Hakim Sanai - Article No. 3506

حکیم سنائی - تحریر نمبر 3506

ایرانیوں کے قدیم ترین صوفی شاعر اور عطار اور رومی کے پیش رو ․․․․․حکمی عبدالمجدد بن آدم سنائی

ہفتہ اکتوبر

Hakim Sanai
مسعود مفتی
ایرانیوں کے قدیم ترین صوفی شاعر اور عطار اور رومی کے پیش رو ․․․․․حکمی عبدالمجدد بن آدم سنائی․․․․․انہوں نے غزنہ میں جنم لیا تھا،اور وہ بہرام شاہ (1118تا1152 بعد از مسیح) کے دور میں حیات رہے تھے۔اوسلے (Ousley) ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ نوجوانی کے دور میں ہی عالم فاضل بن چکے تھے اور اپنے دور کے بہترین افراد میں ان کا شمار کیا جاتا تھا اور ان کی تعریف وتوصیف سر انجام دی جاتی تھی۔
ان کی تعریف ہر ایک زبان پر تھی۔صوفیانہ فلسفے میں مہارت حاصل کرنے کے علاوہ وہ ایک خیر خواہ دل کے بھی حامل تھے اور عمدہ اطوار کے بھی حامل تھے۔اس کے علاوہ وہ شاعری کے عمدہ ذوق کے بھی حامل تھے۔سنائی نے ابتدائی زندگی ہی سے دنیا اور اس کی لذتوں سے منہ موڑ لیا تھا۔


ابو المجدد بن آدم سنائی بہرام شاہ (1118تا1152 بعد از مسیح) کے دور میں حیات تھے،اور انہوں نے غالباً 1152ء میں وفات پائی تھی وہ غزنہ کے رہائشی تھے اور کچھ دیر تک انہوں نے بطور ایک شاعر غزنوی سلطانوں کے دربار میں بھی خدمات سر انجام دی تھیں اور اپنے سر پرستوں کی تعریف اور توصیف میں شاعری سر انجام دی تھی۔


انہوں نے ہدیقت (Hadiqat) لکھنے کا آغاز کیا جس کو انہوں نے 1130ء میں پایہ تکمیل کو پہنچایا۔
ہدیقت الحقائیکا و شریعت الطریقہ (Hadiqa Tul-Haqqah Wa Shariat Al-Tariqa) میں شاعر کے خدا پر آئیڈیاز ․․․․․محبت․․․․․فلسفہ․․․․․اوراستدال کے بارے میں اظہار ہوتا ہے۔وہ 10,000دوہا پر مشتمل ہے اور اس کے دس علیحدہ علیحدہ حصے ہیں۔ پہلے حصے کا 1910ء میں انگریزی میں ترجمہ پیش کیا گیا تھا۔
سنائی کا کام فارسی اور اسلامی ادب میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ اولین ہستی تھے جنہوں نے قصیدہ․․․․غزل․․․․․اور مثنوی کو صوفی ازم کے فلسفیانہ اور صوفیانہ اظہار کے لئے استعمال کیا تھا۔ان کے دیوان میں تقریباً 30,000مصرعے موجود ہیں۔
ہدیقت الحقائیکا ایرانی ادب میں صوفیانہ مثنوی کا پہلا نمونہ ہے اور اس نے مابعد آنے والے لکھاریوں پر اپنے اثرات مرتب کیے تھے بالخصوص جلال الدین رومی․․․․جنہوں نے اپنی مثنوی سنائی کے نمونے پر ترتیب دی تھی۔

1124ء میں سنائی نے اپنے آپ کو خراساں اور عراق کے بہت سے شاعروں اور مفکرین کی ہمراہی میں پایا۔
ہدیقت الحقائیکا یا سچائی/حقیقت کا باغ
اس حقائیکا میں سنائی خدا کے علم کے حصول کے لئے استدال کی بات کرتے ہیں۔خدا کی واحدنیت کی بات کرتے ہیں۔خدا کے خالق ہونے کی بات کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احسان اور کرم کے بارے میں سنائی رقم طراز ہیں:۔

”جب وہ اپنے رزق کی میز اپنی مخلوق کے سامنے سجاتا ہے وہ اپنی مخلوق کی ضرورت سے بڑھ کر اسے رزق عطا فرماتا ہے ہم سب کا رزق منجانب اللہ ہے۔خوشی اور خوش قسمتی منجانب اللہ ہے۔وہ ہر ایک کو اس کا روزانہ کا رزق فراہم کرتا ہے اور اپنی عطا کے دروازے کبھی بند نہیں کرتا خواہ کوئی اس کو ماننے والا ہو یا اس کا منکر ہو․․․․․․غریب ہو یا امیر ہو․․․․․ان کو ان کا روزانہ کا رزق عطا کیا جاتا ہے۔

”رزق اور زندگی خدا کے خزانے میں ہیں۔کیا اس نے نہیں فرمایا ہے کہ میں ہی پالن ہار ہوں․․․․․․جو کچھ چھپا ہے اور جو کچھ ظاہر ہے․․․․ سب کا جاننے والا ہوں۔میں ہی زندگی عطا کرتا ہوں۔تم جو کچھ مجھ سے مانگتے ہو میں وہ سب کچھ تمہیں عطا کرتا ہوں۔تمہارا رزق میرے ذمے ہے ۔تمہارا روزانہ کا رزق ایک تحفہ ہے جو ہر دن اپنے ہمراہ لاتا ہے۔“

Your Thoughts and Comments