Hazrat Dashoor Ka Imaan Aik Ajeeb O Gharib Waqea

حضرت دعثور کا ایمان ،ایک عجیب وغریب واقعہ

واقدی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ ”حضرت عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قبیلہ بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر جمع کرلیا ہے ۔یہ مدینہ پرچاروں جانب سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں ۔

hazrat dashoor ka imaan aik ajeeb o gharib waqea

علامہ محمد ولید الاعظمی العراقی
واقدی رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ ”حضرت عبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قبیلہ بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لیے ایک لشکر جمع کرلیا ہے ۔یہ مدینہ پرچاروں جانب سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں ۔


انہیں ایک سردار حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے )
نے اکٹھا کیا ہے ۔اس بدوی سردار کا لقب ”غورث “بھی بیان کیا جا تا ہے ۔
اس منصوبے کی خبر پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کاحکم دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پا کر چار سو پچاس (450)صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جماعتِ مدینہ منورہ سے نکلی۔

اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھوڑا سواروں کی بھی معقول تعداد تھی ۔پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام راستے پر چلے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف شاہراہ چھوڑ کر ایک تنگ گھاٹی کا راستہ اختیار فرمایا۔اس گھاٹی میں سے ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”ذی القصہ “کے مقام پر پہنچے۔یہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے ایک شخص کو پکڑا ۔
یہ بنو ثعلبہ سے تعلق رکھتاتھا اور اس کا نام جبار تھا ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے اس سے پوچھا:
”تو کہاں جارہا ہے ؟“
تو اس نے جواب دیا:
”میں یثرب(مدینہ منورہ)جارہاہوں ۔“
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجمعین نے پھر اس سے پوچھا:
”یثرب میں تیرا کیا کام ہے ؟“
اس نے کہا:
”میں وہاں جا کر حالات کا جائزہ لینا چاہتا ہوں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجمعین نے دریافت کیا:
”تم نے لشکر کو دیکھا ہے یا تمہاری قوم کی کوئی تازہ ترین خبر ہے ؟“
اس نے کہا:
”مجھے کوئی خاص معلومات تو نہیں مگر اتنا ضرور پتا ہے کہ دعثوربن حارث بن محارب نے کچھ لوگوں کو تیار کررکھا ہے ۔“
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جسے سن کر اس نے اسلام قبول کرلیا ،
پھر اس نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وسلم )وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آنے کی جرأت نہیں کریں گی ۔
وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کرہی بھاگ جائیں گے ۔وہ پہاڑوں میں جا چھپیں گے ۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے راز بتاؤں گا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نو مسلم صحابہ کو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے کردیا اور انہیں ساتھ لے کر صحابہ کو پیش قدمی کا حکم دیا۔اس صحابہ نے ایک ایسا راستہ بتایا کہ پہاڑوں سے نکل کر ایک ٹیلے کے دامن میں دعثور بن حارث بن محارب کے ساتھیوں کے اوپر جا پہنچے ۔
اعرابیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع سنی تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور آس پاس کے پہاڑوں میں جاچھپے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو ان میں سے کوئی بھی وہاں نہیں تھا ۔وہ تو پہاڑوں کی بلندیوں سے چھپ کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے مگر مسلمان انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ذی امر “کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔
یہاں موسلادھار بارش ہوئی ۔بارش کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائےِ حاجت کے لیے خیموں سے دور گئے ہوئے تھے ۔بارش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھیگ گئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”وادیِ ذی امر “میں ایک آڑ دیکھ کر اس جگہ اپنے کپڑے اُتارے اور سوکھنے کے لیے درخت پر ڈال دئیے۔اس وقت تک دُھوپ نکل آئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تہبندی باندھی ہوئی تھی ۔
باقی کپڑے اُتار دئیے تھے ۔کپڑے سوکھنے کے انتظار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل تنہا تھے اور اعرابی فوج پہاڑ کی بلندی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی ۔
اعرابی لوگوں نے دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ عنہ سے جوان کے سردار تھے اور ان میں سے سب سے زیادہ شجاع بھی سمجھے جاتے تھے ،کہا:
”اے دعثور! اب سنہری موقع ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اپنے ساتھیوں سے جدا ہو گیا ہے اور سویا ہوا بھی ہے ۔
یہاں سے اگر وہ اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے پکارے گا بھی تو کوئی اس کی آواز نہ سن سکے گا۔
تم جاؤ اور اس کا کام تمام کردو۔“
حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بہت تلواروں میں سے ایک تیز ترین اور چمکدار تلوار نکالی اور دبے پاؤں پہاڑی سے اُترے اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر کھڑے ہوگئے اور تلوار لہراتے ہوئے کہا:
”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اب بتاؤ میری تلوار سے آج تجھے کون بچا سکتا ہے ؟“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھیں کھولیں اور بڑے اطمینان سے فرمایا:
”اللہ!“
اسی لمحے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے میں وہ ہتھڑامارا اور ان کی تلوار ان کے ہاتھ سے گر گئی ۔
جب کہ وہ خود بھی زمین پر گر پڑے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلوار اٹھالی اور ان کے سر پر کھڑے ہو کر فرمایا:
”اب تم بتاؤ کہ آج تمھاری جان کون بچا سکتا ہے ؟“
حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
”کوئی نہیں ۔“
اور پھر اس کے فوراً بعد کلمہِ شہادت پڑھا اور عرض کیا:
”یا رسول اللہ !( صلی اللہ علیہ وسلم )خدا کی قسم ! آج کے بعد میں کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی مخالفت نہیں کروں گا اور نہ ہی لشکر کشی کا ارادہ کروں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلوارانہی کے حوالے کردی تو وہ واپس چلنے کے لیے مڑگئے مگر پھر لپٹے اور عرض کیا:
”یا رسول اللہ!( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کی قسم آ پ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھ سے بہت بہتر اور بہت اعلیٰ ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک کتنا اچھا اور کتنا اعلیٰ ہے ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مجھے ایسا ہی ہونا چاہئے اور یہی میری شایانِ شان ہے۔

حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ سارا منظر دیکھ رہے تھے ۔جب حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ عنہ ان کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے حضر ت دعثور رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
”تمہیں کیا ہو گیا تھا؟“
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:
”خدا کی قسم! عجیب معاملہ ہوا ۔میں تلوار اٹھا کر وار کر نا ہی چاہتا تھا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک لمباتڑ نگا اور گورا چٹا شخص اچانک حائل ہو گیا اور اس نے میرے سینے پر دو ہتھڑے رسیدکیے ۔
میں اپنی پیٹھ کے بل زمین پر جاگرا اور تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔میں سمجھ گیا کہ وہ فرشتہ تھا جس نے مجھے مار گرایا ،چنانچہ میں نے بلا توقف شہادت دی کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں اور اللہ وحدہ لا شریک ہے ۔خدا کی قسم! میں اب کبھی ان کے خلاف فوج کشی نہیں کروں گا۔“
اس کے بعد حضرت دعثور بن حارث بن محارب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی قوم کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔

Your Thoughts and Comments