Hazoor Kareem Ki Zindagi Aqwam Aalam Ke Liye Uswa Husna Hai

حضور کریم اقوام عالم کیلئے اسوئہ حسنہ ہے

اسلام نے یتیموں اور مسکینوں کی کفالت پر زور دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے ہی دنیا انقلاب سے آشنا ہوئی

hazoor kareem ki zindagi aqwam aalam ke liye uswa husna hai

محمد عبدالشکور
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کی تفصیلات ایک بحربے کراں ہیں کہ انہیں سمیٹنا محال ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجسمِ قرآن کہا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے ہی دنیا انقلاب سے آشنا ہوئی۔انسان نے اپنے آپ کو پہچانا،انسانیت کی رفعتوں کو پایا ،زندگی کا قرینہ سیکھا،مقصدِ حیات سے آگاہی حاصل کی ،ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یتیم کی حیثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا بلکہ پوری کائنات کے وہ نامور ،معرکتہ الارایتیم تھے ،جنہوں نے نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد اہل عرب اور پوری دنیا کے لئے دین،تاریخ ،تہذیب وثقافت کا دھارا بدل ڈالا،اس انقلاب نے پوری دنیا کو ایک نئی روشنی اور رہنمائی دی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اُن یتامیٰ کے لئے ایک مشعل راہ اور منارہ نور کا مقام رکھتی ہے جو یتیمی کے باعث معاشرے میں پسماندہ سمجھے جاتے ہیں ،عموماً ”یتیم “معاشرے کا ایک ایسا بے بس فردیا بچہ ہے جو باپ والدین کی محبت سے محروم ہو کر عزیز،رشتہ داروں اور معاشرے کے رحم وکرم پر ہوتا ہے ،ہمارا معاشرہ ایسے خطے میں واقع ہے جہاں خاندان کے افراد اپنی روز مرہ ضروریات کے لئے مرد پر انحصار کرتا ہے جو شوہر یا باپ کی صورت کا روبار
یا نوکری کی مدد سے خاندان کے باقی افراد کی کفالت کرتا ہے ۔


اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے ۔موت یہ نہیں دیکھتی کہ کسی کے بچے چھوٹے ہیں یا کسی خاندان کے کفیل کے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوجانے کے بعد کفالت کیسے ہوگی یہ اللہ تعالیٰ کا نظام اور کسی معاشرے کا امتحان ہے کہ ان بچوں سے معاشرہ کیا سلوک کرتا ہے ان کو قومی وملی سرمایہ خیال کرتا ہے یا کوئی محکوم ومحتاج سمجھتا ہے ،ہمارے ہی معاشرے میں ہمارے ہی نزدیک ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جہاں بے رحم عزیز رشتہ دار اور معاشرہ یتیم پر انتہائی ظلم وستم ڈھاتے ہیں ،ان کی جائیدادیں اور اثاثے ہڑپ کرنے کے درپے ہوتے ہیں ،ان کو ایک ملازم سے زیادہ کا درجہ نہیں دیتے۔
یہ بیشتر اُن شیطان صفت لوگوں کے کام ہوتے ہیں جنکے دلوں میں اللہ کا اور اپنے انجام کا خوف نہیں ہوتا۔اسلام نے جن اعمال کو بہت واضح طور پر صالح اعمال قرار دیا ہے ان میں یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنا بھی شامل ہے ۔قرآن میں ارشاد ہے کہ ”اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی۔
“(النساء۔129)
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’پس تم یتیم پر سختی نہ کرو۔“(الضحیٰ۔9)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں اور وں کے ساتھ صلہ رحمی ،عدل،پاک دامنی ،صداقت ودرگزر کا پیکر تھے وہاں مسکینوں ،بیواؤں اور خصوصاً یتیموں کے لئے سب سے بڑھ کر پیکرِ جودوسخا تھے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کے دیگر محروم المعیشت طبقات کی طرح یتیموں کے حقوق کا بھی تعین فرمایا تا کہ وہ بھی کسی معاشرتی یا معاشی تعطل کا شکار ہوئے بغیر زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ سکیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیم کی کفالت کرنیوالے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح (قریب )ساتھ ہوں گے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت اوربیچ والی انگلی سے اشارہ کیا)بخاری شریف ،اِسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ جس کسی نے یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ،تو اس کے ہاتھ کے نیچے آنے والے بالوں کے برابر نیکیاں اس کے حق میں لکھ دی جائیں گی چند مسلم ممالک عراق ،افغانستان ،فلسطین اور شام میں بھی گزشتہ چند سالوں سے جاری خانہ جنگی کے باعث یتیم بچوں کی تعداد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔

پاکستان میں بھی یتیم بچوں کے حوالے سے صورتحال مختلف نہیں گزشتہ عشرے میں آنے والی ناگہانی آفات ،بدامنی کے خلاف جنگ ،صحت عامہ کی سہولیات کی کمی اور روز مرہ حادثات کے باعث جہاں ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،وہیں لاکھوں بچے بھی اپنے خاندان کے کفیل سے محروم ہو گئے اور معاشرے کے یتیم ٹھہرے ۔اقوام متحدہ کے ادارہ ”یونیسف “کی رپورٹ کے مطابق پاکستا ن میں 42لاکھ بچے یتیم ہیں جن کی عمریں 17سال سے کم ہیں اور ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت ،صحت اور خوراک کی مناسب سہولیات میسر نہیں ۔

بدقسمتی سے روز بروز بگڑتی معاشی صورتحال ،کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندان کے لئے اس کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہو جاتا ہے ۔یہ بچے تعلیم وتربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ کئی تو بے راروی تک کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشرے کے بے رحم تھپیڑوں کی نظر ہو جاتے ہیں جہاں ان کی تعلیم وتربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے ،تعلیم،صحت ،خوراک اور ذہنی وجسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ دیگر بنیادی ضروریات سے محرومی تو ان بچوں کا مقدر ٹھہر تا ہی ہے لیکن اُس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان بچوں کو کتابیں پکڑنے کی بجائے اوزار اٹھانے پڑتے ہیں ،چائلڈ لیبر کا شکار ہو نا پڑتا ہے ۔

ایسے میں معاشرے میں چھپے مسخ چہرے انہی بچوں کو منشیات ،گداگری ،اسمگلنگ اور جنسی زیادتی جیسے گھناؤ نے جرائم میں استعمال کرتے ہیں ۔ایک بڑا مافیا بچوں کی اسمگلنگ کرتا ہے جس میں بچوں کے اعضاء تک فروخت کئے جاتے ہیں ۔جو بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں ،اُن کے لئے بچوں کے اخراجات مکمل کرنا بھی کبھی مشکل تو کبھی نا ممکن ہو جاتا ہے ۔
الخدمت فاؤنڈیشن ایسی ذمہ داری اور احساس کے ساتھ یتیم ملک بھر میں”الخدمت کفالت یتامیٰ پروگرا م“کے تحت گھروں میں یتیم بچوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ آغوش ہو مز ایسے اقامتی اداروں میں 11000یتیم بچوں کی کفالت کرہی ہے ۔
جس کا مقصد یتیم بچوں کا سہارا بن کر انہیں تعلیم وتربیت اور دیگر بنیادی ضروریات کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہیں تا کہ وہ بااعتماد اور صحت مند شہری کے طور پر ملک و ملت کی ترقی میں اہم حصہ لے سکیں ۔
آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں بچہ جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اُس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا اور یہ محرومیاں اُس بچے کے مستقبل پر بھر پور اثر انداز ہوتی ہیں ۔اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ یتیم بچہ ،جو ملک و قوم کا وارث بننے جارہا ہے ،اسے زیادہ سے زیادہ شفقت ومحبت سے نواز دیں ۔
اگر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیا گیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ اپنے معاشرے کے لئے مفید شہری ثابت ہونے کی بجائے خطرہ بن جائے گا۔
ماہِ ربیع الاول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو مکمل اور بہترین اسوہ سمجھتے ہوئے عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔اِس ضمن میں اس نقطے کو نمایاں کرنا کہ یتامیٰ کی کفالت کسی ایک فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے اور قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔یتامیٰ کی ضروریات زندگی کا خیال رکھنے سے لے کر اُن کے مال کاامین بننا ،اُسے اُن کی بہتری کیلئے استعمال کرنا اور جب وہ اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو انصا ف اور پورے حساب کتاب کے ساتھ ان کے مال انہیں لوٹا دینا صدقہ جاریہ اور بڑی نیکی کاکام ہے ۔

ربیع الاول تو ہر دل میں خواب بنتا ہے کہ وہ جاگے اور دیکھے اُس کے رشتے داروں میں ،اہل محلہ ،علاقے
اور شہر میں کوئی بے سہارا یتیم تو نہیں ۔سردی سے ٹھٹھر تا،کھڑکی سے سکول جاتے بچوں کو تکتا،کسی ور کشاپ پر کام کرتا یا کسی چوراھے پر پھو ل بیچتا کوئی ایسا معصوم جس تک ربیع الاول کے تازہ جھونکے ابھی تک نہ پہنچے ہوں ۔مسلم معاشرے کے لئے ہر یتیم بچہ رنگ،نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر اپنے ہی بچوں کی طرح عزیز ہے ۔اس یقین کے ساتھ کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی یتیم بے سہارا نہ رہے،ایک نئے اور صحت مند معاشرے کی طرف پہلا قدم معاشرے کے یتیم ہمارے بچے ،ہماری ذمہ داری۔

Your Thoughts and Comments