ترجمہ میں عظمت والے عرش عظیم کے مالک اللہ عزوجل سے تیرے لئے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔

عیادت مریض کا شرعی حکم:علامہ نووی لکھتے ہیں:”مریض کی عیادت کرنا بالاجماع سنت ہے ۔خواہ مریض معروف ہو یا اجنبی ،قریب ہو یا بعید اور کس مریض کی عیادت کرنا زیادہ افضل اور موٴکد ہے ؟“
اس بارے میں علامہ طبری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :”کہ جن کی عیادت کرنے سے برکت متوقع ہو اُن کی عیادت کرنا موٴکد ہے او ر جن کے احوال کی رعایت مطلوب ہوتی ہے ان کی عیادت مسنون ہے اور عام مسلمانوں کی عیادت مباح ہے ۔
“(ازشرح ”صحیح مسلم “:علامہ غلام رسول سعیدی)
عیادت کے آداب :عیادت کے آداب میں سے یہ ہے کہ مریض کے پاس زیادہ دیر نہ بیٹھے جس سے مریض تنگ ہو ،یا مریض کے گھر والوں کو حرج ہوں ۔ہاں اگر مریض کے پاس زیا دہ دیر ٹھہرنے کی ضرورت ہوتو پھر کوئی حرج نہیں۔
مریض کی عیادت کے لئے جائے تو اس کو تکلیف پر صبر کی تلقین کرے اور تسلی آمیز کلمات کہے اس کے سامنے ایسی باتیں کرے جس سے وہ خوش ہو اور اس کا دل بہلے ۔
اس کو وہ احادیث سنائے جن میں یہ ذکر ہے کہ بیماری گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے ۔اس کو توبہ استغفار اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے لئے کہے اور حالت مرض میں نماز پڑھنے اور جو عبادات کر سکتا ہو اُن عبادات کی تلقین کرے ۔عیادت کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگرمریض غریب ہوتو اس کے علاج کے لئے حسب حیثیت کچھ رقم نذر کرے اور اگر مریض امیر ہوتو کچھ کھانے پینے کی چیزیں مثلاً پھل وغیرہ لے جائے جو مریض کے حال کے مناسب ہوں ایسا نہ ہو کہ شوگر کے مریض کی عیادت کو جائے تو مٹھائی کا ڈبہ اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض کی عیادت کو جائے تو نمکین بسکٹ لے جائے۔

مریض اپنے مرض کی وجہ سے اپنے جن دنیاوی کاموں اور ذمہ داریوں کو پورا نہ کر سکے ،اس میں بھی حتی المقدورتعاون کرے ۔البتہ مریض کو اپنی آزمودہ دوائیں اور مجرب نسخے نہ بتائے۔کیونکہ آج کل جو شخص بھی کسی مریض کسے پاس تیمارداری کے لئے جاتا ہے تو ایک نئی دوا اور نئی غذا تجویز کرتا ہے ۔اور ہر شخص اپنے نسخہ کو استعمال کرانے پر اصرار کرتاہے،بلکہ بعض تیمار دار تو ڈاکٹر اور حکیم بدلنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اس چیز کو آج کل تیمار داری کا جزو لازم سمجھ لیا گیا ہے ۔

(از شرح صحیح مسلم )
علامہ عینی فرماتے ہیں :”اہل ذمہ کی عیادت کرناجائز ،خصوصاً جبکہ اہل ذمہ پڑوسی ہوں کیونکہ اس عمل سے ان پر محاسن اسلام کا اظہار ہوتا ہے ان کی تالیف قلب ہوتی ہے تاکہ وہ مائل بہ اسلام ہوں ۔“(از شرح ”صحیح مسلم“علامہ غلام رسول سعیدی )
اللہ تعالیٰ ہمیں نیکی کی توفیق دے ۔آمین

Your Thoughts and Comments