Hajj Baitullah Ki Taseer

حج بیت اللہ کی تاثیر

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے حج کرے اور اس میں بری باتیں اور برے کام نہ کرے تو وہ حج کرکے اسی طرح لوٹتاہے گویا کہ آج اس کی ماں نے اسے جنا۔“

جمعہ اگست

Hajj baitullah ki taseer

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے حج کرے اور اس میں بری باتیں اور برے کام نہ کرے تو وہ حج کرکے اسی طرح لوٹتاہے گویا کہ آج اس کی ماں نے اسے جنا۔“(متفق علیہ)حج کی حقیقت ہی یہی ہے کہ خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے نازل ہونے کی جگہ میں حاضری دینا،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کی دعوت پر لبیک کہنا اور اس عظیم الشان قربانی کی روح کو زندہ کرنا ،ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام جیسی برگزیدہ بندوں کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے تسلیم ورضا ،فرمانبرداری اور اطاعت کے ساتھ اپنی گردن جھکا دینا۔


اور اس بندگی کے طریقے کو اسی طرح بجالانا جس طرح وہ ہزاروں برس پہلے بجا لائے اور خدائی نوازشوں اور بخششوں سے مالا مال ہوئے یہی ملت ابراہیمی اور یہی حقیقی اسلام ہے یہی روح اور یہی باطنی احساس ہے جس کی حاجی حضرات ان برگزیدہ بندوں کے مقدس اعمال کو اپنے جسم پر سجا کر ظاہر کرتے ہیں۔

اسی ابتدائی دور کی طرح بغیر سلے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں،اپنے بدن اور سر کے بال نہ منڈواتے ہیں نہ کٹواتے ہیں ،نہ خوشبو لگاتے ہیں نہ رنگین کپڑے پہنتے ہیں‘نہ سر ڈھانپتے ہیں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ میں حاضر ہو کر پکارا۔


”میں حاضر ہوں ،اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں۔سب خوبیاں اور سب نعمتیں تیری ہی ہیں اور سلطنت تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“
آج ان تمام حاجیوں کے زبانوں پر وہی تین چار ہزار سال پہلے کے کلمات جاری ہو جاتے ہیں ۔یہ توحید کی صداان تمام مقامات اور بلند گھاٹیوں میں بلند کرتے ہیں جہاں ان دونوں نیک بندوں کے نقش قدم زمین پر پڑے ۔
پھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں صفاومروہ کے درمیان چکر لگائے آج حاجی وہاں سعی کرتے ہیں چلتے ہیں مخصوص جگہ میں دوڑتے ہیں ،دعا کرتے ہیں گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں ۔عرفات کے بڑے میدان میں جمع ہو کر اپنی گزشتہ عمر کے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے ہیں ‘خدا کے حضور گڑ گڑاتے روتے ہیں،اپنے قصور معاف کرواتے ہیں ،اور وہاں وعدہ کرتے ہیں آئندہ زندگی میں اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کا عہد کرتے ہیں اسی وقوف عرفات کو حج کا بنیادی رکن کہتے ہیں یہ تاریخی میدان دعا کے مقامات ،لاکھوں بندگان خدا کا ایک وحدت کے رنگ میں ایک لباس ،ایک ہی جذبہ میں سرشار‘ایک بے آب وگیاہ،خشک میدان ،پہاڑوں کے درمیان دعا ومغفرت کی پکار گزشتہ عمر کی کوتاہیوں اوربربادیوں پر آہ وزاری ،اپنی بدکاریوں کا اقرار ،برے بڑے شقی القب لوگوں کے دل موم کی طرح پگھلنے لگتے ہیں۔

پھر اس پاکیزگی کے بعد یہ احساس کہ یہی وہ مقام ہے جہاں ابراہیم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بہت سے انبیاء اسی حالت اور اسی صورت میں اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے۔ایسا روحانی منظر ،ایسا کیف ،ایسا اثر ،ایسا گداز ،ایسی تاثیر پیدا کرتا ہے جس کی مٹھاس روح اور جسم کی تارتا ر اور نس نس میں رچ بس جاتی ہے ۔پھر حاجی قربانی کرتے ہیں ۔
ارشاد نبوی کے مطابق اپنے باپ ابراہیم کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔
اور پھر یہ کہتے ہیں”میں نے موحدبن کر ہر طرف سے منہ موڑ کر اس کی طرف منہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔“
پھر حاجی یہ اقرار کرتاہے۔
”میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام دنیا کا پروردگار ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں اور یہی حکم مجھے ہوا ہے ،اور میں سب سے پہلے فرمانبرداری کا اقرار کرتا ہوں۔ “
حج بیت اللہ کی ان تمام کیفیات کو سمیٹ کرلانے والا یقینا ارشاد نبوی کے مطابق ایسا ہوتا ہے گویا ابھی جنم لیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حج بیت اللہ کرنے کی سعادت اور پھر اس کی برکات سے مستفیض فرمائے۔

Your Thoughts and Comments