Harzar Imam Hussain RA

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے محتاج بیان نہیں ۔

ہفتہ اگست

Harzar Imam Hussain RA
حافظ محمد نواز
تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے محتاج بیان نہیں ۔خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ کے عہد کے بعد جس واقعہ نے اسلام کی دینی اور سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے وہ ان کی شہادت کا عظیم سانحہ ہے۔بغیر مبالغہ کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہونگے جس قدر اس حادثہ پر بہے ہیں۔
چودہ سو سال کے اندر چودہ سو محرم گزر گئے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا رہا۔امام حسین رضی اللہ عنہ کے جسم خانچکاں سے دشت کر بلا میں جس قدر خون بہا تھا اس کے ایک ایک قطرہ کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم والم کے سینکڑوں سیلاب بہا چکی ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت
جب آپ رضی اللہ عنہ کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا اور دشمن کے سپاہی آپ رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی تلوار چلانا شروع کر دی۔

پیدل فوج پر ٹوٹ پڑے اور تن تنہا اس کے قدم اکھاڑ دئیے۔عبداللہ بن عمار جو خود اس جنگ میں شریک تھا روایت کرتا ہے کہ میں نے نیز ے سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اور ان کے بالکل قریب پہنچ گیا۔اگر میں چاہتا تو انہیں قتل کر سکتا تھا مگر یہ خیال کرکے ہٹ گیا کہ یہ گناہ اپنے سر کیوں لوں۔میں نے دیکھا دائیں بائیں ہر طرف سے ان پر حملے ہورہے ہیں لیکن وہ جس طرف مڑ جاتے دشمن کو بھگا دیتے ۔
وہ اس وقت کرتہ پہنے ہوئے اور عمامہ باندھے ہوئے تھے۔واللہ میں نے کبھی شکستہ دل کو جس کا گھر کا گھر خود اس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گیا ہوا یسا شجاع ،ثابت قدم،مطمئن اور جری نہیں دیکھا۔حالت یہ تھی کہ دائیں بائیں سے دشمن اس طرح بھاگ کھڑے ہوتے تھے کہ جس طرح شیر کو دیکھ کر بکریاں بھاگ جاتی ہیں۔دیر تک یہی حالت رہی اسی اثناء میں آپ رضی اللہ عنہ کی بہن زینب بنت فاطمہ رضی اللہ عنہ خیمہ سے باہرنکلیں۔
ان کے کانوں میں بالیاں تھیں۔وہ چلاتی تھیں۔کاش آسمان زمین پر ٹوٹ پڑے۔یہ موقعہ تھا جب کہ عمر بن سعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بالکل قریب ہو گیا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا اے عمر وکیا ابو عبداللہ تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل ہو جائیں گے۔عمر نے منہ پھیرلیا مگر اس کے رخسار اور داڑھی پر آنسو بہنے لگے۔آپ رضی اللہ عنہ کے حلق میں تیر پیوست ہو گیا۔

لڑائی کے دوران آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سخت پیاس لگی۔آپ رضی اللہ عنہ پانی پینے فرات کی طرف چلے مگر دشمن کب جانے دیتا تھا۔اچانک ایک تیر آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے حلق میں پیوست ہو گیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے تیر کھینچا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ منہ کی طرف اٹھائے تو دونوں چلو خون سے بھر گئے آپ رضی اللہ عنہ نے خون آسمان کی طرف اچھا لا اور خدا کا شکر ادا کیا۔
''الٰہی میرا شکوہ تجھی سے ہے دیکھ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے سے کیا برتاؤ ہورہا ہے۔''
شمر کو سر زنش
پھر آپ رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے تو شمر اور اس کے ساتھیوں نے یہاں بھی تعرض کیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا''اگر تم میں دین نہیں اور تم روز آخرت سے ڈرتے نہیں تو کم از کم دنیاوی شرافت پر تو قائم رہو۔میرے خیمے کو اپنے جاہلوں اور اوباشوں سے محفوظ رکھو۔
''شمر نے جواب دیا''اچھا ایسا ہی کیاجائے گا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خیمہ محفوظ رہے گا۔''
آخری تنبیہ
اب بہت دیر ہو چکی تھی۔راوی کہتا ہے کہ دشمن اگر چاہتا تو آپ رضی اللہ عنہ کو بہت پہلے قتل کر ڈالتا۔مگر یہ گناہ کوئی بھی اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔آخر شمر ذولجوش چلایا ''تمہارا برا ہو کیا انتظار کرتے ہو کیوں کام تمام نہیں کرتے ہو۔
''اب پھر ہر طرف سے نرغہ ہوا۔آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا''کیوں میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو واللہ میرے بعد کسی بندے کے قتل پر بھی خدا اتنا ناخوش نہ ہو گا جتنا میرے قتل پر نا خوش ہو گا۔''
شہادت
مگر اب وقت آچکا تھا زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ رضی اللہ عنہ کے بائیں ہاتھ کو زخمی کر دیا پھر شانے پر تلوار ماری ۔آپ رضی اللہ عنہ کمزوری سے لڑ کھڑائے لوگ پیچھے ہٹے مگر سنان بن انس نخفی نے بڑھ کر نیزہ مارا اور آپ رضی اللہ عنہ زمین پر گر پڑے اس نے ایک شخص سے کہا کہ سر کاٹ لے وہ سر کاٹنے کے لیے لپکا مگر جرات نہ ہوئی سنان بن انس نے دانت پیس کر کہا خدا تیر ے ہاتھ شل کر ڈالے !پھر جوش سے اترا آپ رضی اللہ عنہ کو ذبح کیا اور سر تن سے جدا کیا۔
جعفر بن محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قتل کے بعد دیکھا گیا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نیزے کے 33زخم اور تلوار کے 34گھاؤ تھے۔
قاتل
سنان بن انس قاتل کے دماغ میں کسی قدر فتور تھا۔قتل کے وقت اس کی عجیب حالت تھی جو شخص بھی حضرت کی لاش کے قریب آتا تھا وہ اس پر حملہ آور ہوتا تھا۔وہ ڈرتا تھاکہ کوئی دوسرا ان کا سر کاٹ کر نہ لے جائے۔
قاتل نے سر کاٹ کر خولی بن یزیدا صبحی کے حوالے کر دیا اور خود عمر بن سعد کے پاس دوڑاخیمے کے سامنے کھڑے ہو کر چلایا۔
مجھے سونے چاندی سے لاددو۔میں نے بڑا بادشاہ قتل کر دیا ہے۔
میں نے اس کو قتل کیا ہے جس کے ماں باپ سب سے افضل ہیں اور جو اپنے نسب میں سب سے اچھا ہے۔
عمر بن سعد نے اسے اندر بلایا اور بہت خفا ہو کر کہنے لگا۔
واللہ تو مجنون تھے۔پھر اپنی لکڑی سے اسے مار کر کہا۔پاگل ایسی بات کہتا ہے بخدا اگر عبداللہ بن زیاد سنتا
تو تجھے ابھی مرواڈالتا۔

Your Thoughts and Comments