Islam Aman Ka Paigham

اسلام امن کا پیغام

دین اسلام کا سورج طلوح ہونے سے قبل دنیا ئے عرب سیاہ اندھیرے میں گھری ہوئی تھی ہر طرف اندھیراہی اندھیراتھا کہیں بھی امن نام کا کوئی دیا جلتا ہوا نہ دکھائی دیتا تھا۔

جمعہ ستمبر

Islam Aman Ka Paigham
خالد حسین رضا
دین اسلام کا سورج طلوح ہونے سے قبل دنیا ئے عرب سیاہ اندھیرے میں گھری ہوئی تھی ہر طرف اندھیراہی اندھیراتھا کہیں بھی امن نام کا کوئی دیا جلتا ہوا نہ دکھائی دیتا تھا۔ہر جانب ظلم وبربریت کا دورتھا انسانیت کو اتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا تھا کہ کبھی رنگ ونسل کے نام پر کبھی زبان وتہذیب کے نام پر اور کہیں قومیت کی آڑ میں انسانیت کو اس طرح نیست ونا بود کر دیا گیا تھا کہ انسانیت خود چیخ پڑی تھی۔
یہاں تک اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا جو ایک واضح مثال ہے سیاہ اندھیرے کی،اور عورتوں کو اپنی پاؤں کی جوتی تصور کرتے تھے بلکہ پوری دنیا میں بدامنی اور بے چینی کا یہ عالم تھا کہ انسانوں کو جانوروں سے بھی بد تر سمجھا جانے لگا تھا،بعض امراء اپنے سے غریب کو اپنا غلام اور زرخرید جانور سمجھتے تھے۔

اور ان سے ایسا سلوک کیا جاتا تھا کہ انسانیت ہی شرما جاتی تھی۔

صرف اہل عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیاتہذیبی ،اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کا شکار تھی۔
اس کی ایک وجہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں اپنی مرضی سے اپنے کام آنے والی تبدیلیاں کی تھی۔دین کو علمائے یہود و نصاریٰ نے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور ہر شخص میں مادیت کو پروان ملتا چلا گیا۔عرب کے صحراؤں میں انسان نما جانور بستے تھے یہ لوگ اس حد تک جہالت میں مبتلا ہو چکے تھے کہ انہیں خونی رشتوں کی کوئی پاسداری کا خیال نہیں ہوتا تھا اور ان کے دلوں میں تھوڑا سا بھی خوف خدا اور انسانیت نامی چیز نہیں ہوتی تھی۔
اس زمانے میں بھی چند ایک مذہبی پیشو ا اور اخلاق کے علمبرداروں نے اپنی سی کوشش کو اور اپنے خطبوں میں امن اور محبت کے گیت گائے لیکن اُن کی ان کاوشوں سے کچھ حاصل نہ ہوا کیوں کہ وہ خود اپنے کہے پر عمل نہیں کرتے تھے۔
جب دین اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے دین کا درس دینا شروع کیا اور دنیا کہ سامنے ایک مکمل ضابطہ اخلاق اور مکمل نظام زندگی اور ابدی دین فطرت پیش کیا جس کا نام اسلام تھا جس کا مطلب ہی امن وسلامتی ہے۔
دین اسلام کے درس کے بعد سسکتی ہو انسانیت کی ڈھارس بندہ گئی تشنہ کاموں کی سیرابی کا انتظام ہو گیا۔دین اسلام نے مضبوط اور باعمل بنیادوں پر امن وسلامتی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔یہ مقام دنیا کہ اور کسی بھی مذہب کو نہیں ملا کہ سوائے امن و سلامتی،محبت اور عزت کے علاوہ اور کوئی بات ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔دین اسلام نے سارے مذاہب کی خوبیوں کو اپنے اندر سمو لیا۔

اللہ پاک نے قرآن شریف میں آیت نازل فرمادی(ترجمہ)آج میں نے تمہارے لیے تمہارادین مکمل کر دیا تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام دین کے طور پر پسند کیا:اسلام سے قبل انسانیت کا وہ احترام جو دین اسلام نے دیا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔انسانی جان کی قیمت ایک جانور سے بھی کم تھی لیکن دین اسلام نے وہ احترام بخشا کہ رب کائنات نے قرآن پاک میں فرمادیا:اسی لئے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے یہ حکم جاری کر دیا کہ جو شخص کسی انسانی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمینی فساد بر پا کرنے کے علاوہ کسی اور سبب سے قتل کرے گویا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا اورجس نے کسی انسانی جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو نئی زندگی بخشی۔

دین اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت(حرم شریف)مکہ مکرمہ کو امن کا گہوارہ قرار دیا گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:اس کی حدود میں داخل ہونے والا ہر شخص امان میں ہو گا۔اسلام امن وسلامتی کا علمبرداراور محبت وخیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے جس میں ظلم وتشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے،دہشت اور خوف کا کوئی تصور نہیں ہے،رنگ ونسل اور ذات پات کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جواز نہیں ہے۔
اسلام عدل وسچائی اور امن پسندی کا دین ہے۔یہ دین اسلام کی تعلیمات کا ہی فیضان ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے اور سکھائے گئے عمل سے پوری دنیا میں اس مذہب کو امن وسلامتی والا مذہب گردانا جاتا ہے۔لیکن چند مٹھی بھر ضمیر فروش سر پسند عناصر اپنی دنیا وی لالچ اور کینہ پر وری کی وجہ سے دنیا میں اس مذہب کو اسلام مخالف قوتوں کے بہکاوے میں آکر بد نام کر رہے ہیں ورنہ اسلام تو جانوروں پر بھی ظلم کی سختی سے ممانعت کرتا ہے ۔
غرض یہ کہ اسلام کا وجود و ظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور انتہائی قابل قدردین ہے جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔
پچھلی چند دہائیوں سے دہشت گردی جو کہ دور حاضر کا سب سے بڑا پریشان کن مسئلہ ہے جس کا زیادہ تر مسلمان ممالک ہی سامنا کررہے ہیں،اور اس وقت کشمیر میں جو ہندوستان دہشت گردی کی دکانیں کھولی ہیں اور ظلم ،بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے وہ سب ساری دنیا کے سامنے ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک ایک ہو کر پوری دنیا کو یہ بتادیں کہ دین اسلام امن وسلامتی والا مذہب ہے۔

Your Thoughts and Comments