Hazrat Elsyee A.s

حضرت الیسع علیہ السلام

حضرت الیسع علیہ السلام اللہ تعالی کے مقدس اور برگزیدہ نبی ہیں جب بنی اسرائیل کی بت پرستی عروج پر پہنچی تو رب تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اورا ٓپ علیہ السلام نے تورات کے احکام نافذ مگر بدبخت قوم نے تورات شریف میں تحریفات اور احکام کو بدل دیا۔

Hazrat Elsyee A.s
حضرت السیع علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے؟
حضرت الیسع علیہ السلام حضرت الیاس علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہوئے جس کی تفصیل یوں ہیں:
امام ابو جعفر بن جریر طبری 310 لکھتے ہیں حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام خلیفہ بنے تھے انہوں نے بنی اسرائیل میں تورات اور اللہ تعالیٰ کے احکام قائم کئے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو قبض فرمالیا پھر کالب بن یوقنا خلیفہ بنے تھے وہ ان میں تورات اور احکام الہیٰ نافذ کرتے رہے حتیٰ کہ ان کا وصال ہوگیا،حضرت حزقیل بن بوری جو ابن العجوز تھے وہ خلیفہ بنے پھراللہ تعالیٰ نے حضرت حزقیل علیہ السلام کی بھی روح قبض کرلی۔

بنی اسرائیل میں بڑے حادثات واقع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوان کے عہد تھے وہ سب بھول گئے حتیٰ کہ انہوں نے بت نصب کردئیے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت شروع کردی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت الیاس بن نسی بن فخاص بن العیز اربن ہارون بن عمران کو نبی بنا کر بھیجا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جو نبی آتے رہے وہ انہیں تورات کے بھولے ہوئے احکامات یاد دلاتے تھے،حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کے ساتھ رہتے تھے جن کو اجان کہا جاتا تھا وہ حضرت الیاس علیہ السلام کی بات سنتاتھا اور اس کی تصدیق کرتا تھا اور حضرت الیاس علیہ السلام اس کے لئے امور چلاتے تھے جبکہ باقی تمام بنی اسرائیل نے ایک بت بنا رکھا تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے حضرت الیاس علیہ السلام ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے اور وہ اس کی کوئی بات نہیں سنتے تھے وہ صرف اپنے بادشاہ کی بات مانتے تھے شام میں بادشاہ متفرق تھے ہر بادشاہ کا ایک مخصوص علاقہ تھا جس سے وہ کھاتا تھا اس بادشاہ نے حضرت الیاس علیہ السلام سے کہا جس کی طرف آپ بلاتے ہیں میں سے باطل دیکھتا ہوں میں فلاں فلاں بنی اسرائیل کے بادشاہوں کو دیکھتا ہوں وہ بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ کھاتے پیتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں،جبکہ ان کی دنیا سے کچھ کم نہیں ہوتا،حضرت الیاس علیہ السلام نے اِ نَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ پڑھا اور آپ علیہ السلام کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اورا ٓپ علیہ السلام اسے چھوڑ کر چلے گئے اس بادشاہ نے بھی اپنے دوستوں کی طرح کیا اور بتوں کی پوجا شروع کردی،پھر آپ علیہ السلام کے بعد حضرت الیسع علیہ السلام خلیفہ بنے وہ تقدیر الہٰی کے مطابق کچھ ٹھہرے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی بارگاہ میں بلالیا پٰس ناخلف لوگ پیدا ہوتے رہے خطائیں بڑھتی گئیں اور ان کے پاس تابور جو نسل در نسل ان میں منتقل ہوتا آرہا تھا اس میں سکنیت تھی اور وہ بقیہ سامان تھا جو آل موسیٰ اورا ٓل ہارون نے چھوڑا تھا۔
دشمن سے مقابلہ ہوتا تو وہ تابوت کو آگے کرتے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں فتح دیتا تھا اور ان کے دشمن کو شکست ہوتی تھی جب ان کے کرتوت حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے احکام الٰہیہ کو چھوڑ دیا تو ان پر ایک دشمن نازل ہوا وہ اس کی طرف نکلے اور اپنے تابوت کو بھی نکالا جیسے پہلے نکالتے تھے پھر وہ اس کے ساتھ پیچھے مڑے پس اس سے قتال کیا گیا حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں سے وہ تابوت بھی چھین لیا گیا ان پر سخت مصیبت آپڑی دشمن نے انہیں روندا حتیٰ کہ وہ ان عورتوں اور بیٹوں تک پہنچ گئے ان میں ایک نبی تھے جن کا نام حضرت شمویل علیہ السلام تھا یہ وہیں جن کا ذکر اس ارشاد میں ہے۔
الم ترالی الملا من بنی اسرئیل من بعد موسیٰ اذقالو النبی لھم الخ بنی اسرائیل نے اس سے بات کی اور کہا:
ابعث لنا ملکا نقاتل فی سبیل اللہء(مقرر کردو ہمارے لئے ایک امیر تاکہ لڑائی کریں ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) بنی اسرائیل بادشاہوں کے تابع تھے اور بادشاہ انبیائے کرام علیہم السلام کے تابع تھے بادشاہ تمام کو چلاتا تھا اور نبی اس کے امیر کو قائم کرتا تھا اورا للہ تعالیٰ کی طرف سے خبریں اس کے پاس لاتا تھا جب انہوں نے یہ سب کچھ اپنے نبی کے ارشاد کے مطابق کیا تو ان کا معاملہ درست رہا پھر جب ان کے بادشاہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی کی اور انبیاء کرام علیہم السلام کے احکام چھوڑدئیے تو ان کا معاملہ بگڑ گیا،بادشاہوں کی جب لوگون نے گمراہی پر متابعت شروع کی تو انہوں نے رسولوں کا حکم چھوڑدیا کچھ کی وہ تکذیب کرتے تھے ان کا کوئی بھی حکم تسلیم نہیں کرتے تھے اور کچھ انبیاء کرام علیہم السلام کو انہوں نے قتل کیا تھا پس ان پر یہ مصیبت قائم رہی حتیٰ کہ انہوں نے اپنے نبی سے کہاابعث لنا ملکا دی سبیل اللہ“اس نبی نے فرمایا تمہارے اندر وفا کا جذبہ نہیں ہے نہ تم میں کوئی سچائی ہے اور نہ تمہیں جہاد سے رغبت انہوں نے کہا ہم جہاد سے ڈرتے ہیں اور جہاد سے ہم دلچسپی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے شہروں سے روکا گیا ہمارے دشمن ہم پر غالب ہیں وہ ہمیں روندرہے ہیں جب حدیہ ہوگئی ہے تو ہم پر جہاد کرنا ضروری ہے ہم اپنے دشمن سے جہاد کرنے میں اپنے رب عزوجل کی اطاعت کریں گے اور اپنے بیٹوں عورتوں اور بچوں کی حفاظت کریں گے جب لوگوں نے یہ کہا تو حضرت شمویل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان میں بادشاہ بھیج۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سینگ کو دیکھ جس میں تیل ہے اور تیرے گھر میں ہے پس جب تیرے پاس کوئی شخص آئے اور یہ تیل اس سینگ میں جوش مارنے لگے تو وہی شخص بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا پس وہ اس سینگ سے اپنے سر پر تیل لگائے گا اور وہ ان پر حکومت کرے گا،حضرت شمویل علیہ السلام اس کی آمد کا انتظار کرنے لگے،طالوت چمڑوں کی دباغت کا کام کرتے تھے اور وہ بنیا مین بن یعقوب کی اولاد سے تھا اور بنیامین کا قبیلہ ایسا تھا کہ اس میں نبوت نہ تھی اورنہ بادشاہ ہی تھی،طالوت اپنے گم شدہ جانوروں کی تلاش میں نکلا جبکہ اس کے ساتھ اس کا غلام بھی تھا وہ دونوں نبی علیہ السلام کے گھر کے قریب سے گزرے ،غلام نے طالوت سے کہا اگر آپ اس نبی کے پاس جائیں اور اس سے ہم اپنے جانورو کے بارے میں پوچھیں اورراہنمائی حاصل کریں اور وہ ہمارے لیے خیر کی تبلیغ کریں تو بہتر ہوگا۔
طالوت نے کہا:جوتو نے کہا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے وہ دونوں اس نبی کے پاس گئے جب وہ اپنے جانور کے بارے بتارہے تھے اور ان سے دعا کی التجاء کررہے تھے تو سینگ کا تیل ابلنے گا،نبی علیہ السلام اس کی طرف اٹھے اور اسے اٹھالیا پھر طالوت سے کہا اپنا سر قریب کر اس نے قریب کیا اس سینگ سے تیل لگایا پھر فرمایا تو نبی اسرائیل کا بادشاہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے ان کا بادشاہ بنادوں،طالوت کا نام سریانی زبان میں شاول تھا اس کا شجرہ نسب اس طرح تھا،شاول بن قیس بن اشال بن ضرار بن یحرب بن افیح بن انس بن یامین بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔
“وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نبی نے طالوت کو لوگوں کا بادشاہ بنادیا۔بنی اسرائیل کے معتبر افراد اپنے نبی علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا طالوت کی شان کیا ہے تم ہم پر اسے بادشاہ بناتے ہو نہ تو اس کا تعلق بیت نبوت سے اور نہ بیت مملکت سے ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ نبوت اور حکومت آل لاویٰ،آل یہوذامیں ہے اس نے انہیں فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور علم وجسم کے اعتبار سے اسے زیادتی بخشی ہے۔(تفسیر طبری:ج،2 ص712 تا719 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

Your Thoughts and Comments