Haider Karar

حیدر کرار

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا جاؤ تم اس قلعہ کو فتح کرو

بدھ جولائی

Haider Karar
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مقدس لشکر کو لے کر خیبر کے یہودیوں کی سر کوبی کے لئے نکلے اور خیبر پہنچ کر یہودیوں کے سب قلعوں کو محصور کر لیا۔یہودیوں نے جب اپنے آپ کو قلعوں میں محصور پایا تو مجبور ہو کر قلعوں کے اندر بیٹھ کر ہی مدافعت کرنے لگے۔یہودیوں کو اپنے ان قلعوں پر بڑا ناز تھا۔لیکن اسلامی شیروں نے ان کے تیروں اور پتھروں کی زد میں رہتے ہوئے آگے بڑھ کر قلعہ ناعم کے ساتھ اور بھی دو ایک قلعے فتح کر لئے۔
پھر قموس پر دھاوا کیا چنانچہ یہ قلعہ بھی دوتین دن میں فتح ہو گیا۔اسی طرح مصعب ،خلیج اور سلائم نام کے قلعے بھی فتح ہو گئے۔
اب قلعہ خیبر کی باری تھی ۔یہ قلعہ سب سے زیادہ مضبوط تھا۔اس کی فتح کے لئے بڑی کوشش کی گئی مگر یہ قلعہ فتح ہونے میں نہ آیا۔

جب کئی روز گزر گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خدا کی قسم!کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اپنی قوت خداداد سے قلعہ کو فتح کر اگیا۔

چنانچہ دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا جاؤ تم اس قلعہ کو فتح کرو۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جھنڈا اور لشکر لے کر قلعہ خیبر کی طرف بڑھے تو قلعہ خیبر کا مالک مرحب حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ کے مقابلہ میں آیا یہ شعر پڑھنے لگا۔
ترجمہ:۔”کہ تمام اہل خیبر کو معلو م ہے کہ میں مرحب ہوں ،کون مرحب؟وہ جو مسلح اور تجربہ کار بہادر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرحب کا یہ شعر سنا تو آپ نے جواب میں ایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:۔
”یعنی سن لو مرحب!”میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے شیر رکھا ہے جو جنگل کے شیروں کی طرح مہیب ہے۔“
اس کے بعد مرحب اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ شروع ہو گیا۔آخر حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ کی تلوار مرحب کے سر پر پہنچی اور سر کے دوٹکڑے کر کے اس کے بدن کے بھی دو ٹکڑے کر دےئے۔

سر خود سر کو کاٹا چہرہ کا ٹاحلق سے نکلی
ندائے الخدر ہر سوزبان خلق سے نکلی
مرحب خاک پر لوٹنے لگا۔مرحب کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے ساتھیوں نے قلعہ سے نکل کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ لیکن بہادر ان اسلام نے جان پر کھیل کر ایسا دھاوا کیا کہ یہودی ہمت ہار کر بھاگے اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قلعہ کے اندر پھلانگ کر پہنچ گئے اور قلعہ کے دروازے کو پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ پل بھر میں اسے اکھار کر الگ پھینک دیا یوں سب مسلمانوں قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔مسلمانوں کی اس یلغار سے یہودیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور قلعہ فتح ہو گیا۔

Your Thoughts and Comments