Fiker Hussaini Saneha Karbala Ka Paigham

فکر حسینی سانحہ کربلا کا پیغام

نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،جگر گوشہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہ،جنتی نوجوانوں کے سردار ،شہید کر بلا سیّد نا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی وہ عظیم ہستی ہیں

جمعرات ستمبر

Fiker Hussaini Saneha Karbala Ka Paigham

نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،جگر گوشہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہ،جنتی نوجوانوں کے سردار ،شہید کر بلا سیّد نا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی وہ عظیم ہستی ہیں جن کے متعلق حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر کھیل رہے تھے۔

میں نے عرض کیا”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ ان دونوں سے اس درجہ محبت کرتے ہیں․․․؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”کیوں نہیں یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں“۔
ایک موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ”جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا“․․․
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رونے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے فرمایا”کہ ان کا رونا مجھے غمگین کر تا ہے“۔


ایک موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ہے اور میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوں۔جو حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے،حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری اولاد کی اولاد ہے“۔
نواسہ رسول سیّدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زہدو تقویٰ اور عبادت گزاری کی یہ حالت تھی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر شب زندہ دار اور اکثر روزہ سے ہوتے تھے،حضرت امام حسین کی مجالس وقار متانت کا حسین مرقع اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو علم وحکمت اور فصاحت وبلاغت سے بھر پور ہوتی تھی۔
کوئی سائل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازہ سے خالی ہاتھ واپس نہ جاتا تھا،اپنا مال کثرت کے ساتھ ”راہ خدا “میں خرچ کرتے رہتے تھے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ حلیم الطبع اور منکسر المزاج تھے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعض مرتبہ غربا کے گھروں پر خود کھانا پہنچاتے تھے،اگر کسی قرض دار کی کمزور حالت کا پتہ چلتا تو خود اس کا قرض ادا کردیا کرتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی محبوب نواسے نے دس محرم 61ہجری کے روز کربلا کے نتیجے صحرا میں تشنہ لب اپنے 72جان نثاروں کے ہمراہ اپنی جانوں کو جان آفریں کے سپرد کرکے اپنے لہو سے حق وباطل کے درمیان حد فاصل کھینچ دی۔
اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جس قدر سانحہ کر بلا نے کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔
اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خدا پر ستی ،حریت فکر ،انسان دوستی ،مساوات اور اخوت ومحبت کا درس دینا تھا۔خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت بر قرار رہی۔
یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی۔لہٰذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کو اسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقاوبحالی کے لیے میدان عمل میں اترے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے حالات کی عدم موافقت کے باوجود آواز حق بلند کرکے پوری نوع انسانی کے لیے یہ مثال قائم کر دی کہ اہل حق کا شیوہ یہی ہونا چاہیے کہ وہ باطل قوتوں کے مقابلے میں ڈٹ جائیں اور اپنے لہو کا نذرانہ دے کر حق کی شمع کو روشن رکھیں۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جام شہادت نوش کرکے اسلام کے روحانی نظام زندگی پر بھی آنچ نہ آنے دی اور اسلام میں لادینی نظر یات کی مزاحمت کی علامت بن گئے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسی مقام کو دیکھتے ہوئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
شاہ است حسین ،بادشاہ است حسین
دین است حسین ،دین پناہ است حسین
سر دار نہ داد، دست در دست یزید!
حقا کہ بنائے لاالہٰ است حسین
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے یہ سبق ملتا ہے کہ پیغمبر انہ طرز فکر کا وصف یہ ہے کہ ایسے بندہ کے ہاتھ میں دنیا بھر کے وسائل آجائیں یاکوئی ایسامرحلہ آجائے کہ اس کی اور قریبی رشتہ داروں کی جان بھی خطرے میں پڑجائے لیکن وہ ہمیشہ اللہ کی پسندیدہ راہ کا انتخاب کرتا ہے اور اپنی مرضی پر اللہ کی مرضی منشاء کو فوقیت دیتاہے۔

امام عالی مقام رحمة اللہ علیہ کی شہادت کے واقعہ میں ہمارے لیے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں جس میں پہلا تو یہ ہے کہ حق بات کے لیے طاغوت کا دباؤ ہر گز قبول نہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے مشن کو پھیلانے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں اپنی اولاد یا اپنی جان بھی قربان کرنا پڑے تو دریغ نہ کیا جائے۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ شہادت میں حسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ طرز فکر اور یزیدی طرز فکر ہمارے سامنے ہے۔
طرز فکر کے یہ دونوں رخ قالب بدل کر ہر دور میں سامنے آسکتے ہیں۔ظلم کاہر نظام اور ظلم کا ہر فعل یزید یت ہے جبکہ علم ومعرفت خدا ترسی،انصاف اور انسان دوستی حسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ طرز فکر ہے۔آج بھی اگر ہم اس حسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ طرز فکر کو اپنا لیں تو ہم اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو بے شمار خرابیوں سے نجات دلا سکتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments