Farooq Azam Razi Allah Talah Anha Ki Shahadat

فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک سرخ رنگ کے مرغ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدن میں دو تین ٹھونگیں ماری ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خواب خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا۔اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی گئی کہ کوئی کافر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردے گا۔

منگل جولائی

Farooq Azam Razi Allah talah anha ki shahadat

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک سرخ رنگ کے مرغ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدن میں دو تین ٹھونگیں ماری ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خواب خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا۔اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی گئی کہ کوئی کافر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردے گا۔
چنانچہ جمعہ کے روز یہ خواب بیان کیا گیا اور بدھ کے دن صبح کی نماز میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کئے گئے۔

آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی یہ عادت تھی کہ نماز شروع کرنے سے پہلے صفوں کو درست کرنے کے بعد نیت باندھتے تھے۔بدھ کے دن جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صفیں سیدھی کرنے کے بعد نیت باندھی تو فیروز نامی ایک آتش پرست مشرک غلام نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دودھاری چھری سے زخمی کردیا۔


فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم پر زخم آیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرا کروہ کافر فیروز بھا گ نکلا۔

راستے میں جماعت کے اندر مزید چند صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شدید زخم لگائے۔آخر ایک انصاری نے اس پر اپنا کمبل ڈال کر اسے پکڑ لیا۔جب اس ظالم نے جان لیا کہ اب میں پکڑا گیا ہوں اور میرا حشر برا ہو گا تو وہ کافر اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو چھری مار کر مر گیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لئے حکم دیا اور خودوہیں بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے۔

اور زخمی ہو کر بھی وہیں حاضر رہے۔جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایااے ابن عباس !دیکھوتو مجھے کس نے قتل کیا ہے؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ ایک آتش پر ست مشرک غلام نے جس کانام فیروز ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر فرمایا الٰہی !تیراشکر ہے میری موت کسی کلمہ گوشخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخم شدید آیا تھا حتیٰ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو شربت پلایا گیا و ہ بھی زخم کے راستے سے باہر نکل آیا۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خیریت پوچھنے کے لئے آتے تھے ۔
ایک نوجوان آیا اور حال پوچھ کر لوٹا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ اس کا تہمد زمین سے لگتا ہے ۔فرمایا اس نوجوان کو میرے پاس واپس لاؤ۔
جب وہ دوبارہ حاضر ہوا تو فرمایا میاں اپنے تہمد کو اونچا کر لو۔یہ عمل اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور تمہارا کپڑا بھی زمین پر خراب ہونے سے محفوظ رہے گا۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت زیادہ نازک ہو گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا بیٹا!تم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے میرا سلام کہہ کر عرض کرنا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اذن چاہا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حجرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروں میں دفن ہونے کی اجازت رحمت فرمائیں۔

چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غم میں رورہی ہیں۔حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلام وپیغام عرض کیا تو ام المومنین نے فرمایا کہ یہ جگہ خاص میں نے اپنے لئے رکھی تھی مگر میں اپنی جان سے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جان کو زیادہ زیادہ عزیز رکھتی ہوں اور اجازت دیتی ہوں کہ شوق سے اس مبارک جگہ میں دفن کئے جائیں۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں سے اجازت لے کر واپس آئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا اجازت دے دینا سنایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا الحمد اللہ!اجازت مل گئی مگر اے عبداللہ رضی اللہ عنہ!تم ایک کام کرنا ۔
جس وقت میں مر جاؤں میرے جنازہ کو تیار کرکے پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے لے جا کررکھنا اور یہ کہنا کہ اس وقت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ حاضر ہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت چاہتا ہے اگر اس وقت بھی اجازت مرحمت فرمائیں تو اندر دفن کر دینا۔
مجھے اندیشہ ہے کہ شاید کچھ میرے لحاظ سے اجازت دے دی ہو اس لئے بعد وفات پھر اجازت لے لینا اور پھر فرمایا بیٹا!میرا سر تکیہ سے ہٹا کر زمین پر ڈال دے تاکہ میں اپنا سر خدا کے سامنے زمین پر ڈال کر رگڑوں تاکہ میرا رب مجھ پر رحم فرمائے ۔اے بیٹا میں مرجاؤں تو میری آنکھیں بند کر دینا اور میرے کفن میں میانہ روی کرنا اسراف نہ کرنا۔کیونکہ میں اگر خدا کے نزدیک کچھ اچھا ٹھہروں گا تو مجھے دنیا کے کفن سے بہت بہتر کفن مل جائے گا۔

اگر میں بُر ا قرار دیا گیا تو یہ بھی میرے پاس نہ رہے گا بلکہ چھن جائے گا۔بیٹا اگر سارے جہان کی دولت اور سامان اس وقت میرے پاس ہوتا تو میں اسے قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے نجات پانے کیلئے خیرات کر دیتا ۔یہ سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا !کہ قسم اللہ کی میں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ یقین رکھتا ہوں کہ آپ تو برائے نام ہی قیامت کی ہولناک چیزیں دیکھیں گے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیرالمومنین ہیں،امین المونین ہیں اور سیدالمومنین ہیں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتاب اللہ سے اور نہایت انصاف سے فیصلہ کرنے والے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابن عباس رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقریر بہت پسند آئی اور سخت تکلیف کے باوجود جوش وشوق میں اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ!کیا تو ان باتوں کی شہادت قیامت کے دن اللہ کے سامنے دے گا؟حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں دوں گا یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطمینان ہوا۔
اس کے بعد بہت سی نصیحتیں اور وصیتیں فرمائیں اور انتقال فرمایا،اناللہ واناالیہ راجعون ۔پھر آپ کے جنازہ کو تیار کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حجرہ شریف کے سامنے لا کر رکھا گیا اور بآواز بلند عرض کیا گیاکہ اے ام المومنین !یہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ حاضر ہے اور اب پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اجازت چاہتا ہے کہ اگر حکم ہوتو حجرہ شریف میں دفن کیا جائے۔
حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں خوشی سے آج پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت دیتی ہوں ۔چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجرہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں دفن کیا گیا۔
جس دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا اس دن سورج کو گرہن لگا۔سارے مدینہ میں اندھیرا ہوا۔
ایک طرف لوگوں کارونا ادھر سورج کا سیاہ ہونا گویا ایک معرکہ قیامت کا نظر آتا تھا۔مدینہ کے بچے اپنی ماؤں سے پوچھتے تھے اے اماں کیا آج قیامت ہے ۔مائیں کہتی تھیں کہ نہیں آج امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا ہے۔
وفات کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اے امیر المومنین !کیا معاملہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا!وجدت ربی رحیما میں نے اپنے رب کو بڑا رحم والا پایا ہے۔

Your Thoughts and Comments