Hazrat Fatima Bint E Asad RA

حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حیدر کرار،شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ تھیں۔

منگل فروری

Hazrat Fatima Bint e Asad RA
عنایت عارف
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حیدر کرار،شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ کے والد کا نام اسد بن ہاشم تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے شادی ہوئی۔ایک بزرگ موٴرخ نے لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن سے ہاشمی لڑکا پیدا ہوا۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے۔اور جناب ابو طالب رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کا فرض انجام دینا شروع کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی حقیقی چچی تھیں۔انتہائی محبت اور لطف وکرم کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے یتیم بھتیجے کو آرام اور راحت پہنچانے کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور دونوں ہاتھوں سے اللہ کی رحمت سمیٹ کر تاریخ میں حیات جاوید حاصل کی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار خودان کی شفقت اور محبت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کوئی شخص میرے ساتھ شفقت اور مہربانی سے پیش نہیں آیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پیرانہ سالی میں رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت فرمائی اور مشرف بہ اسلام ہوئیں۔
دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ میں ہجرت کا شرف حاصل کیا۔جب جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوا تو اس وقت آپ زندہ تھیں اور بہت بوڑھی ہو چکی تھیں۔نکاح کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی والدہ مکرمہ سے فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نور نظر حضرت بتول رضی اللہ عنہا ان کی بہو بن کر تشریف لا رہی ہیں۔
میں پانی بھروں گا اور باہر کا کام کروں گا اور وہ چکی پسینے اور آٹا گوندھنے میں آپ کی مدد کریں گی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں وفات پائی ۔یہ وہ مبارک ہستی تھیں جنہیں کفن کے لئے سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض عطا فرمائی اور جب قبر تیار ہو چکی تھی تو رحمة للعالمین خود قبر میں اتر کر لیٹ گئے لوگ سخت حیران ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابو طالب رضی اللہ عنہ کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا مجھ پر سب سے زیادہ شفقت فرماتی تھیں ۔
انہوں نے میری بڑی خدمت کی ہے میں نے اپنی قمیض انہیں اس لئے پہنادی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ جنتی لباس عطا فرمائے اور قبر میں اس لئے لیٹ گیا تھا کہ یہ بزرگ ہستی ہر قسم کے عذاب سے حفاظت میں رہے۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد کی زیارت کے لئے ان کے ہاں جایا کرتے تھے اور عام طور پر ان کے گھر میں آرام فرمایا کرتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ وہ نہایت نیک،پاکباز اور صالح بی بی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھنے جایا کرتے تھے ۔وہ جب تک زندہ رہیں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ماں سمجھ کر انتہائی عزت واحترام کے ساتھ پیش آتے تھے اور ان کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد کے ہاں چار بیٹے ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ،طالب رضی اللہ عنہ اور عقیل رضی اللہ عنہ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ بہت زیادہ مشہور ہیں۔

Your Thoughts and Comments