MENU Open Sub Menu

Eid Ul Fittar Inamaat Ellahi Se Daman Bharnay Ka Din

عید الفطر، انعامات الٰہی سے دامن بھرنے کا دن

یہ مسلمانوں کیلئے عام معافی کا دن ہے حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ” جب عید الفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تو اْسے ” جزا کی رات “ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

eid ul fittar inamaat Ellahi se daman bharnay ka din

پیر مختار احمد جمال تونسوی۔
عید کا روز مقدس وہ خاص دن ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو جنہوں نے رمضان المبارک کے پورے روزے رکھے ،خشوع خضوع کیساتھ عبادت کی ، نماز پنجگانہ قائم کی ، نماز تراویح پڑھی ، قرآن پاک کی تلاوت کی ، اور شریعت مطہرہ کے مطابق احکامات خداوند قدوس کو بجا لاتے ہوئے اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے پر اپنا خاص فضل و کرم کرتا ہے کیونکہ پروردگار عالم کی ذات مقدسہ ہے ہی بڑی رحیم و کریم۔


حضرت سید نا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :”جب عید الفطر کی مبارک را تشریف لاتی ہے تو اسے” جزاکی رات“ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو رب قدوس اپنے فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے اور وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راستوں کے کناروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اور اسی طرح ''ندا“ دیتے ہیں کہ اے امت محمد ! اس رب کریم کی بارگاہ مقدس کی طرف چلو ! جو بہت زیا دہ عطا کرنے والا ہے۔

اور بڑے سے بڑا گناہ معاف کرنے والا ہے۔ پھر اللہ تعالی اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے اے میرے بندو! مانگو کیا مانگتے ہو؟ میری عزت و جلال کی قسم ! آج کے روز اس (نمازعید) کے اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، پورا کروں گا اور جو کچھ دنیا کے بارے میں مانگوگے اس میں تمہاری بھلا ئیکی طرف نظر فرما وٴں گا۔ (یعنی اس میں تمہارے ساتھ وہ معاملہ کروں جو تمہارے لیے بہتر ہوگا
کیونکہ میری حکمتیں تمہاری ذہنی وسعت سے بالا ہیں ) میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرالحاظ رکھو ے میں تمہاری خطاوٴں پر پردہ پوشی فرماتا رہوں گا۔
میری عزت و جلال کی قسم! میں حد سے بڑھنے والوں (یعنی مجرموں ) کیساتھ رسوا نہ کروں گا، بس اپنے گھر کی طرف بخشے بخشائے لوٹ جاوٴ، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں بھی تم سے راضی ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں شیطان کا جلنا اور خود کو پیٹینا فطری عمل ہے، حضوراقدس کا فرمان مقدس ہے کہ جب یوم عید آتا ہے تو شیطان چلا چلا کر روتا ہے، اس کی ناکامی اور روتا دیکھ کر تما م شیاطین ا سکے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اے آقا! تجھے کس چیز نے غمناک اور داس کر دیا ہے؟ شیطان کہتا ہے ہائے ! افسوس !اللہ تعالی نے آج کے دن امت محمدﷺ کی بخشش فرما دی ہے ، لہذا تم انہیں لذتوں اور خواہشات نفسانی میں مشغول کر دو“ حضرت علی کے پاس عید کے روز ایک شخص حاضر ہوا تو اسے وقت آپ چنے کی روٹی تناول فرمارہے تھے تو اس شخص نے عرض کیا کہ آج تو عید کا روز ہے اور آپ چنے کی روٹی تناول فرمارہے ہیں؟ حضرت علی فرمانے لگے : عیدتو اس کی ہے جس کے روزے قبول ہو گئے، جس کی خطائیں معاف کر دی گئیں، جس کی کوشش مشکور ہوگئی ، آج بھی عید ہے، کل بھی عید ہوگی اور جس جس روز ہم اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے اس اس روز ہماری عید ہوگی۔

حضرت عمر فاروق نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو آب دیدہ ہو گئے ، بیٹے سے استفسار کیا تو آپ نے فرمایا ” بیٹے ! مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے پھٹی پرانی قمیص میں دیکھیں گے تو تیرا دل ٹوٹ جائے۔“ بیٹے نے جوابا عرض کیا ” دل تو اس کا ٹوٹے گا کے جورضائے الہی کو نہ پا سکا، جس نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے امید ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل اللہ تعالی بھی مجھ سے راضی ہو گا۔
یہ سن کر حضرت عمر نے بیٹے کو گلے لگالیا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ایک مرتبہ حضرت عم بن خطاب کے دور خلافت میں لوگ عید کی نماز ادا کرنے کے بعد کاشانہ خلافت پر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ دروازہ بند کر کے زارو قطار رورہے ہیں ، لوگوں نے پوچھا یا امیر المومنین! آج تو عید کا مقدس دن ہے ، اس دن تو خوشی و شادمانی ہونی چاہیے اور آپ خوش ہونے کی بجائے رور ہے ہیں۔
؟ آپ نے فرمایا: اے لوگو! یہ دن عید کا بھی ہے اور وعید کا بھی ہے، آج جس کے نماز روزے اور دیگر عبادات رمضان المبارک میں قبول ہو گئیں بلا شبہ اس کیلئے آج عید کا دن ہے، اور جس کی عبادات قبول نہیں ہوئیں، اس کیلئے آج کا دن وعید کا دن ہے اور میں اس خوف سے رورہاہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میری عبادات قبول ہوئیں ہیں یا انہیں رد کر دیا گیا ہے۔ عید کا دن خوشی و مسرت کا دن بھی ہے اور اللہ سے انعامات پانے کا دن بھی ہے، محبتیں اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے، گلے شکوے دور کر نیاور روٹھے احباب کو منانے کا دن ہے ، او بالخصوص یہ یوم تشکر“ بھی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے ماہ رمضان المبارک میں روزے رکھے، نماز پنجگانہ کی ادائیگی ، نماز تراویح کا اہتمام کر نے ، قرآن پاک کی تلاوت کرنے، راتوں کو اٹھ کر نوافل ادا کرنے کی توفیق بخشی اور حق بھی یہی ہے کہ عیدکوراز مقدس پروردگار عالم کو ذکر کرتے ہوئے حضور کی مداح سرائی کرتے ہوئے غربا ، مساکین اور یتیم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے یوم عید یوم تشکر کے طور پر منایا جائے۔

عیدتو ہرایک کی ہوتی ہے، کافر کی بھی ہوتی ہے اور مومن کی بھی ہوتی ہے اور ہرکوئی اپنے اپنے انداز میں منانا ہے۔ لیکن مومن اپنی عید اللہ تعالی کی رضا کیلئے مناتا ہے جبکہ کافر اپنی عید رضائے شیطان کیلئے مناتا ہے۔ اور یقینا ” کامیاب لوگ تو وہی ہوتے ہیں کہ جو اپنی ہر سانس اور ہر فعل اللہ تعالی کی رضا کیلئے وقف کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات مقدسہ تو اپنے بندوں سے ماں سے ستر گنا زیادہ محبت اور شفقت فرماتی ہے۔
جبکہ ہم تو صرف ماں کی اپنی اولاد سے محبت کا اندازہ نہیں لگا سکتے اور اس کی شان کر یمی دیکھئے کہ ہمیں ہر لمحہ نیکیاں حاصل کرنے کے شاندار مواقع فراہم کیے ہیں، اب اگر ہم اللہ کی رضا حاصل نہ کرسکیں ، قرب خداوشنی نہ پاسکیں تو یہ ہماری اپنی بد قسمتی اور کمزوری ہے۔

Your Thoughts and Comments