Hazrat Umer Al Farooq RA

حضرت عمر الفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے کئی رُکاوٹوں ،مشکلات اور مصائب کا سامنا رہا ۔

بدھ ستمبر

Hazrat Umer Al Farooq RA
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے کئی رُکاوٹوں ،مشکلات اور مصائب کا سامنا رہا ۔ نبوت کے ابتدائی برسوں میں مکہ مکرمکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی ۔مکہ میں آباد مختلف قبائل کے سردار اور دیگر بارسوخ افراد مسلمانوں پر بہت سختیاں کرتے تھے ۔ ان دنوں میں اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی یااللہ تو عمر سے اسلام کو تقویت عطا فرما۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوشہسواری میں بہت زیادہ مہارت حاصل تھی ، اسی زمانے میں لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ قریش میں صرف سترہ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں ممتاز تھے ۔ عبرانی بھی جانتے تھے ان فنون سے فراغت کے بعد انہوں نے تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔

ان کی تجربہ کاری اور غیر معمولی علمیت وفراست کی وجہ سے قریش نے سفارت کا عہدہ ان کو تفویض کردیا ۔


حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب کی زندگی کا ستائیسواں سال تھا کہ عرب میں آفتاب رسالت طلوع ہوا اور اسلام کی صدا بلند ہوئی ۔
عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے میں سب سے پہلے سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زید اسلام لائے ۔ سعیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کانکاح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا تھا اوروہ بھی مسلمان ہوگئی تھیں ۔
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ اس دور میں حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار پیغمبر اسلام کے سخت مخالفین میں ہوتا تھا۔
ایک روز عمر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردینے کے ارادے سے گھر سے نکلے ۔راستے میں کسی نے کہا کہ پہلے اپنے خاندان کی خبر تولو، تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں ۔
یہ سن کر عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید غصے کے عالم میں اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں انہیں بہن نے قرآن کی چند آیات پڑھنے کے لیے دیں، ان آیات کو پڑھتے ہی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل کی دنیابدل گئی اور اپنی بہن کے گھر سے نکل کرسیدھے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں دین اسلام میں شمولیت کاشرف عطا کیا جائے۔
یہ سن616 عیسوی کا واقعہ ہے۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے پر اسلام کی تاریخ کا نیا دور شروع ہوا۔ انہوں نے مسلمانوں کی جماعت ساتھ لے کر کعبے میں اعلانیہ نماز ادا کی اور کسی کو مزاحمت کی جرأت نہ ہوئی ۔
پہلی صدی ہجری بمطابق622ء سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جو معرکے پیش آئے ، غیر قوموں سے جو معاہدات ہوئے، وقتاً فوقتاً جو انتظامات وا حکامات جاری کیے گئے ، اشاعت اسلام کے لیے جو تدبیریں اختیار کی گئیں ، اُن میں سے شاید ایک واقعہ بھی ایسا نہ ہو جو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرکت کے بغیر انجام پایا ہو ۔

خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق کے انتقال کے بعد حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری ملی ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود کا رقبہ تقریباًساڑھے بائیس لاکھ مربّع میل وسیع ہوگیا تھا۔ اس رقبے کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا رقبہ 3لاکھ مربع میل ہے۔ ان میں شام ، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان ،عراق عجم، آرمینیا ، آذر بائیجان ، فارس، کرمان ، خراسان اور مکر ان شامل تھے ۔

حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بغیر کسی مثال اور نمونے کے ایک ایسی فلاحی حکومت کی بنیاد ڈالی جس کااصل اصول مجلس شوریٰ کا انعقاد تھا ۔
حضرت عمر کا دور اُمت مسلمہ اور اسلامی ریاست کے لیے ایک سنہری دور کہلاتا ہے ۔ دنیا میں کسی حکمران نے اپنی مملکت اور رعایاکے لیے وہ کارہائے نمایاں انجام نہیں دیے جو چشم فلک نے حضرت عمر کے ذریعے مشاہدہ کیے۔
دور فاروقی مملکت میں انصاف ، خوشحالی، ترقی اور ریاست اسلامی میں شاندار توسیع کا دور تھا ۔
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت میں لوگ اعلانیہ اپنے حقوق کا اظہار کرتے ۔حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ خود کو عام آدمیوں کے برابر سمجھتے اور کسی قانون سے مستثنیٰ نہ تھے ۔ ایک موقع پر تقریر میں فرمایا ” صاحبو! مجھ پر تم لوگوں کے کئی حقوق ہیں جن کا تمہیں مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے ۔
آپ خیال رکھیں کہ میں خراج اور مال غنیمت بے جا طور پر جمع نہ کروں ، میرے ہاتھ سے خراج اور مال غنیمت بے جاطور پر صرف نہ ہونے پائیں ۔پھر یہ کہ میں تمہارے وظیفے بڑھاؤں،سرحدوں کو محفوظ رکھوں اور تمہیں خطرات میں نہ ڈالوں ۔
کسی حکومت کے عدل ومساوات کو جانچنے کا ایک بڑامعیار یہ ہے کہ ملک میں آباد اقلیتوں کے ساتھ اس کا طرز عمل کیا ہے ، اس معیار سے عہد فاروقی عدل ومساوات کا ایک بے مثال نمونہ تھا․․․
کسی قوم کے حقوق تین چیزوں سے متعلق ہوئے ہیں، جان ، مال، اور مذہب ۔
دیگرحقوق انہی کے تحت آتے ہیں۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام مفتوحہ قوموں کے یہ تین بنیادی حقوق عطاکیے ۔
اس اقتدارواختیار کے باوجود جو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل تھا، انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی رائے عامہ کے ترجمانوں اور نمائندوں سے مشورہ لیے بغیر قدم نہیں اٹھایا۔ اسلام کا نظام حکومت شوریٰ پر ہے ۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی بنیاد پر خلافت اسلامیہ کو قائم کیا۔
اس نظام میں کوئی اہم کام بغیر اہل الرائے صحابہ کے مشورے کے انجام نہ پاتا تھا۔
روزانہ کے پیش آنے والے مسائل کے فیصلے کے لیے اہل الرائے صحابہ کی مجلس شوریٰ تھی ، اس کے ممتاز ارکان میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن ابی طالب ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف ، حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جیل ، حضرت ابیرضی اللہ تعالیٰ عنہ بن کعب، حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت شامل تھے ۔
اس کے علاوہ مہمات کے امور کے لیے ممتاز مہاجرین وانصار کی مجلس ہوتی تھی ،ہر مسلمان کو آزادی رائے اور حکومت پر نکتہ چینی کرنے کا پورا حق حاصل تھا۔ عام مسلمان برسرعام حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ٹوک دیاکرتے تھے اور سوال وجواب کرتے تھے ۔
حضرت عمر نے اپنی حیثیت صرف ایک متولی اور شیرازہ بندکی رکھی تھی ۔ اور اس کو عملاًمختلف مواقع پر واضع کیا۔
ایک موقعے پر فرمایا ، تمہارے مال میں مجھ کو صرف اسی قدر حق ہے جس قدر ایک یتیم کے مال کے متولی کا ہوتا ہے ۔
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت المال یعنی خزانہ حکومت کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں سمجھتے تھے ، ایک ایک پائی حساب رکھتے تھے ۔ اور ایک ایک پائی صرف ضروریات مسلمین پر خرچ کرتے تھے ۔ نہ اس خطیررقم سے انہوں نے اپنے لیے سامان عیش وراحت فراہم کیا اور نہ کسی اور کو اس کی اجازت دی۔
بلکہ اگر کسی کو عیش وتنعم کی زندگی بسر کرتے دیکھا تو سخت باز پرُس کی اور بعض مواقع پر منصب سے بھی معزول کردیا۔
اسلامی تاریخ میں حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے 20 ھ میں مکہ، مدینہ ، شام، جزیرہ، بصرہ ، کوفہ، مصر اور فلسطین ، آٹھ صوبوں میں تقسیم کیے۔ پھر فتوحات کے ساتھ ساتھ فارس ، خوزستان ، کرمان وغیرہ مزید صوبے قائم ہوئے ۔
ہر صوبوں میں حاکم صوبہ (گورنر) کاتب یعنی میرمنشی ، کاتب دیوان یعنی دفتر فوج کا میر منشی ، صاحب الخراج یعنی کلکٹر ،صاحب حداث یعنی افسرپولیس ، صاحب بیت المال یعنی افسر خزانہ قاضی یعنی جج مقرر کیے ۔باوجود یہ کہ اُس وقت عرب کا تمدنّ ابتدائی حالت میں تھا اور سلسلہ حکومت کے آغاز کو چند ہی برس گزرے تھے تاہم حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سے جدا گانہ محکمے قائم کیے اور ایسی اصطلاحات نافذ کیں جو آج تک فلاحی ریاست کے بنیادی ستون قراردی جاتی ہیں ۔

اُنہوں نے مملکت کے طول عرض میں نہریں بنانے ،بند باندھنے اور تالاب تیار کرانے کا ایک بڑا محکمہ قائم کیا۔ محکمہ قضا (عدالتی نظام ) بھی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت وجود میں آیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقاعدہ محکمہ پولیس اور جیل خانے قائم کیے ۔فوجی قلعے اور بار کیں تعمیرکرائیں ۔ فوجی دفتر ترتیب دیا اور رضا کار سپاہیوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
دفتر مال قائم کیا اور مردم شماری کرائی ۔ مسافروں کے لیے مکانات بنوائے اور مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے ۔ آپ نے بے آسرابچوں ، مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے روزینے اور معلمّوں اور مدرسوں کے مشاہرے مقرر کیے ۔
امیر المومنین خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنے لیے کوئی دربار بنایا تھا نہ ہی غلام گردشوں سے آراستہ محلات تعمیر کروائے ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لوگوں کے درمیان کوئی فاصلہ رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ کسی کوکوئی حاجت ہو یا فریاد کرنی ہو تو حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازے اسے ہمیشہ کھلے ملتے ۔
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جلیل القدر صحابی پر ایک روزدوران نماز ابولولونامی شخص نے حملہ کردیا۔ تین دن زخمی حالت میں رہ کر آپ نے یکم محرم الحرام 24ھ کو 63 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تدفین حضرت عائشہ کے ہجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں ہوئی ۔

Your Thoughts and Comments