Hazrat Ibn Al-Khattab Razi Allah Anhu

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اللہ سے یہ دعا کی اے اللہ!عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وجود سے اسلام کوعزت دے۔

بدھ جولائی

Hazrat Ibn al-Khattab Razi allah Anhu

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن اللہ سے یہ دعا کی اے اللہ!عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وجود سے اسلام کوعزت دے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاہو اور قبول نہ ہو۔چنانچہ ادھر تو یہ دعا ہوئی اور ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کر دینے کے ارادے سے گھر سے نکلے۔راستے میں آپ رضی اللہ عنہ کو ایک شخص ملا جس نے پوچھا کہ عمر رضی اللہ عنہ !تم کہاں جاتے ہو۔


کہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے۔اس نے کہا بھلا اگر تم نے ایسا کیا تو تم بنی ہاشم سے کس طرح امن میں رہ سکتے ہو؟اور پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔عمر رضی اللہ عنہ!تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید رضی اللہ عنہ بن زید دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس شخص کی یہ گفتگو سن کر غصہ میں تھر تھرکا نپنے لگے اور بولے اچھا تو میں پہلے ان ہی دونوں کا کام تمام کرتا ہوں۔

یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن کے گھر گئے اور تھوڑی دیر ڈیوڑھی میں کھڑے ہو کر اپنی بہن کی آواز کو سنا۔پھر دفعتہ گھر کے اندر چلے گئے اور بہن سے کہنے لگے کہ یہ کیسی آواز تھی جو اس وقت میں نے تم دونوں سے سنی۔اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن کے گھر میں ایک شخص بیٹھے ان کی بہن اور بہنوئی کی سورة طٰہٰ پڑھا رہے تھے ۔انہوں نے جونہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آہٹ پائی فوراً مکان کے ایک گوشہ میں چھپ گئے۔

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غضبناک لہجہ میں یہ الفاظ کہے تو آپ رضی اللہ عنہ کے بہنوئی حضرت سعیدرضی اللہ عنہ کہنے لگے عمر رضی اللہ عنہ!بھلا اگر ہم حق پر ہوں تو بھی آپ رضی اللہ عنہ ہمیں برا سمجھیں گے۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اور زیادہ غصہ آیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بہنوئی کو بڑے زور سے دھکادیا اور دوچار گھونسے بھی ماردےئے۔
آپ رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہ اپنے شوہر کی یہ کیفیت دیکھ کر بڑی بے تابی سے اٹھیں اور بھائی کو خاوند سے علیحدہ کیا۔مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی مار کر اپنے دل کا غبار خوب نکالا یہاں تک کہ ان کا چہرہ لہو لہان ہو گیا۔جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں سے علیحدہ ہوئے تو بہن سے کہا لاؤ مجھے وہ صحیفہ تو دکھاؤ جسے تم پڑھ رہی تھیں ۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی اسے پاک لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں پہلے آپ رضی اللہ عنہ پاک ہو جائیں ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُٹھے اور بہن کی ہدایت کے مطابق وضو کیا اور وضو کرکے اس صحیفہ کوہاتھ میں لیا اور اس میں لکھی ہوئی آیات پڑھنا شروع کیں۔
کلام حق کی تاثیر نے دل کی دنیا بدل دی اور آپ ر ضی اللہ عنہ نے اسی وقت بچشم تر فرمایا !مجھے فوراً محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے چلو۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی گفتگو سن کر ان صحابی رضی اللہ عنہ کو جو آپ رضی اللہ عنہ کے بہن اور بہنوئی کو تعلیم دے رہے تھے اطمینان ہوا اور اندر سے نکل کر کہا عمر رضی اللہ عنہ!تمہیں بشارت ہو کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ آپ جناب الٰہی میں یوں دعا کرتے ہیں ۔
”الٰہی !عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وجود سے اسلام کو عز ت دے“
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس حاضر ہونے کو چلے۔
دروازہ پر دیکھتے ہیں کہ حضرت حمزہ اور چند آدمی کھڑے ہیں ۔ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا توڈر گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دہشت ان پر طاری ہو گئی۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا خداتعالیٰ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے اسلام کی ہدایت کرے گا۔
اور اگر خدا نے اس کے علاوہ کوئی دوسری بات چاہی ہے تو عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالنا ہم پر کوئی مشکل نہیں ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور ان کے کپڑے کو پکڑ کر فرمایاعمر رضی اللہ عنہ!کیا تم اب بھی باز نہ آؤ گے؟اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی دعا مانگی اور فرمایا،الٰہی!عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کے وجود سے اسلام کو عزت دے۔ جوں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کلمات نکلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے ساختہ پکاراٹھے۔
اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد انک رسول اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اعلان حق سنتے ہی موجود مسلمانوں نے سامنے زور سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا کہ تمام مکہ والوں نے سن لیا۔

Your Thoughts and Comments